{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibfvlzwtrmbptiehtxyiex3wl7m7mdhbmc35y2jlwhdfuhdkaxdxy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3micmwqjz7lj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifxmoms7rjxa3nvrpx56a3nkscnyowwouuh7nrjnvjiegm7nm4j4a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 180207
  },
  "path": "/node/185276",
  "publishedAt": "2026-03-30T09:38:15.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "مون سون بارشیں",
    "سیلاب",
    "بارشیں",
    "سیلابی پانی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**افغانستان اور پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے اداروں نے پیر کو خبر دی ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کے نتیجے میں کم از کم 45 اموات ہو چکی ہیں۔**\n\nجمعرات سے افغانستان بھر میں جاری بارشوں نے متعدد صوبوں میں سیلاب آئے ہیں اور مٹی کے تودے گرے ہیں۔\n\nافغانستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ANDMA) کا کہنا ہے کہ اب تک 28 افراد جان سے گئے ہیں جب کہ 49 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 100 سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔\n\nپولیس ترجمان صدیق اللہ صدیقی نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان کے شمال مغربی صوبہ بادغیس میں آسمانی بجلی گرنے سےایک 14 سالہ لڑکا جان سے گیا۔\n\nصدیقی نے کہا کہ اسی صوبے میں ’تین افراد اس وقت ڈوب گئے جب وہ ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بہتی ہوئی لکڑیاں نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘\n\nافغان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق طوفانی موسم نے کم از کم 130 گھروں کو بھی تباہ کر دیا، جبکہ 430 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔\n\nسرحد کی دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے ’پی ڈی ایم اے‘ نے پیر کو کہا ہے کہ صوبے میں 25 مارچ سے اب تک بارشوں کے سبب ہونے والے حادثات میں 17 افراد کی جان جا چکی ہے۔\n\nملک کے مختلف حصوں میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بارشیں ہوئیں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اتوار کی شب سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔\n\nپاکستان کے محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں 26 سے 30 مارچ تک بارش اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری کیا تھا۔\n\nکراچی میں ریسکیو حکام کے مطابق گذشتہ بدھ کو ہونے والی شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد حادثات میں 16 افراد جان سے گئے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپی ڈی ایم اے نے بیان میں کہا کہ ’صوبہ میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 17 افراد جان سے گئے جبکہ 56 افراد زخمی ہوئے۔‘\n\nبیان میں کہا کہ مرنے والوں میں 14، ایک مرد اور دو خواتین جب کہ زخمیوں میں 25 مرد ، 5 خواتین اور 26 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 11گھر وں کو جزوی نقصان پہنچا۔\n\nیہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، دیر اپر، باجوڑ، بٹگرا م اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے۔\n\nصوبائی محکمے نے کہا کہ سب سے زیادہ ضلع بنوں متاثر ہوا اور صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ منگل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔\n\nپاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کی شدت گذشتہ سال کی نسبت زیادہ شدید ہو گی۔\n\nگذشتہ سال مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے شدید تباہی مچائی تھی جس کے باعث ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔\n\nمون سون بارشیں\n\nسیلاب\n\nبارشیں\n\nسیلابی پانی\n\nافغانستان کے محکمۂ قدرتی آفات کے مطابق بارشوں کے باعث 28 افراد جان سے گئے جب کہ پاکستانی این ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا میں 17 اموات کی اطلاع دی ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, مارچ 30, 2026 - 14:30\n\nMain image:\n\n> <p>ایک شخص 30 مارچ 2026 کو خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدید بارشوں کے بعد منہدم ہونے والے اپنے گھر کے ملبے کو صاف کر رہا ہے (احسان خٹک / روئٹرز)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n383uKfjp\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n26 سے 29 مارچ تک بارشیں، پاکستان بھر میں الرٹ جاری\n\nکراچی میں بارش اور تیز ہواؤں سے 16 اموات: ریسکیو حکام\n\nپاکستان کے بالائی علاقے سردی کی لپیٹ میں، برف باری اور بارشیں جاری\n\n2026 کا مون سون شدید ہو سکتا ہے: این ڈی ایم اے\n\nSEO Title:\n\nپاکستان اور افغانستان میں طوفانی بارشوں سے 45 اموات: اے ایف پی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان اور افغانستان میں طوفانی بارشوں سے 45 اموات: اے ایف پی"
}