{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieddkmeojedrj6il3f3wr57ppnrgns2ir5heepfy4qczvoz5rqbjy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mi5x26v4qgv2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihc7pfrfu2ftt7rk4rlcvytx6uva7lv2pjdoa57huzp5bqp7pudsq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 68043
  },
  "path": "/node/185257",
  "publishedAt": "2026-03-28T17:32:14.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "March 28, 2026",
    "پاکستان",
    "افغانستان",
    "وزیر خارجہ",
    "طالبان حکومت",
    "افغان طالبان",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news",
    "@MoFA_Afg"
  ],
  "textContent": "**افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ہفتے کو کہا ہے کہ افغانستان بطور پڑوسی پاکستان سے مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔**\n\nافغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کے درمیان ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت میں پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ افغانستان ایک پڑوسی کے طور پر پاکستان کے ساتھ مسائل کو ’مذاکرات اور افہام و تفہیم‘ کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔\n\n> مولوي امير خان متقي همداراز د افغانستان او پاکستان د وضعيت په اړه وويل، افغانستان د ګاونډي په توګه غواړي چې له پاکستان سره ستونزې د خبرو او تفاهم له لارې حل کړي او هیچا ته اجازه نه ورکوي چې د افغانستان خاوره د پاکستان په خلاف وکاروي په دې برخه کې جدي اقدامات هم شوي دي.\n\n> — Ministry of Foreign Affairs - Afghanistan (@MoFA_Afg) March 28, 2026\n\nانہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس حوالے سے عملی اور سنجیدہ اقدامات کیے جا چکے ہیں۔\n\nپاکستان کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’پاکستان کے خلاف افغانستان کے تمام فوجی اقدامات ’دفاعی‘ تھے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں افغانستان اپنا 'حقِ دفاع' محفوظ رکھتا ہے۔‘\n\nپاکستان افغانستان کشیدگی پر اماراتی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’افغانستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔\n\nپاکستان نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف آپریشن کا غضب للحق کا نام دیا۔\n\nپاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دیتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ اور غیر مستحکم سرحد عبور کر کے پاکستانی افواج پر حملے کرتے ہیں، اور یہ بھی کہ وہ انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتی ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔\n\nپاکستان\n\nافغانستان\n\nوزیر خارجہ\n\nطالبان حکومت\n\nافغان طالبان\n\nافغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ہفتے کو کہا ہے کہ افغانستان بطور پڑوسی پاکستان سے مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مارچ 28, 2026 - 22:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">15 اگست، 2022 کی اس تصویر میں افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے(روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کے حملے میں دو افغان شہری مارے گئے: طالبان حکومت کا دعویٰ\n\nافغان طالبان نے ڈرون حملے کر کے ’سرخ لکیر‘ عبور کر لی: صدر زرداری\n\nافغان طالبان نے چند ڈرونز داغے جو مار گرائے: پاکستان فوج\n\nکوہاٹ پولیس نے مشتبہ ڈرونز گرا دیے، افغان طالبان کا حملے کا دعویٰ\n\nSEO Title:\n\nافغانستان پاکستان سے مسائل مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتا ہے: افغان وزیر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "افغانستان پاکستان سے مسائل مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتا ہے: افغان وزیر خارجہ"
}