{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifrnes7xgrqd4tqgdstekf37mcwsdhlzrlaj266pu7ypmfy37zzt4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhvksjrayqj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigf63c4d6icpawxwqghkafr6tho2lnqxkpdbhyldgfbqtuuauoyie"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 145785
  },
  "path": "/node/185216",
  "publishedAt": "2026-03-25T15:01:38.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاک افغان تعلقات",
    "افغانستان",
    "پاکستان",
    "جنگ",
    "سیز فائر",
    "حملہ",
    "اموات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**افغانستان میں طالبان حکومت کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل اور بدھ کو مشرقی افغانستان پر پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے حملوں میں دو شہری مارے گئے۔**\n\nافغانستان اور پاکستان کئی مہینوں سے اسلام آباد کے اس دعوے پر لڑ رہے ہیں کہ کابل اپنی سرزمین پر سرحد پار سے حملوں کے پیچھے عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے۔ افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔\n\nفرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بتایا کہ صوبہ کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ضیاالرحمن نے بتایا کہ ناری ضلعے میں توپ خانے کی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا۔\n\nتاہم پاکستان کا اس مبینہ حملے سے متعلق کوئی تبصرہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔\n\nضیاالرحمٰن کے بیان میں مزید کہا گیا کہ کنڑ کے سرکانی ضلع میں افغان فورسز نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا جبکہ پاکستانی فورسز نے توپ خانے سے فائرنگ اور ڈرون حملے کیے، جس میں مزید ایک شہری جان سے گیا۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے کچھ دور دراز علاقوں کے ناقابل رسائی ہونے کے پیش نظر، آزادانہ طور پر اور فوری طور پر اموات کی تعداد کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدونوں فریقوں نے رمضان کے اختتام پر عید الفطر کی تعطیل پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو پیر کی شام کو ختم ہوگئی۔\n\nیہ جنگ بندی 16 مارچ کو کابل میں منشیات کی بحالی کے ایک مرکز پر پاکستانی حملے کے بعد ہوئی جس میں افغان حکام کے مطابق 400 سے زائد افراد جان سے گئے۔\n\nافغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے پیر کو کہا کہ ان کی تحقیقات کے ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 143 اموات اور 119 زخمی ہوئے، لیکن ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔\n\nاقوام متحدہ کے ایک ٹول کے مطابق منشیات کی بحالی کے مرکز پر حملے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 26 فروری کو لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے کم از کم 76 افغان شہری مارے جا چکے ہیں۔\n\nپاک افغان تعلقات\n\nافغانستان\n\nپاکستان\n\nجنگ\n\nسیز فائر\n\nحملہ\n\nاموات\n\nمحکمہ اطلاعات و ثقافت کنڑ کے ضیاالرحمن نے کہا کہ افغان فورسز نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا اور جوابی کارروائی میں ایک شہری جان سے گیا جبکہ دوسری موت الگ مقام پر ہوئی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 25, 2026 - 20:00\n\nMain image:\n\n> <p>17 مارچ، 2026 کو کابل پر پاکستانی فضائی حملے کے بعد طالبان کے سکیورٹی اہلکار اس جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغانستان سے رہائی پانے والا امریکی شہری ابوظبی پہنچ گیا\n\nفائر بندی کے باوجود پاکستان کے حملے میں ایک موت: افغانستان\n\nافغانستان میں آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: عطا تارڑ\n\nافغانستان میں یوناما کے مینڈیٹ میں محض تین ماہ کی توسیع\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کے حملے میں دو افغان شہری مارے گئے: طالبان حکومت کا دعویٰ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان کے حملے میں دو افغان شہری مارے گئے: طالبان حکومت کا دعویٰ"
}