{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifffto5u52xe7le6pqzaho73fvwowjgz7g5pf2vfh6hejne656fgq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mi6gcngi2xv2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreico62q6ynvt5sffglocmw3uyqb3oawnto45ihabcyo5bql7kb4c74"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 95706
  },
  "path": "/node/185262",
  "publishedAt": "2026-03-29T04:48:16.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "امریکی فوج",
    "آبنائے ہرمز",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "جینیفر پارکر",
    "امریکہ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**فروری کے آخر میں جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی جنگ شروع کی ہے، ایران نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔**\n\nاس کے نتیجے میں اس تنگ آبی گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے عالمی ایندھن کا ایک بحران پیدا ہوا ہے، حالانکہ کچھ جہاز اب بھی آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ تیل اور گیس کی ترسیلات کے لیے اس آبی راستے کو پوری طرح دوبارہ کھولے، اور اس کوشش میں نیٹو اتحادیوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔\n\nہم نے رائل آسٹریلین نیوی میں 20 سال خدمات انجام دینے والے بحری امور کی ماہر جینیفر پارکر سے پوچھا کہ تجارتی جہاز رانی کے لیے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے کس نوعیت کی فوجی قوت درکار ہو گی اور امریکہ نے ابھی تک یہ قدم کیوں نہیں اٹھایا۔\n\n**جہازوں پر حملوں کو روکنا مشکل کیوں؟**\n\nاس حوالے سے خطے کی جغرافیائی نوعیت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایران واضح طور پر خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے شمالی حصے پر غالب ہے۔\n\nیہ قربت اسے اپنے سستے ہتھیاروں، جیسے ڈرونز، کے ذریعے جہازوں کو نشانہ بنانے کے قابل بناتی ہے۔\n\nتجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے یا کم از کم خطرات کو کم کرنے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل فوجی مہم درکار ہوتی ہے۔\n\nپہلا مرحلہ ایران کی وہ صلاحیت ختم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ جہازوں کو نشانہ بناتا ہے۔\n\nاس کے دو طریقے ہو سکتے ہیں • ایران کو قائل یا مجبور کرنا کہ وہ جہازوں پر حملے روک دے۔\n\n• یا ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا، یعنی اس کے ساحلی ریڈار مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور اسلحہ گوداموں کو تباہ کر دینا۔\n\nامریکہ کے پاس اتنی فضائی طاقت، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان میں سے زیادہ تر اہداف کو تلاش کرکے تباہ کر سکے۔\n\nایران کے بے پناہ ڈرونز کو تلاش اور تباہ کرنا زیادہ مشکل ہو گا کیونکہ وہ کہیں بھی ذخیرہ کیے جا سکتے ہیں، اس لیے اس مرحلے پر انٹیلیجنس انتہائی اہم ہو گی۔\n\nجب آپ بمباری کے ذریعے خطرے کو کم کر دیتے ہیں تو آبنائے سے جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کا دوسرا حصہ ایک اعتماد سازی کی مہم ہوتا ہے۔\n\nاس کے لیے ابتدائی الرٹ فضائی طیاروں اور سمندری گشت کرنے والے جہازوں کی ضرورت ہو گی جو نہ صرف آبنائے بلکہ خلیج عمان، خلیج فارس اور ایران کے ساحلی علاقوں کی نگرانی کریں۔\n\nلڑاکا طیارے آبنائے اور خلیج کے اوپر گشت کے لیے تعینات ہونے چاہییں اور ہیلی کاپٹر ہر وقت حملے کی صورت میں کارروائی کے لیے تیار رہیں۔\n\nپانی میں امریکہ کو جنگی جہاز تعینات کرنے ہوں گے جو وقتاً فوقتاً قافلوں کو حفاظتی سکارٹ فراہم کریں۔\n\nاگر آبنائے میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کی تصدیق ہو جائے یا صرف شبہ بھی ہو تو صورتحال پیچیدہ ہو جاتی ہے۔\n\nامریکہ کو ایک وسیع اور وقت طلب صفائی مہم کی ضرورت ہوگی۔\n\n**تو امریکہ آبنائے کو فوجی طور پر محفوظ بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرے گا؟**\n\nچار بنیادی وجوہات ہیں کہ امریکہ پہلے مرحلے (ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت ختم کرنا) کو مکمل کیے بغیر آبنائے کو فوجی طور پر محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ یہ اقدام ابھی تک مہم کا مرکزی ہدف نہیں بنا۔\n\nاول، اس سے فوجی وسائل، جیسے طیارے، دوسری جگہوں سے ہٹانے پڑیں گے جہاں وہ ٹرمپ کے جنگی اہداف کے لیے ضروری ہیں۔\n\nدوم، آبنائے کو بحفاظت جہاز رانی کے قابل بنانے کے لیے صرف پانی نہیں بلکہ اس کے دونوں جانب زمین کو بھی محفوظ کرنا ہو گا۔\n\nاور اس کے لیے زمینی افواج یا ایران کے ساحلوں پر چھاپہ مار کارروائیاں درکار ہوں گی، جو امریکی فوج کے لیے پیچیدہ اور خطرناک ہوں گی۔\n\nسوم، جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے بڑی تعداد میں بحری جہاز چاہیے ہوں گے۔ حقیقت پسندانہ طور پر ہر سکارٹ آپریشن کے لیے ایک یا دو جنگی جہاز چاہییں۔\n\nاس سے بڑے قافلے حملے کے زیادہ خطرے میں ہوں گے، جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو نمایاں حد تک کم نہ کر دیں۔\n\nچہارم، فوج کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کے اپنے وسائل کے لیے خطرہ کتنا ہے اور آبنائے کھولنے سے فائدہ کتنا ہو گا۔\n\nایک امریکی جنگی جہاز میں 200 سے زیادہ اہلکار ہوتے ہیں۔\n\nایران کے بغیر پائلٹ سمندری جہازوں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ذریعے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے کیا یہ اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنے کے قابل ہے؟ اس سے پہلے کہ آپ ایران کے ساحلی خطرات کو کم کریں؟\n\n**آبنائے میں بارودی سرنگوں کا کیا معاملہ ہے؟**\n\nیہ ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ لیکن پہلی بات یہ ہے کہ ایران کو سرنگیں بچھانے کی ضرورت بھی نہیں یا اسے صرف امریکہ اور دیگر ممالک کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس نے ایسا کر دیا ہے۔\n\nیہی کافی ہے کہ شہری جہاز آبنائے سے گزرنے سے ہچکچائیں۔ کبھی کبھی سرنگیں پانی کی سطح پر تیرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن اکثر وہ پانی کے اندر یا لنگر انداز ہوتی ہیں۔\n\nامریکہ کو انہیں ہٹانے کے لیے غوطہ خوروں یا ریموٹ کنٹرول گاڑیوں کو جہازوں سے بھیجنا ہوگا۔ اس میں کئی ہفتے یا شاید مہینے لگ سکتے ہیں۔\n\nاگرچہ اس کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی لیکن میرا خیال ہے کہ ایران نے بڑے پیمانے پر سرنگیں نہیں بچھائی ہوں گی۔\n\nاس کی دو وجوہات ہیں: اول، ایران کی معیشت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ خلیج فارس میں خارک جزیرے سے اپنا تیل آبنائے کے ذریعے بھیجے۔\n\nایران کے پاس آبنائے سے باہر بھی بندرگاہیں ہیں لیکن وہ بڑے جہازوں کے قابل نہیں، اس لیے سرنگیں بچھانا خود ان کی تجارت میں رکاوٹ ڈالے گا۔\n\nدوم، بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے صوتی بارودی سرنگیں استعمال کی ہیں۔\n\nیہ ایسی بارودی سرنگیں ہوتی ہیں جو جہاز کی ’صوتی شناخت‘ یعنی پانی میں اس کی آواز کے مطابق پھٹتی ہیں۔\n\n(امریکی ادارہ برائے توانائی)\n\n\n\n\nاگرچہ یہ ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن یہ بعید ہے کہ ایسی سرنگیں اس قابل ہوں کہ ایرانی پرچم بردار جہازوں اور دیگر ممالک کے جہازوں میں درست فرق کر سکیں۔\n\nبڑی تعداد میں تجارتی جہازوں کی درست صوتی شناخت کو برقرار رکھنا، خصوصاً آبنائے جیسے گھنے اور متحرک بحری ماحول میں، انتہائی مشکل ہو گا۔\n\nعملاً یہ سرنگیں ہر طرح کی جہاز رانی کے لیے خطرہ بنیں گی۔\n\nامریکہ کے پاس ایران کے ساحل کے ساتھ ساتھ نمایاں انٹیلیجنس، نگرانی اور جاسوسی کے نظام موجود ہیں، لہٰذا وہ سرنگیں بچھانے کی کارروائیوں کا سراغ لگانے کا امکان رکھتا ہے۔\n\nاگرچہ یہ کارروائیاں کسی بھی جہاز، حتیٰ کہ ماہی گیری کی کشتیوں، سے بھی کی جا سکتی ہیں۔\n\n**اور ایران کی ڈرون کے ذریعے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا کیا؟**\n\nایران نے اب تک جنگ میں مختلف قسم کے ڈرون استعمال کیے ہیں۔ بغیر پائلٹ جہاز یا بغیر پائلٹ سطحی جہاز ریموٹ کنٹرول ہوتے ہیں اور تجارتی ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدیگر ہتھیاروں، جیسے میزائلوں، کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایران کے ڈرونز کو زمین پر نشانہ بنانا زیادہ مشکل ہے کیونکہ وہ تقریباً کہیں سے بھی لانچ کیے جا سکتے ہیں۔\n\nاگرچہ انہیں کہیں بھی بنایا نہیں جا سکتا لیکن ڈرونز کو میزائلوں جتنی جدید تنصیبات نہیں چاہییں۔ مختصر یہ کہ انہیں ڈھونڈنا اور تباہ کرنا زیادہ مشکل ہے۔\n\nلیکن امریکہ ایران کے ساحل کے ساتھ ساتھ کچھ لانچنگ پوائنٹس اور ڈرون ذخیرہ گاہوں پر بمباری کر سکتا ہے تاکہ جہازوں پر کچھ حملے روکے جا سکیں۔\n\n**امریکہ کے لیے اس وقت ایران میں اولین ترجیح کیا ہے؟**\n\nاگرچہ حکومت کی تبدیلی پر بہت بحث ہو رہی ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ اپنے چار اہم فوجی اہداف کے بارے میں واضح رہی ہے، جو یہ ہیں کہ تباہ کیا جائے:\n\n• ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت\n\n• اس کی جوہری صلاحیت\n\n• اس کی بحریہ (جس کا بڑا حصہ پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے)• اور اس کے پراکسی نیٹ ورک، جن میں لبنان میں حزب اللہ بھی شامل ہے، جس پر گذشتہ کئی ہفتوں سے اسرائیل حملے کر رہا ہے۔\n\nایران کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنے کے لیے بڑی مقدار میں طیاروں اور اسلحے کی ضرورت ہے، جیسا کہ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری مہمات واضح کر چکی ہیں۔\n\nان وسائل کو آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے منتقل کرنا ان فوجی اہداف کے حصول کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔\n\nایران\n\nامریکی فوج\n\nآبنائے ہرمز\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایک نیول ماہر بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے کس قسم کی فوجی طاقت درکار ہے۔\n\nجینیفر پارکر\n\nاتوار, مارچ 29, 2026 - 09:45\n\nMain image:\n\n> <p>15 مارچ، 2026 کو جنوب مغربی انگلینڈ میں آر اے ایف فیئرفورڈ کے فضائی اڈے پر امریکی فضائیہ کے بی-1 لینسر بمبار طیارے سے ہٹائے گئے ’جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک مونی‌شنز‘ کو امریکی فوجی اہلکار اٹھا کر لے جا رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی دلدل\n\nجہاز، انشورنس اور جھوٹ: ہرمز میں کیا چل رہا ہے؟\n\nمتعدد ممالک آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے: صدر ٹرمپ\n\nآبنائے ہرمز پر جی پی ایس سپوفنگ کیسے افراتفری پیدا کر رہی ہے؟\n\nSEO Title:\n\nامریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے فوجی طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہا؟ 4 بڑی وجوہات\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.the-independent.com/news/world/middle-east/iran-war-trump-oil-strait-of-hormuz-b2946983.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے فوجی طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہا؟ 4 بڑی وجوہات"
}