{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifckztmud5fc5ok6g7ul232nfrfpcpn66eqixnclt7pyzekmdipli",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mife4dxybyt2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiddcgfyc6hqjjganagnetajf4ogz3dbnddopshks3if2fg526xoh4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 146838
},
"path": "/node/185293",
"publishedAt": "2026-03-31T06:40:12.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"ایران",
"ایران اسرائیل کشیدگی",
"طورخم",
"اظہار اللہ",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے افغانستان کے بارے میں اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث ایران کے چاہ بہار اور بندر عباس بندرگاہوں کے راستے ہونے والی درآمدات میں کمی آئی ہے، تاہم فی الحال افغانستان کی مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم ہے۔**\n\nرپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں بعض غذائی اور غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔\n\nاگرچہ افغانستان اور ایران کی سرحد سے سپلائی مکمل بند نہیں ہوئی، لیکن اس میں واضح کمی آئی ہے۔\n\nاس کمی کو وسطی ایشیائی ممالک سے ہونے والی درآمدات نے کسی حد تک پورا کر دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں استحکام برقرار ہے۔\n\nورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ ایران افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور افغانستان کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 40 فیصد ایران سے آتا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث ایران کی سرحد سے آنے والی درآمدات کم ہوئی ہیں، لیکن ترکمانستان کے راستے تورغندی سرحد پر تجارت بدستور جاری ہے۔\n\nاسی سرحد سے گندم اور تیل بھی درآمد کیا جاتا ہے، جو مارکیٹ کو سہارا دے رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مغربی سرحد پر مسلسل بندش آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔\n\nیہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستے تقریباً پانچ ماہ سے بند ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت مکمل طور پر معطل ہے۔\n\nپاکستان اکنامک سروے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔\n\nورلڈ بینک کے مطابق پاکستان دنیا میں افغانستان سے اشیا درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور افغانستان کی 27 فیصد برآمدات پاکستان کو بھیجی جاتی ہیں۔\n\nرپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ اس ہفتے ڈالر کے مقابلے میں افغان کرنسی مستحکم رہی، جس نے بھی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں کردار ادا کیا۔\n\n**کیا مہنگا ہوا اور کیا سستا؟**\n\nرپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے کے مقابلے میں ٹماٹر اور آلو کی قیمتوں میں بالترتیب 7.6 فیصد اور 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ ایران کی سرحد سے سپلائی میں کمی ہے۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی پیداوار مارکیٹ میں آتے ہی ان قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔\n\nپیاز کی برآمدات میں کمی کے باعث مارکیٹ میں اس کا سٹاک زیادہ موجود ہے، اسی لیے اس کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔\n\nمزید یہ کہ تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بھی اس ہفتے کمی ہوئی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔\n\nرپورٹ کے مطابق چاول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ پاکستان سے برآمدات کی بندش ہے۔\n\n**سپلائی لائن متاثر ہونے کے باوجود مارکیٹ مستحکم کیوں؟**\n\nافغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت معطل ہے اور ایران سے سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ نظر نہیں آتا۔\n\nمعاشی ماہرین اس کا سبب افغانستان کی مجموعی غیر مستحکم معیشت کو قرار دیتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nافغانستان کے ماہر معاشیات اور طالبان دور سے پہلے ’دا افغانستان بینک‘ کے ڈپٹی گورنر رہ چکے خان افضل ہڈاوال کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی اقتصادی نمو منفی ہو گئی تھی اور جی ڈی پی میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔\n\n’ملک ڈیفلیشن کا شکار ہوا، یعنی سپلائی زیادہ اور قوتِ خرید کم ہوگئی، جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتیں نیچے آگئیں۔‘\n\nخان افضل کے مطابق نیٹو افواج، بین الاقوامی اداروں اور سفارتی مشنز کے انخلا کے بعد ملکی ڈیمانڈ میں شدید کمی آئی کیونکہ خریداری کرنے والے بڑے طبقے ملک چھوڑ گئے۔\n\n’یوں سپلائی زیادہ اور خریدار کم ہونے کے باعث مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم رہی۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ افغانستان کی معیشت کا 30 فیصد زرعی شعبے پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے ساتھ سرحد بند ہونے سے مقامی زرعی اجناس کی بڑی مقدار افغانستان کی اپنی مارکیٹ میں آگئی، جس نے بھی قیمتوں کو مستحکم رکھا۔\n\nخان افضل کے مطابق افغان کرنسی کے مستحکم رہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ بین الاقوامی برادری کے انخلا کے بعد افغانی کی طلب کم ہوگئی اور مارکیٹ میں سپلائی زیادہ رہی جبکہ طالبان نے دیگر کرنسیوں میں تجارت پر بھی پابندی عائد کی۔\n\nپشاور یونیورسٹی کے اقتصادیات کے استاد پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باوجود افغانستان کی مارکیٹ کے مستحکم رہنے کی کئی وجوہات ہیں۔\n\nان کے مطابق درآمدات میں کمی کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ڈالر کی مانگ کم ہو گئی ہے۔ ڈالر کی کم گردش کے باعث افغانی کرنسی مستحکم رہی۔\n\nڈاکٹر ذلاکت کے مطابق قوت خرید میں کمی کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوا کیونکہ ڈیمانڈ کم ہے تو قیمتیں بھی بڑھ نہیں سکتیں۔\n\n’اس کے علاوہ طالبان نے ڈالر کی سمگلنگ پر پابندیاں سخت کی ہیں جس سے افغانی مزید مستحکم ہوا۔‘\n\nانہوں نے یہ بھی بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اب بھی مختلف بین الاقوامی تنظیمیں ڈالر کی صورت میں امداد فراہم کرتی ہیں، جس سے ملکی مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی میں اضافہ ہوتا ہے اور افغانی اپنی قدر برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔\n\nافغانستان\n\nایران\n\nایران اسرائیل کشیدگی\n\nطورخم\n\nافغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت معطل ہے اور ایران سے سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ نظر نہیں آتا۔\n\nاظہار اللہ\n\nمنگل, مارچ 31, 2026 - 11:45\n\nMain image:\n\n> <p>چار مارچ، 2026 کو قندھار میں ایک دکان پر لوگ نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کے ساتھ مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں: افغانستان\n\nافغانستان کے دیہی علاقوں میں ریڈیو لڑکیوں کی تدریس کا متبادل\n\nپاکستانی تجارتی راستے نظر انداز کرکے طالبان کی چابہار میں سرمایہ کاری\n\nافغانستان سے یورپ کے لیے برآمدات: لاپس لازولی راہداری کیا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nایران جنگ: اگر تجارتی راستے متاثر تو افغان مارکیٹ مستحکم کیسے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران جنگ: اگر تجارتی راستے متاثر تو افغان مارکیٹ مستحکم کیسے؟"
}