{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreib7a5gegbwmndkstjpq3ne57d2ckkymvzn6xnj66gymmfzsgjcaaa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mife3m2yz3p2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreib62akuy25p2darxwv2mo3wevisp66xqrpi4kvwzdntgxzjraisvi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 141035
},
"path": "/node/185302",
"publishedAt": "2026-03-31T16:13:10.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاک افغان تعلقات",
"پاکستان",
"افغانستان",
"جنگ",
"کشیدگی",
"امن جرگہ",
"اظہار اللہ",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے لیے قومی اصلاحی تحریک اور ایسپائر نامی سول سوسائٹی تنظیم کی جانب سے منگل کو ہونے والے جرگے نے دونوں ممالک سے فائر بندی اور بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے پر زور دیا ہے۔**\n\nجرگے کا انعقاد پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سنٹر میں ہوا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں، وکلا اور صحافیوں کے نمائندے موجود تھے۔\n\nجرگے کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں دونوں ملکوں سے فوری جنگ بندی اور اپنی اپنی سرزمینیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔\n\nاعلامیے میں دونوں ملکوں کے پالیسی سازوں کو یاد دلایا گیا کہ کوئی گروہ، گروہی مفاد اور اس کا تحفظ اتنا اہم نہیں کہ اس کی خاطر پاکستان اور افغانستان کے وسیع مفاد اور عوام کی سلامتی اور صدیوں پر محیط تاریخی و ثقافتی رشتوں کی قربانی دی جائے۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ مہینے سرحدی جھڑپے شروع ہوئیں جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر فضائی حملے بھی کیے۔ کشیدہ تعلقات کے دوران دونوں ملکوں کے سرحدی راستے بھی بند ہیں جس کی وجہ سے تاجروں اور عام لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے۔\n\n31 مارچ 2026 کو پشاور میں ہونے والے امن جرگے میں شرکا دیکھے جا سکتے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nجرگے کے میزبان اور ایسپائر خیبر پختونخوا کے سربراہ ارباب شہزاد نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اور کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں اور معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ اس جرگے کے بعد بلوچستان کے مشران اور پھر افغانستان کے مشران کے ساتھ بھی نشستیں کریں گے تاکہ مسائل کے حل کے لیے مشاورت ہو سکے۔\n\nجرگے کے شرکا میں شامل ایسپائر کے پی کے عہدیدار اور سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے بتایا کہ ’ہم کوئی سیاسی نہیں ہیں بلکہ ایک شہری تنظیم ہیں اور پاکستان و افغانستان کی کشیدگی کے دیرپا حل کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ملکوں کی ایک دوسرے سے شکایتیں ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے علما، تاجر اور پراثر لوگوں سے رابطہ کر سکیں اور دونوں سول سوسائٹی مل کر اس کا حل نکالیں تاکہ پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔‘\n\n(انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nپاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مولانا نور الحق قادری نے جرگے سے خطاب میں بتایا کہ جنگ اور تشدد سے امن اور محبت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ ہر عمل کا ردعمل اور ہر تشدد کا جواب نفرت سے ملتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد قانونی طور پر ہمیں جدا تو کر سکتی ہے لیکن مذہبی، لسانی اور مختلف مشترکہ رشتوں سے دونوں ممالک جڑے ہیں اور یہ سرحد ہمیں جدا نہیں کر سکتی۔\n\nانہوں نےکہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کی جنگ فساد ہے جس سے تجارت کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ طورخم بالکل خالی پڑا ہے جس سے صنعت کاروں کا نقصان ہو رہا ہے۔ ‘\n\nجرگے میں سابق گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ نے کہا کہ پہلے تو فائر بندی کی ضرورت ہے اور کم از کم تین مہینے فائر بندی ہونا چاہیے تاکہ بات چیت کے لیے وقت مل جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان مسلم لیگ کے صوبائی رہنما ارباب خضر حیات نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دونوں ممالک میں بامقصد شہری سفارت کاری کے ذریعے امن کے لیے کوششیں جاری ہونا چاہیے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’اس پلیٹ فارم کے تحت ہونے والے مشاورت کا دائرہ قومی سطح کی سیاسی، مذہبی، اور سماجی قیادت تک وسیع کرنا چاہیے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’یہاں ہم سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان آئے ہیں لیکن افغانستان میں سول سوسائٹی کا وجود ختم ہو چکا ہے تو ہماری کوشش یہی ہونا چاہیے کہ وہاں بھی اس طرح کی ایک تنظیم بنائی جائے اور مشترکہ کاوشیں کر سکیں۔‘\n\n(انڈپینڈنٹ اردو)\n\nتجزیہ کاروں کے مطابق جنگی ماحول میں سول سوسائٹی کا اس طرح اکٹھا ہونا ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ ماضی میں بات چیت کرنے والے اب سامنے نہیں آ رہے ہیں تاکہ وہ تعلقات کی بہتری کی بات کریں۔\n\nافغان امور کے ماہر اور صحافی طاہر خان نے بتایا کہ ’میں سمجھتا ہوں اس جرگے کا انعقاد، ان لوگوں کو بیٹھنے کی اجازت دینا اور منع نہ کرنا بھی اہم پیش رفت ہے۔‘\n\nطاہر خان کا کہنا تھا کہ ’جرگے میں پالیسیوں پر تنقید بھی کی گئی اور کھل کر بات کی گئی ہے جبکہ جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا تو اس ماحول میں یہ جرگہ مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘\n\nجرگے میں جماعت اسلامی کی نمائندگی کرنے والے سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس جرگے کے بہتر نتائج آ سکتے ہیں اگر مقتدرہ حلقے اس کے نکات پر عمل درآمد کریں۔\n\nانہوں نے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ممکن ہے کیونکہ افغان لوگوں میں پاکستان کے خلاف دشمن قوتوں نے نفرتیں پھیلائی ہیں اور یہ مسائل سفارت کاری اور اس طرح کے جرگوں کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔\n\nپاک افغان تعلقات\n\nپاکستان\n\nافغانستان\n\nجنگ\n\nکشیدگی\n\nامن جرگہ\n\nقومی اصلاحی تحریک اور ایسپائر کے زیر اہتمام جرگے نے دونوں ملکوں کی سرزمینیں ایک دوسرے خلاف استعمال نہ ہونے پر زور دیا۔\n\nاظہار اللہ\n\nمنگل, مارچ 31, 2026 - 20:45\n\nMain image:\n\n> <p>31 مارچ 2026 کو پشاور میں قومی اصلاحی تحریک اور ایسپائر کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے جرگے کا ایک منظر (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان اور افغانستان میں طوفانی بارشوں سے 45 اموات: اے ایف پی\n\nپاکستان کے ساتھ مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں: افغانستان\n\nافغانستان سے رہائی پانے والا امریکی شہری ابوظبی پہنچ گیا\n\nفائر بندی کے باوجود پاکستان کے حملے میں ایک موت: افغانستان\n\nSEO Title:\n\nپاکستان افغانستان امن جرگہ: فائر بندی اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے پر زور\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستان افغانستان امن جرگہ: فائر بندی اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے پر زور"
}