{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigfk5ywqeijxrzrnut6taxczw3pxb3vfl5u44ia77egarzxnsbsci",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mi5x2d5rcrr2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaopb7cridlnj6jyoffgsqefbz6jj5rr6qyectvc6uspyuscjdhdi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 115910
  },
  "path": "/node/185255",
  "publishedAt": "2026-03-28T13:07:43.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "کراچی پورٹ ٹرسٹ",
    "کراچی",
    "آبنائے ہرمز",
    "پاکستان",
    "مشرق وسطیٰ",
    "بحری جہاز",
    "صالحہ فیروز خان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے 26 مارچ کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کراچی سے گزشتہ 24 دنوں کے دوران ہونے والی ترسیلات تقریباً پورے سال کے برابر ہو چکی ہیں۔‘ اسے انہوں نے شہر کی معاشی بحالی کی علامت قرار دیا۔**\n\nان کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث وہاں ترسیل کی لاگت اور رسک پریمیم کراچی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیوں کا رخ کراچی کی جانب مڑ رہا ہے۔\n\nیہ ٹویٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں غیر یقینی صورت حال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور علاقائی تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہیں۔\n\nاس تناظر میں یہ جاننا اہم ہو جاتا ہے کہ آیا واقعی کراچی پورٹ ٹرسٹ پر سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے یا یہ تاثر زمینی حقائق سے مختلف ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، لاجسٹکس سیکٹر اور برآمدات پر پڑ سکتا ہے۔\n\n**کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟**\n\nکراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان شارق فاروقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے 26 مارچ کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ: ’کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق کراچی پورٹ پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 165,476 میٹرک ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا۔\n\n’اعداد و شمار کے مطابق اس میں 41,209 میٹرک ٹن برآمدی (ایکسپورٹ) جبکہ 124,267 میٹرک ٹن درآمدی (امپورٹ) کارگو شامل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات کا حجم زیادہ رہا۔‘\n\n25 فروری، 2026 کو آبنائے ہرمز کے مقام پر واقع ساحلی شہر فجیرہ کے قریب ایک مال بردار جہاز کی تصویر (اے ایف پی)\n\n\n\n\nپورٹ حکام کے مطابق ’اس دوران سات جہاز کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوئے، جن میں کنٹینر شپ، ٹینکر اور بلک کارگو بردار جہاز شامل تھے، جبکہ چھ جہاز اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔‘\n\nکارگو کی اقسام میں کنٹینرائزڈ کارگو سب سے نمایاں رہا، جس کی مقدار 110,040 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ کلنکر، سیمنٹ، چاول، کھاد اور مائع کارگو بھی ہینڈل کیا گیا۔\n\nرپورٹ کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران مزید متعدد کنٹینر بردار اور دیگر جہازوں کی آمد متوقع ہے، جس سے پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔\n\nمزید برآں، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے دوران کراچی پورٹ پر آنے والے جہازوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب اس کا موازنہ گذشتہ ماہ اور گذشتہ سال کے اسی عرصے سے کیا جائے۔\n\nاعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف اقسام کے ویسلز، خاص طور پر کنٹینر شپ اور ٹینکرز کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جو تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔\n\nکارگو کی اقسام میں بھی تنوع دیکھا گیا، جن میں سیمنٹ، کلنکر، چاول، کیمیکلز اور آئل مصنوعات شامل ہیں، جو صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔\n\n**لاجسٹکس شعبے کا مختلف مؤقف**\n\nتاہم زمینی سطح پر کام کرنے والے لاجسٹکس شعبے کے نمائندگان اس تصویر کو اتنا واضح اور یکطرفہ نہیں سمجھتے۔\n\nآل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین امداد حسین نقوی کے مطابق: ’ترسیلات یا لاجسٹکس سروسز میں کوئی غیر معمولی تیزی دکھائی نہیں دے رہی۔‘\n\nان کے بقول ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش کے باعث نہ صرف افغان تجارت بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے لاجسٹکس سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔\n\nاسی طرح آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شعیب اشرف نے بھی اس تاثر کو محدود قرار دیا۔\n\nکراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے دوران کراچی پورٹ پر آنے والے جہازوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے(فائل فوٹو/اے ایف پی)\n\n\n\n\nان کے مطابق ’ایکسپورٹرز اور کلیئرنگ ایجنٹس سے ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بندرگاہ پر بڑی مقدار میں مال، خصوصاً ریفر کنٹینرز، رکا ہوا ہے۔‘\n\nاس صورت حال کے باعث برآمد کنندگان کو ڈیمرج کی مد میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ یورپ اور امریکہ کے لیے بھیجی جانے والی اشیا، جن میں گوشت، انڈے اور سبزیاں شامل ہیں، تاخیر کا شکار ہیں۔\n\n**ماہرین کیا کہتے ہیں: عارضی بہتری یا مستقل تبدیلی؟**\n\nدوسری جانب ماہرِ معاشیات شہریار بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے اپنے تجزیے میں کہا کہ ’اس صورت حال کو ایک عارضی مگر اہم معاشی موقع قرار دیتے ہیں۔‘\n\nان کے مطابق خطے میں جنگی نوعیت کی صورت حال کے باعث سرمایہ کاری میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور آبادی کی نقل مکانی جیسے عوامل پیدا ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ تجارتی دباؤ پاکستان کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔\n\nوہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی بندرگاہوں پر کنٹینرز کی ہینڈلنگ میں حالیہ اضافہ اسی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جہاں معمول سے زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔\n\nتاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی مستقل رجحان نہیں بلکہ ایک قلیل مدتی تبدیلی یا ’شارٹ ٹرم شفٹ‘ ہے، جو صرف اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مڈل ایسٹ میں غیر یقینی صورت حال قائم ہے۔\n\nاپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ماضی کی مثال دیتے ہیں کہ ’جب انڈیا میں چاول کی سپلائی متاثر ہوئی تھی تو پاکستان کی رائس ایکسپورٹ میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن جیسے ہی انڈیا دوبارہ مارکیٹ میں آیا تو پاکستان کا حصہ کم ہو گیا۔‘\n\nان کے مطابق موجودہ صورت حال بھی اسی نوعیت کی ہے، یعنی حالات معمول پر آتے ہی تجارتی بہاؤ اپنی اصل سمت اختیار کر لے گا۔\n\n16 مئی 2005 کی اس تصویر میں کراچی پورٹ پر موجود گاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)\n\n\n\n\nشہریار بٹ کے مطابق اس دوران پاکستان کے لاجسٹکس اور شپنگ کے شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور کارپوریٹ سیکٹر کو وقتی سہارا ملے گا۔ وہ یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی آمدنی میں اضافے کے باعث ترسیلاتِ زر میں بہتری آ رہی ہے، جو معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔\n\nتاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ ’ان عارضی فوائد کے باوجود پاکستان کو اپنے اندرونی مالی مسائل سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔‘\n\nان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس اہداف کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری معاملات معیشت پر دباؤ ڈالے ہوئے ہیں۔\n\nاسی تناظر میں مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت پورٹ ٹرانس شپمنٹ کے حوالے سے خاصی مصروفیت کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس موقع سے مؤثر فائدہ اٹھانے کے لیے بندرگاہوں کی ترقی ناگزیر ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کے مطابق ملک کو اپنی لاجسٹکس سپورٹ سروسز اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔\n\nانہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پورٹ چارجز میں کچھ رعایت دی گئی ہے اور عید کے دوران بھی آپریشنز جاری رکھے گئے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔\n\nتاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔\n\nعتیق الرحمٰن کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرے تاکہ بندرگاہوں اور میری ٹائم سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور انہیں عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔\n\nمجموعی طور پر کراچی پورٹ پر سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، تاہم ماہرین اسے مستقل معاشی بحالی کے بجائے زیادہ تر ایک عارضی رجحان قرار دیتے ہیں۔\n\nخطے میں کشیدگی اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے وقتی طور پر پاکستان کو فائدہ پہنچایا ہے، لیکن اس موقع سے دیرپا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک اپنی بندرگاہی سہولیات، لاجسٹکس نظام اور برآمدی صلاحیت کو مضبوط بنائے۔ بصورت دیگر، حالات معمول پر آتے ہی تجارتی بہاؤ دوبارہ اپنی پرانی سمت اختیار کر سکتا ہے۔\n\nکراچی پورٹ ٹرسٹ\n\nکراچی\n\nآبنائے ہرمز\n\nپاکستان\n\nمشرق وسطیٰ\n\nبحری جہاز\n\nحالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد کراچی پورٹ کی سرگرمیوں میں اضافے کی خبریں گردش میں ہیں لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے؟\n\nصالحہ فیروز خان\n\nہفتہ, مارچ 28, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چھ اپریل، 2023 کو کراچی کی بندرگاہ پر ایک جہاز پر رکھے شپنگ کنٹینرز نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکراچی پورٹ کارگو ٹرمینل کی تعمیر پر یو اے ای سے معاہدہ منظور:وزارت خزانہ\n\nدوسرا روسی بحری جہاز خام تیل لے کر کراچی پہنچ گیا: کراچی پورٹ ٹرسٹ\n\nکراچی پورٹ ٹرمینل کی حوالگی سے سالانہ 70 لاکھ ڈالر ملیں گے: وزیر\n\nSEO Title:\n\nآبنائے ہرمز کی بندش: کیا واقعی کراچی پورٹ کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آبنائے ہرمز کی بندش:  کیا واقعی کراچی پورٹ کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے؟"
}