{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigxqsqwrkmfvseqp6irwhofev7ioczukbzgun56tixsxwlpih5l2u",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhyipxvbmri2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreid5bhjjia7bydfejsraxufbjdsw57grp4to4ol4u62n2rfmolsmmq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 54261
},
"path": "/node/185225",
"publishedAt": "2026-03-26T07:10:28.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/1y4HsvfU69",
"March 26, 2026",
"ایرانی میزائل",
"میزائل ٹیکنالوجی",
"جنوبی کوریا",
"ایران جنگ",
"علیشا رحمٰن سرکار",
"ٹیکنالوجی",
"news",
"@ZelenskyyUa"
],
"textContent": "**جاری امریکہ ایران جنگ کے پس منظر میں شمالی کوریا کی توپ خانے کی گولہ باری روکنے کے لیے تیار کیا گیا جنوبی کوریا کا ایک میزائل نظام خلیجی ممالک کے لیے دفاعی سازوسامان میں سب سے زیادہ مطلوب نظاموں میں شامل ہو گیا ہے۔**\n\nسیول میں تیار کیا گیا درمیانے فاصلے تک زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ’چیونگ گنگ‘، جسے ’ایم سام بلاک دوم‘ بھی کہا جاتا ہے، مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات پر داغے گئے ایرانی میزائلوں کے خلاف 96 فیصد تک روک تھام کی شرح حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔\n\nنیٹو معیار کے اس میزائل روکنے والے نظام کی صلاحیتیں امریکہ کے تیار کردہ پیٹریاٹ پی اے سی تین نظام کا مقابلہ کرتی ہیں، جبکہ اس کی قیمت اس کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ اسی وجہ سے عرب ممالک اس دفاعی نظام کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔\n\nجنوبی کوریا کے وزیر خزانہ کو یون چیول نے بلومبرگ نیوز کو بتایا کہ ’مشرق وسطیٰ کے ممالک اس وقت جنوبی کوریا کے میزائل خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ وہ جنوبی کوریا سے ہتھیار اس لیے طلب کر رہے ہیں کیونکہ ان کی درستگی بہت زیادہ ہے اور یہ نوے فیصد سے زیادہ کامیابی کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔‘\n\nتاہم وزیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے ممالک اضافی فراہمی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔\n\nیہ تصویر 25 ستمبر 2017 کو لی گئی ہے، جس میں ایک جنوبی کوریائی فوجی کو پیٹریاٹ PAC-2 میزائل سسٹم کے پاس کھڑا دکھایا گیا ہے ( جنگ یون-جے / اے ایف پی)\n\n\n\n\nاگرچہ پیٹریاٹ اور ٹرمنل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) جیسے نظام ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں نصب ہیں، مگر اب مانگ تیزی سے جنوبی کوریا کے نسبتاً سستے اور جلد فراہم ہونے والے میزائل روکنے والے نظاموں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ یہ رجحان امریکہ کے ہتھیاروں پر انحصار کم کرنے کی وسیع تر کوشش کی بھی عکاسی کرتا ہے۔\n\nمتحدہ عرب امارات وہ پہلا ملک تھا جس نے چیونگ گنگ بیٹریاں درآمد کیں اور انہیں فعال کیا۔ اس نے 2022 میں جنوبی کوریا کی کمپنیوں ایل آئی جی نیکس ون، ہانوا سسٹمز اور ہانوا ایروسپیس کے ساتھ ساڑھے تین ارب ڈالر کا معاہدہ کیا جس کے تحت دس یونٹ حاصل کیے گئے۔ اس کے بعد 2024 میں سعودی عرب اور عراق نے بھی اس فضائی دفاعی نظام کے حصول کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے۔\n\nاسی ماہ ہونے والی میزائل روک تھام کی کارروائی بیرون ملک تعینات جنوبی کوریا کے بنائے ہوئے فضائی دفاعی نظام کے جنگی استعمال کی پہلی مثال ہے۔ اس کے بعد ابوظبی نے باقی بیٹریوں کی ترسیل تیز کرنے کی کوشش کی اور الگ سے مزید 30 میزائل روکنے والے نظاموں کی درخواست بھی کی، جس کے نتیجے میں اسی ماہ ڈیگو سے فضائی ترسیل کی گئی۔\n\n> The United States has reached out to us regarding their bases in Middle Eastern countries. We’ve also been approached by Saudi Arabia, Qatar, the United Arab Emirates, Bahrain, Jordan, and Kuwait.\n>\n> We’re already working with some of them, and our expert teams are already on the… pic.twitter.com/1y4HsvfU69\n>\n> — Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) March 26, 2026\n\nتاہم سیول نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ پیداواری وعدوں کی وجہ سے وہ فراہمی کو تیز نہیں کر سکتا۔\n\nچانگ وون نیشنل یونیورسٹی میں جدید دفاعی انجینئرنگ کے پروفیسر کم ہو سونگ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ’ایران جنگ زیادہ تر میزائل داغنے اور انہیں روکنے کے گرد گھوم رہی ہے کیونکہ سیاست دان بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے خوف سے زمینی فوج بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اسی لیے میزائل مخالف دفاعی نظاموں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ایران مسلسل میزائلوں اور ڈرونز کی لہریں بھیج رہا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nچیونگ گنگ دوم بیٹری کو رفتار اور سادگی کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں چار لانچر گاڑیاں شامل ہوتی ہیں اور ہر ایک میں آٹھ لانچ ٹیوبیں ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک کثیر المقاصد ریڈار اور ایک کنٹرول مرکز بھی ہوتا ہے۔\n\nاس نظام کی زیادہ سے زیادہ حد تقریباً 40 کلومیٹر ہے اور یہ پندرہ سے بیس کلومیٹر کی بلندی سے نیچے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہی وہ بلندی ہے جہاں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون عام طور پر کام کر رہے ہیں۔\n\nرپورٹس کے مطابق ایک میزائل روکنے والے نظام کی قیمت تقریباً پندرہ لاکھ جنوبی کوریائی وون یعنی تقریباً دس لاکھ ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ کی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ پیٹریاٹ پی اے سی تین میزائل تقریباً 40 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔\n\nجہاں پی اے سی تین نظام کی فراہمی میں چار سے چھ سال لگ سکتے ہیں، وہیں جنوبی کوریا کی کمپنی ایل آئی جی نیکس ون، اگرچہ بڑی تعداد میں پہلے سے آرڈرز کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، مگر پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور دوہری شفٹوں کے ذریعے نو سے بارہ ماہ کے اندر پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔\n\nنومورا کے تجزیہ کار ایون ہوانگ کے مطابق لاک ہیڈ مارٹن نے کہا ہے کہ وہ دو ہزار تیس تک سالانہ پیداوار دو ہزار یونٹ سے زیادہ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ اس سال پیداوار تقریباً چھ سو پچاس یونٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔\n\nجنوبی کوریا کے میزائل روکنے والے نظام ایرانی میزائلوں کے خلاف خاص طور پر مؤثر اس لیے ہیں کیونکہ تہران اور پیانگ یانگ 1980 کی دہائی سے میزائل ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرتے رہے ہیں۔\n\nمثال کے طور پر ایران کا شہاب تین بیلسٹک میزائل شمالی کوریا کے نوڈونگ میزائل کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔\n\nماہرین خبردار کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں حالیہ روک تھام کی کامیابیاں اس بات کی ضمانت نہیں کہ جنوبی کوریا کا میزائل دفاعی نظام شمالی کوریا کے حملے کے خلاف بھی اتنا ہی مؤثر ثابت ہوگا۔\n\nایشین انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی سٹڈیز کے محقق یانگ اُک نے کوریا ٹائمز کو بتایا کہ ’ایران کے پرانے میزائل شمالی کوریا کے میزائلوں سے مشابہ ہیں، مگر شمالی کوریا کے تازہ نظام کہیں زیادہ جدید ہیں۔ کے این تئیس اور کے این چوبیس جیسے میزائل بچاؤ کی چالیں چل سکتے ہیں جبکہ ایران کے اس حالیہ حملے میں استعمال ہونے والے میزائلوں میں یہ صلاحیت موجود نہیں تھی۔‘\n\nجنوبی کوریا نے گذشتہ چار برسوں میں تقریباً پچپن ارب ڈالر کی دفاعی فروخت ریکارڈ کی ہے اور اس وقت اسلحے کی برآمدات میں دنیا بھر میں دسویں نمبر پر ہے۔ ان برآمدات میں چیونگ گنگ میزائل نظام کے علاوہ کے دو بلیک پینتھر مرکزی جنگی ٹینک اور کے نو تھنڈر خودکار توپ بھی شامل ہیں۔\n\nکوریا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ کو اسلحہ برآمدات 2019 میں تقریباً 240 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 740ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، یعنی پانچ برسوں میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔\n\nسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جنوبی کوریا اس وقت دنیا کا نواں بڑا اسلحہ برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے اور عالمی منڈی میں اس کا حصہ تقریباً تین فیصد ہے۔\n\nدو ہزار اکیس سے 2025 کے درمیان سیول کی دفاعی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد پولینڈ کو گیا، جس نے روس اور یوکرین جنگ کے ردعمل میں اپنے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔\n\nایرانی میزائل\n\nمیزائل ٹیکنالوجی\n\nجنوبی کوریا\n\nایران جنگ\n\nایران جنگ میں کامیابی کے بعد عرب ممالک جنوبی کوریا کے نسبتاً سستے مگر ممکنہ طور پر زیادہ مؤثر میزائل روکنے والے نظام حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔\n\nعلیشا رحمٰن سرکار\n\nجمعرات, مارچ 26, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یہ تصویر 25 ستمبر 2017 کو لی گئی ہے، جس میں ایک جنوبی کوریائی فوجی کو پیٹریاٹ PAC-2 میزائل سسٹم کے پاس کھڑا دکھایا گیا ہے ( جنگ یون-جے / اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکی رپورٹ مسترد، ہمارا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا: پاکستان\n\nپاکستانی میزائلوں کو خطرہ قرار دینے والی تلسی گیبرڈ انڈیا نژاد نہیں\n\nشمالی کوریا نے 10 سے زیادہ میزائل داغ دیے: جنوبی کوریا\n\nاب تک 172 بیلسٹک میزائل، 755 ڈرونز گرائے: متحدہ عرب امارات\n\nSEO Title:\n\nعرب ممالک جنوبی کوریا کا فضائی دفاعی نظام کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/east-asia/south-korea-middle-east-iran-war-patriot-cheongung-missile-b2944305.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "عرب ممالک جنوبی کوریا کا فضائی دفاعی نظام کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟"
}