{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiey6tdroryym6ahihui3fk6xlyuvwvln5aszkke726zuro722of6i",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mife3hmlqot2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicsxcyhovho4cbzlzuft6yvjhmoiiboqcoodbuyvfi7pezjfhh6cm"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 131748
},
"path": "/node/185303",
"publishedAt": "2026-03-31T16:22:48.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"اسلام آباد",
"ٹویوٹا",
"پولیس",
"رمنا سعید",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پولیس نےٹویوٹا موٹرز اسلام آباد کے ایم ڈی اور کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل کیس میں پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ حکام نے کہا ہے کہ یہ ایک ’منظم بین الصوبائی ڈکیتی گینگ‘ تھا۔**\n\nپولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی عمریں 20 سے 21 سال کے درمیان ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔\n\nعامر اعوان کو ان کے گھر کے اندر، بیوی اور بچوں کی موجودگی میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔ مقدمہ مقتول کی اہلیہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج ہے۔\n\nآئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ اس گینگ میں پانچ افراد شامل تھے، جنہیں ’منصور خان گینگ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں وارداتیں کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’گینگ کے دو ارکان افغان شہری بھی ہیں اور ملزمان واردات کے دوران مزاحمت کی صورت میں جوابی فائرنگ کے لیے اسلحہ ساتھ رکھتے تھے، حتیٰ کہ جاتے ہوئے سکیورٹی گارڈز کا اسلحہ بھی لے گئے۔‘\n\nآئی جی کا کہنا تھا کہ کیس کی تفتیش کے لیے 17 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں سیلولر ٹیکنالوجی، کیمرا ٹریکنگ، انٹیروگیشن اور ریڈنگ ٹیمیں شامل تھیں، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز اس آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔ مجموعی طور پر 31 چھاپے مارے گئے، 93 افراد سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی، 137 کالز کا تجزیہ کیا گیا اور 257 کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ چھ مقامات کی جیو فینسنگ بھی کی گئی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآئی جی کے مطابق واقعہ ایک ایسے فارم ہاؤس میں پیش آیا جسے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور جہاں سکیورٹی کے انتظامات بھی موجود تھے، تاہم پولیس نے تمام شواہد اکٹھے کر کے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس پورے ملک میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا اور اسے اسلام آباد پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا گیا تھا۔\n\nوزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ یہ گینگ ’بلٹ پروف جیکٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور اس قدر خطرناک تھا کہ بعض علاقوں میں مقامی پولیس بھی اس سے خوف زدہ رہتی تھی۔\n\nطلال چوہدری کے مطابق حالیہ برس کے دوران معمولی جرائم میں 78 فیصد جبکہ سنگین جرائم میں 63 فیصد کمی آئی ہے، اور سیف سٹی منصوبے کی تکمیل سے سکیورٹی نظام مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا سمارٹ سٹی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ عامر اعوان کا قتل ایک دل دہلا دینے والا واقعہ تھا، تاہم سیف سٹی، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا گیا، اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔\n\nاسلام آباد\n\nٹویوٹا\n\nپولیس\n\nاسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی عمریں 20 سے 21 سال کے درمیان ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔\n\nرمنا سعید\n\nمنگل, مارچ 31, 2026 - 21:15\n\nMain image:\n\n> <p>ٹویوٹا اسلام آباد موٹرز کے فیس بک پیچ پر 20 فروری 2017 کی ویڈیو کا سکرین گریب جس میں عامر اعوان بطور چیف گیسٹ مارگلہ پولیس سٹیشن کی پرائز ڈسٹریبیوشن تقریب میں شرکت کر رہے ہیں (فیس بک/ سکرین گریب / ٹویوٹا اسلام آباد موٹرز)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد میں ڈکیتی کے دوران کاروباری شخصیت عامر اعوان قتل\n\nکوریئر کمپنی کا نمائندہ بن کر ڈکیتی کرنے والا گینگ گرفتار: پولیس\n\nکراچی پولیس افسر کے گھر ڈکیتی میں ڈالر، نقدی، زیورات لوٹ لیے\n\nکراچی: ’سسر کو پھنسانے‘ والا ڈکیتی کی جھوٹی اطلاع پر گرفتار\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد میں ٹویوٹا موٹرز سے منسلک عامر اعوان قتل کیس کے پانچ ملزمان گرفتار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اسلام آباد میں ٹویوٹا موٹرز سے منسلک عامر اعوان قتل کیس کے پانچ ملزمان گرفتار"
}