{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreignnqxjc4md3uy46fbsec3ec4uegtlzr3rcvsox3fcf3qmuwyelha",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mife46zbf4i2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibcidt7handr3dzx54b4cuujdsos5jaykzyw7rdbra7vafdcuepgi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 163818
  },
  "path": "/node/185297",
  "publishedAt": "2026-03-31T09:01:54.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افغانستان",
    "طورخم",
    "افغان پناہ گزین",
    "اظہار اللہ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان اور افغانستان کے حکام نے منگل کو تصدیق کی کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے طورخم سرحد کو کھول دیا گیا ہے۔**\n\nصوبہ ننگرہار کی وزارت اطلاعات کے مطابق سرحد کھلنے پر ننگرہار کے عمری کیمپ میں پناہ گزینوں کی رہائش اور سہولیات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو خدمات کی فراہمی کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔\n\nپاکستان کے ضلع خیبر کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آج دوپہر 12 بجے سے سرحد کو افغان پناہ گزینوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا۔\n\nسرحد کی طویل بندش کے باعث وہ سینکڑوں افغان پناہ گزین، جنہیں پاکستانی حکومت نے انخلا کا حکم دیا تھا، کئی ہفتوں سے علاقے میں پھنسے ہوئے تھے اور سڑکوں پر دن رات گزارنے پر مجبور تھے۔\n\nاس سے قبل پاکستانی حکام نے بتایا تھا غیر قانونی اور غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل آج (منگل) سے باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی جانب سے فائرنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔\n\nحکام کے مطابق سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ اداروں کو پناہ گزینوں کی واپسی پر 31 مارچ سے دوبارہ عمل درآمد کی ہدایت کی گئی تھی اور یہ صرف یک طرفہ نقل و حرکت یعنی پاکستان سے افغانستان ہو گی۔\n\n27 مارچ کو پاکستان نے عارضی جنگ بندی کے بعد عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر افغان شہریوں کی واپسی کا عمل بحال کیا تھا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد افغان جانب سے فائرنگ کے باعث یہ عمل دوبارہ معطل کر دیا گیا۔\n\nاس سے قبل سوموار کو طورخم زیرو لائن پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی حکام کے درمیان ایک اہم فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی، جس کا مقصد طورخم بارڈر کو IFR (واپسی/ریپٹری ایشن) آمدورفت کے لیے کھولنے کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔:\n\nاجلاس میں پاکستانی حکام نے افغان فریق پر زور دیا کہ شنکنڈو سے داؤد پوسٹ تک پورے علاقے کی مکمل ذمہ داری سنبھالی جائے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان حالات مکمل طور پر معمول پر آنے تک کسی بھی قسم کی تعمیرات نہ کرنے پر زور دیا گیا۔\n\nپاکستانی حکام نے واضح کیا کہ جنگ بندی (سیز فائر) کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں طورخم بارڈر بند کیا جا سکتا ہے۔\n\nمزید یہ کہ زیرو لائن کے قریب دونوں اطراف اسلحہ کی نمائش یا لے جانے پر مکمل پابندی ہوگی۔\n\nٹرکوں کی سو فیصد چیکنگ دونوں اطراف ہوگی اور وہی ڈرائیور واپس جائے گا، جبکہ خالی گاڑیوں میں کسی فرد کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔\n\nافغانستان\n\nطورخم\n\nافغان پناہ گزین\n\nپاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی جانب سے فائرنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد سرحد کھول دی گئی۔\n\nاظہار اللہ\n\nمنگل, مارچ 31, 2026 - 13:00\n\nMain image:\n\n> <p>افغان پناہ گزین اپنے بچوں کے ہمراہ 16 ستمبر، 2025 کو وطن واپس جانے کے لیے طورخم سرحد پر آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپشاور: ’پائیدار امن‘ کے لیے پاک افغان امن جرگہ آج\n\nپاکستان کے ساتھ مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں: افغانستان\n\nپاکستان کے حملے میں دو افغان شہری مارے گئے: طالبان حکومت کا دعویٰ\n\nSEO Title:\n\nپاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے طورخم سرحد کھول دی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے طورخم سرحد کھول دی"
}