{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie3l27hzwd4o7dvk4zm6hnfdpmm7jbgvw2awmdi2ezwbhee42eihi",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhyiqah4mbv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiajhl34h2vq23wrtmetgxuras5z3acj35s7nloi47mjaeuh3pzqwu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 141658
},
"path": "/node/185222",
"publishedAt": "2026-03-26T05:21:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"WhatsApp Image 2026-03-22 at 8.20.02 PM.JPG",
"پی ایس ایل",
"سٹیو سمتھ",
"پاکستان سپر لیگ",
"سید حیدر",
"کرکٹ",
"video"
],
"textContent": "**پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کا آغاز آج (جمعرات) سے ہو رہا ہے۔ پاکستان افغانستان اور ایران جنگوں کی وجہ سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شاید غیرملکی کھلاڑی نہ آئیں لیکن یہ سچ ثابت نہیں ہوئے۔ پی ایس ایل کے موجودہ ایڈیشن میں کچھ ایسے نام شامل ہیں جو پہلی دفعہ شرکت کر رہے ہیں۔**\n\nاگرچہ وہ اب ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نہیں کھیلتے لیکن اپنی قومی ٹیسٹ ٹیم کے مستقل رکن ہیں اور طویل عرصہ سے کرکٹ کے میدانوں میں ان کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔ حالانکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کا وقت اب ختم ہوچکا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ آج بھی نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔\n\nان کے علاوہ بہت سے ایسے کھلاڑی ہیں جو گذشتہ کئی سالوں سے پی ایس ایل کا حصہ ہیں اور متعدد بار اپنے جوہر دکھا چکے ہیں۔\n\nنیا سیزن کچھ تبدیلیاں لے کر آیا ہے۔ دس سال تک پی ایس ایل میں دس ٹیمیں شامل تھی لیکن گیارہویں سال مزید دو ٹیموں کا اضافہ ہوا ہے۔\n\nراولپنڈی اور حیدرآباد وہ دو نئی ٹیمیں ہیں جو اس سیزن میدان میں اتریں گی۔ لیکن ایک ٹیم ملتان سلطانز پھر نیا جنم لے کر سامنا آ رہی ہے۔ نئی انتظامیہ کے ساتھ اس ٹیم کو اپنا پرانا نام واپس مل گیا۔ ملتان کی پرانی انتظامیہ کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد پی سی بی نے اسے نیلام کر دیا تھا اور سیالکوٹ کے نام سے رجسٹر ہوئی لیکن خریدنے والوں میں نااتفاقی اور عدم اعتمادی کے باعث ٹیم ایک بزنس گروپ کو فروخت کردی گئی۔\n\nایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیالکوٹ کی ٹیم بھاری قیمت پر خریدی گئی جبکہ اس کی ادائیگی کے لیے مالکان کے پاس رقم نہیں تھی۔ اب نئے مالک نے اسے ان سائیڈ ٹریڈنگ کے ذریعہ خرید کر دوبارہ ملتان کا نام دے دیا ہے۔\n\n**کیا کچھ نیا ہوگا؟**\n\nموجودہ عالمی حالات اور ایران امریکہ جنگ کے باعث پی ایس ایل کے تمام 44 میچ لاہور اور کراچی میں کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور اس سے لیگ کی ساکھ پر سوال لگ سکتے ہیں لیکن پی سی بی کاموقف ہے کہ موجودہ حالات میں چار مقامات پر ٹیموں کو سنبھالنا مشکل کام ہے۔\n\nسب سے زیادہ نانصافی خیبرپختونخوا کے کرکٹ شائیقن کے ساتھ ہوئی جنہیں عرصہ بعد پہلا پی ایس ایل میچ پشاور میں دیکھنے کا موقعہ پھر نہ مل سکا۔\n\nسب سے اہم بات یہ کہ میچز تماشائیوں کے بغیر خالی سٹیڈیم میں ہوں گے۔ تہ تجربہ اس سے قبل کرونا وبا کے زمانے میں کیا جا چکا ہے۔ لیکن سچی پات ہے تماشائیوں کے بغیر میچز میں جان ہوتی ہے اور نہ توجہ ۔۔ کرکٹ بلکہ کسی کھیل کا اصل مزا یہی ہے کہ سٹیڈیم میں تماشائی ہی تماشائی ہوں۔ شور شرابا اور گرما گرمی سے کھلاڑیوں کو بھی تقویت ملتی ہے۔\n\n**غیر ملکی کھلاڑیوں میں بڑے نام** : **سٹیو سمتھ**\n\nپی ایس ایل 11 میں سب سے اہم شمولیت دور حاضر کے مستند بلے باز اور آسٹریلیا کے سابق کپتان سٹیون سمتھ کی ہے۔ وہ پہلی دفعہ پی ایس ایل میں اپنے جوہر دکھائیں گے۔ ملتان سلطانز نے انہیں ڈائریکٹ سائنگ میں لیا ہے۔ انہوں نے گیارہ سال آئی پی ایل کھیلی ہے اور کپتانی بھی کی ہے۔\n\nسو سے زائد میچ کھیل کر دو ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے سمتھ کے لیے گذشتہ آئی پی ایل میں کوئی خریدار نہیں تھا۔ جس کے بعد انہوں نے پی ایس ایل کا معاہدہ کیا۔ وہ بگ بیش کے حالیہ ایڈیشن میں اپنی ٹیم کو فائنل تک لے گئے تھے اور اچھی فارم میں ہیں۔ ملتان کو ان سے بڑی توقعات ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**مارنوس لابوشین**\n\nٹیسٹ کرکٹ کے شان دار بلے باز مارنوس لابوشین حیدر آباد کنگزمین کے کپتان مقرر کیے گئے ہیں۔ ان کا ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ بہت معمولی ہے جس وجہ سے حیدر آباد کو زیادہ فائدہ ہونے کی امید نہیں ہے۔\n\n**پیٹر سڈل**\n\nآسٹریلیاکے سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر 41 سالہ پیٹر سڈل کی ملتان سلطانز میں شمولیت حیرت انگیز ہے۔ وہ اگرچہ بگ بیش لیگ ابھی تک کھیل رہے ہیں لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ سات سال پہلے چھوڑ چکے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ کب پی ایس ایل میں شمولیت اختیار کریں گے۔\n\n**گلین میکسویل**\n\nآسٹریلیا کے گلین میکسویل ٹی ٹوئنٹی کے زبردست کھلاڑی ہیں۔ حیدرآباد میں ان کی شمولیت بہت معنی رکھتی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کب پاکستان پہنچیں گے۔\n\n**مارک چیپمین**\n\nنیوزی لینڈ کے مارک چیپمین بھی معروف ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی ہیں جو جارحانہ بلے بازی کے ساتھ ایک شان دار فیلڈر بھی ہیں اور بوقت ضرورت بولنگ بھی کرسکتے ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے وہ کارگر ثابت ہو سکتے ہیں\n\n**ڈیوڈ وارنر**\n\nآسٹریلیا کے کھلاڑی ڈیوڈ وارنر، اپنی اہلیہ کینڈس اور بچوں کے ہمراہ یکم جنوری 2024 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل پریس کانفرنس کے بعد روانہ ہو رہے ہیں۔ ڈیوڈ وارنر نے اس ٹیسٹ میچ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nکراچی کنگز کے کپتان اس سیزن میں بھی ڈیوڈ وارنر ہی ہیں۔ وارنر اپنے وقت کے زبردست جارحانہ بلے باز تھے تاہم ریٹائر ہونے کے بعد ان کی کارکردگی میں بہت فرق آچکا ہے۔ گذشتہ سیزن میں بھی وہ بجھے بجھے سے تھے تاہم وہ کسی وقت بھی اپنا جادو جگاسکتے ہیں۔\n\n**معین علی**\n\nانگلینڈ کے سابق کھلاڑی معین علی اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑ چکے ہیں لیکن پی ایس ایل میں کراچی کنگز کی نمائندگی کررہے ہیں\n\n**ایڈن زمپا**\n\nآسٹریلوی سپنر ایڈن زمپا آٹھ نومبر، 2024 کو ایڈیلیڈ میں دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستانی بیٹر کا کیچ گرا بیٹھے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nکراچی کنگز میں ایک اور بڑا نام آسٹریلیا کے سپنر ایڈن زمپا کا ہے۔ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ہر لیگ کی اولین پسند ہوتے ہیں۔ ان کی بولنگ کراچی کنگز کے لیے بہت اہم ہوگی۔\n\n**سکندر رضا**\n\nموجودہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جس کھلاڑی نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی ہے وہ زمبابوے کے سکندر رضا ہیں۔ ایک زبردست آل راؤنڈر ہیں اور لاہور قلندرز کی طرف سے اس سال ان کی کارکردگی قابل توجہ ہوگی۔ انہوں نے حالیہ ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کو غیرمعمولی فتوحات دلوائیں۔ اب قلندرز کو ان سے بڑی توقعات ہیں۔\n\n**مائیکل بریسویل**\n\nنیوزی لینڈ کے سپنر مائیکل بریسویل پشاور زلمی کا حصہ ہیں۔ اپنی نپی تلی بولنگ کے لیے وہ مشہور ہیں اور جارحانہ بیٹنگ بھی کرتے ہیں۔ وہ بھی لیگ میں ایک خطرناک کھلاڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔\n\n**کوشال مینڈس**\n\nسری لنکا کے کوشال مینڈس ٹی ٹوئنٹی کے ماہر بلے باز ہیں اگرچہ گذشتہ ایک سال سے ان کی کارکردگی تنزل پذیر ہے لیکن وہ کسی بھی وقت کچھ کرسکتے ہیں۔ پشاور زلمی نے ان کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے انہیں شاید شامل کیا ہے۔\n\n## WhatsApp Image 2026-03-22 at 8.20.02 PM.JPG\n\n**ریلی روسو**\n\nریلی روسو اور پی ایس ایل اب لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مستقل کھلاڑی ہیں۔ ماضی میں لاتعداد شان دار اننگز کھیل چکے ہیں۔ ان کی بیٹنگ اب کچھ بجھی بجھی سی ہے لیکن ان کے طاقتور شاٹ کسی بھی وقت کچھ کرسکتے ہیں۔\n\n**ڈیرل مچل**\n\nراولپنڈی کے لیے نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر بلے باز ڈیرل مچل کی کارکردگی بھی قابل دید ہوگی۔ وہ ایک اچھے فیلڈر اور میڈیم پیسر بالر بھی ہیں۔ ڈیرل مچل کسی بھی وقت میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔\n\nان کھلاڑیوں کے علاوہ بہت سے ایسے نام ہیں جو ٹی ٹوئنٹی کے سپیشلسٹ ہیں اور اپنی بیٹنگ بولنگ سے میچ کا نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ پی ایس ایل میں زیادہ تر غیر ملکی کھلاڑی وہ ہیں جو یا تو عمر رسیدہ اور ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر جنھیں آئی پی ایل میں کسی ٹیم نے نہیں خریدا اور خریدار نہ ملنے کے سبب پی ایس ایل چلے آئے۔\n\nان سب حقائق کے باوجود یقین ہے کہ پی ایس ایل کی کشش اور دلچسپی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔\n\nپی ایس ایل\n\nسٹیو سمتھ\n\nپاکستان سپر لیگ\n\nسب سے زیادہ نانصافی خیبرپختونخوا کے کرکٹ شائیقن کے ساتھ ہوئی جنہیں عرصہ بعد پہلا پی ایس ایل میچ پشاور میں دیکھنے کا موقعہ پھر نہ مل سکا۔\n\nسید حیدر\n\nجمعرات, مارچ 26, 2026 - 10:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">موجودہ عالمی حالات اور ایران امریکہ جنگ کے باعث پی ایس ایل کے تمام 44 میچ لاہور اور کراچی میں کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے (گرافک: پی ایس ایل)</p>\n\nکرکٹ\n\njw id:\n\np1NtsFac\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکفایت شعاری مہم: پی ایس ایل خالی میدانوں میں ہو گی\n\nپشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کرانے کا فیصلہ\n\nپی ایس ایل کی نئی فرنچائز ’حیدر آباد ہیوسٹن کنگز مین‘ کے نام اور لوگو کا اعلان\n\nپی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ: کیا معیار برقرار رہ سکے گا؟\n\nSEO Title:\n\nپی ایس ایل 11 آج سے: زیادہ غیر ملکی کھلاڑی عمر رسیدہ یا ریٹائرڈ مگر اہم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پی ایس ایل 11 آج سے: زیادہ غیر ملکی کھلاڑی عمر رسیدہ یا ریٹائرڈ مگر اہم"
}