{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigoaorg4egkbl7o3hretsuwaclur5aszd7qqpugl5vjnetewz5uuu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mi5x2m7mdnv2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihl5dpsi23ocjvpelljp7ch6g5muo43xvszsttc6ahz6z5quhyufi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 177029
  },
  "path": "/node/185253",
  "publishedAt": "2026-03-28T10:34:05.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "https://t.co/NOn3uMzqLV",
    "March 27, 2026",
    "افغانستان",
    "پاکستان",
    "انسانی حقوق",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news",
    "@hrw"
  ],
  "textContent": "**انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ 16 مارچ کو افغانستان میں ایک منشیات کے علاج کے مرکز پر کیا گیا پاکستانی فضائی حملہ غیر قانونی تھا اور یہ ممکنہ طور پر جنگی جرم تھا۔**\n\nتنظیم نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کا محاسبہ کریں۔\n\n> A Pakistani airstrike on a drug treatment center in Afghanistan on March 16 was an unlawful attack and a possible war crime.\n>\n>  Pakistani authorities should investigate the incident and hold all those responsible for wrongdoing to account. https://t.co/NOn3uMzqLV\n>\n> — Human Rights Watch (@hrw) March 27, 2026\n\nدوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل پر حالیہ پاکستانی حملے میں ہدف افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون کا ڈپو تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر سے 18 مارچ 2026 کو گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے کابل شہر نے دیکھا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ حملے میں عام شہریوں کی اموات کا پراپیگنڈہ جھوٹ ہے اور طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں سویلین لباس پہنتے ہیں۔\n\nڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں نیز افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے رہنماؤں کو حکومتی عمارتوں میں رکھا گیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ انہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ افغانستان نے تمام دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ کہنا غلط ہو گا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ ’بلکہ ہمارے اوپر دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی ہے اور ہم اپنا تحفظ کر رہے ہیں۔\n\nافغانستان\n\nپاکستان\n\nانسانی حقوق\n\nانسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کا محاسبہ کریں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مارچ 28, 2026 - 15:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">افغان بلدیہ کے کارکن 17 مارچ 2026 کو امید ایڈکشن ٹریٹمنٹ ہسپتال کا ملبہ ہٹا رہے ہیں (وکیل کوہسار / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکابل میں ہدف ڈرون ڈپو تھا، سویلین اموات جھوٹ: پاکستان فوج\n\nفائر بندی کے باوجود پاکستان کے حملے میں ایک موت: افغانستان\n\nافغانستان میں آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: عطا تارڑ\n\nافغانستان کا باجوڑ پر حملہ عالمی قانون کی خلاف ورزی: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nافغانستان میں ڈرگ ٹریٹمنٹ سینٹر پر پاکستانی حملہ غیر قانونی اور ممکنہ جنگی جرم تھا: ہیومن رائٹس واچ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "افغانستان میں ڈرگ ٹریٹمنٹ سینٹر پر پاکستانی حملہ غیر قانونی اور ممکنہ جنگی جرم تھا: ہیومن رائٹس واچ"
}