{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie35n2flgfvmqn72kisrpekdnkddd6bfbgfiwg74yujq4khaeu2qe",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3micmwgaerrv2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicmvdvgxguyejuqnxqpcn424ibl6ss5u56mrooy6a5h6cpgqs3rpm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 81250
  },
  "path": "/node/185278",
  "publishedAt": "2026-03-30T11:19:00.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "یورینیم",
    "ایران پر امریکی حملہ",
    "مائرہ بٹ",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی گہرائی میں موجود جوہری مراکز سے یورینیم قبضے میں لینے کے لیے ایک خطرناک فوجی آپریشن شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو اس جنگ میں ایک بڑی شدت کی نمائندگی کرے گا۔**\n\nمشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے پر امریکی صدر نے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم وال سٹریٹ جنرل کے مطابق وہ اس خیال پر غور کر رہے ہیں اور امریکی فوجیوں کو لاحق خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اتوار کو ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو اپنا انتہائی افزودہ یورینیم ترک کرنا ہو گا۔\n\nانہوں نے یورینیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ اس وقت تباہ ہو چکے ہیں، وہ جوہری ہتھیار چھوڑ دیں گے اور ہمیں نیوکلیئر ڈسٹ دیں گے۔ وہ وہ سب کچھ کریں گے جو ہم چاہتے ہیں، اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کا ملک باقی نہیں رہے گا۔‘\n\nایران کا یورینیم قبضے میں لینا ایک پیچیدہ آپریشن ہو گا جس میں امریکی فوجیوں کو ایرانی افواج کی فائرنگ کے دوران جوہری تنصیبات تک پرواز کر کے پہنچنا ہو گا۔ جنگی دستوں کو ان مقامات کے گرد و نواح کو محفوظ بنانا ہو گا جبکہ جہاز پر موجود انتہائی ہنر مند تکنیکی عملے اور انجینیئرز تابکار مواد نکالنے میں مدد کریں گے۔ اس مواد کو بغیر کسی حادثے کے ملک سے باہر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 40 سے 50 خصوصی سلنڈروں میں لے جانے کی ضرورت ہو گی۔ انہیں اس علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز آلات کا بھی جائزہ لینا ہو گا جو سکیورٹی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’پینٹاگون کا کام تیاری کرنا ہے تاکہ کمانڈر انچیف کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جا سکیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر نے کوئی فیصلہ کر لیا ہے۔‘\n\nپینٹاگون نے ان رپورٹوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے وال سٹریٹ جنرل کے رابطہ کرنے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔\n\nگذشتہ سال بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے۔ یہ بھی رپورٹ ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 200 کلوگرام 20 فیصد فسائل مٹیریل ہے جسے آسانی سے 90 فیصد ہتھیاروں کے درجے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری ری ایکٹرز یا طبی وجوہات کے لیے اتنی زیادہ افزودگی کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ ممکنہ طور پر ہتھیاروں کے لیے ہو سکتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے لیے 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے، جبکہ 1985 میں ہیروشیما پر گرائے گئے بم میں وہ مواد شامل تھا جو 80 فیصد افزودہ تھا۔ جوہری بم 60 فیصد پر بھی تیار کیا جا سکتا ہے لیکن اسے میزائلوں کے ذریعے نہیں پھینکا جا سکے گا۔\n\nجون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو ’تباہ‘ کر دیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایرانی مقتدرہ نے بمباری سے پہلے مواد منتقل کر دیا تھا یا وہ زمین کے اندر کہیں موجود ہے۔\n\nآئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے پہلے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ یورینیم ان تین مقامات میں سے دو پر موجود ہے جن پر گذشتہ سال حملہ کیا گیا تھا، جن میں اصفہان میں ایک ایٹمی کمپلیکس کی زیرِ زمین سرنگ اور نطنز میں ایک ذخیرہ شامل ہے۔\n\nماہرین کے اندازوں کے مطابق ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا اور عمان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق اس نے فروری میں جوہری مذاکرات کے حصے کے طور پر افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تہران نے زمینی حملے کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ امریکی فوجیوں کو ’موت کی دلدل‘ کی طرف لے جا رہے ہیں۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nیورینیم\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nامریکی اخبار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری مراکز پر براہِ راست چھاپہ مار کر وہاں سے افزودہ یورینیم قبضے میں لینے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔\n\nمائرہ بٹ\n\nسوموار, مارچ 30, 2026 - 16:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 مارچ، 2026 کو میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز میں ایئر فورس ون طیارے پر صحافیوں سے بات کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجوہری مقامات کے گرد حملے، ایران جنگ خطرناک ہو گئی: ڈبلیو ایچ او\n\nجوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا\n\nعالمی پابندیاں ختم ہوں تو انتہائی افزودہ یورینیم کو کم سطح پر لانے پر تیار: ایران\n\nامریکہ سے معاہدے کے لیے یورینیم افزودگی روکنا منظور نہیں: ایران\n\nSEO Title:\n\nایرانی یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے ٹرمپ کا خطرناک مشن پر غور: امریکی اخبار\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/trump-iran-uranium-us-troops-ground-invasion-b2948125.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ایرانی یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے ٹرمپ کا خطرناک مشن پر غور: امریکی اخبار"
}