{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicy6xpsah2u4ln7c2nwbuoridhhfxeufyqj5pwqilqcntrdkxymuy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhupyhlvsj42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifmyes3egpka5sxfnk4ql7aakbmy7ikz77cjxpbrpmm4ozd5pyrvq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86185
  },
  "path": "/node/185211",
  "publishedAt": "2026-03-25T07:00:07.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ایران کے خلاف جنگ",
    "امریکی فوجیوں",
    "ایران پر امریکی حملہ",
    "امریکی فوج",
    "ایران",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ معاہدے کی باتوں کے باوجود امریکہ ایلیٹ ’82 ایئر بورن ڈویژن‘ کے ہزاروں فوجیوں کو ایران کے خلاف جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔**\n\nایسوسی ایٹڈ پریس، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز نے اس بارے میں رپورٹیں جاری کی ہیں، تاہم فوجیوں کی تعداد ہر جگہ مختلف ہے اور ایک ہزار سے لے کر چار ہزار تک کی تعداد بتائی گئی ہے۔\n\nروئٹرز نے اس معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اضافی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے، جس سے ایرانی سرزمین کے اندر فوج اتارنے سمیت دیگر فوجی آپشنز کو وسعت ملے گی۔ اس ممکنہ اضافے سے تنازع کے داؤ پر لگے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں، جو پہلے ہی اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو کر عالمی منڈیوں کو ہلا چکا ہے۔\n\nحکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فوجی امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں مقیم ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کب پہنچیں گے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس ہمیشہ تمام فوجی آپشنز موجود ہوتے ہیں۔‘\n\nنیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اس ایلیٹ 82 ایئر بورن ڈویژن کو ایران کے اہم ترین تیل کے مرکز جزیرہ خارگ پر قبضے کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔\n\nاس سے قبل 20 مارچ کو ہزاروں میرینز اور ملاحوں کو جنگی بحری جہاز ’یو ایس ایس باکسر‘ کے ذریعے خطے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔\n\nتازہ کمک سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**82 ایئر بورن ڈویژن کیا ہے؟**\n\nفوری ردِعمل کی صلاحیت\n\nیہ ڈویژن ایک ایسی بریگیڈ پر مشتمل ہے جو دنیا میں کہیں بھی محض 18 گھنٹوں کے اندر پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔\n\nپیرا شوٹ دستے\n\nاس ڈویژن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ راتوں رات فضائی راستے سے مطلوبہ جگہ پر اتارے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان کا ایک نقصان یہ ہے کہ ان کے پاس بھاری بکتر بند گاڑیاں نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے ایرانی جوابی حملے کی صورت میں انہیں خطرہ ہو سکتا ہے۔\n\nجزیرہ خارگ پر ممکنہ حملہ\n\nمنصوبہ بندی کے مطابق، پہلے میرینز جزیرے کے تباہ شدہ ایئر فیلڈ کی مرمت کریں گے، جس کے بعد 82 ایئر بورن کے دستے وہاں پہنچ کر مستقل کنٹرول سنبھال لیں گے۔ میرینز کے پاس طویل عرصے تک وہاں رکنے کی سکت نہیں ہوتی، اس لیے ایئر بورن ڈویژن انہیں ریلیف فراہم کرے گی۔\n\nماضی کا تجربہ\n\nیہ ایلیٹ فورس حالیہ برسوں میں کئی بار مختصر نوٹس پر تعینات کی جا چکی ہے، جن میں جنوری 2020 میں بغداد سفارت خانے پر حملے کے وقت مشرقِ وسطیٰ روانگی، 2021 میں کابل سے انخلا اور 2022 میں یوکرین جنگ کے دوران مشرقی یورپ میں تعیناتی شامل ہے۔\n\nایران پر امریکی حملہ\n\nامریکی فوج\n\nایران\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nذرائع کے مطابق اس ایلیٹ فوجی دستے کو ممکنہ طور پر ایران کے جزیرہ خارگ پر قبضے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 25, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی ایلیٹ 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے فوجی دو جون 2023 کو امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nMvgIBEqU\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسفارتکاری کو رازداری کی ضرورت، نتائج کے لیے سرکاری اعلان کا انتظار کریں: پاکستانی دفتر خارجہ\n\nایرانی جزیرے خارگ پر ’محض تفریح کے لیے حملے کریں گے‘: ٹرمپ\n\nکیا امریکہ ایران کے تیل کے اہم مرکز جزیرہ خارگ پر حملہ کرے گا؟\n\nپاکستان امریکہ ایران جنگ میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے: برطانوی اخبار\n\nSEO Title:\n\nہزاروں ایلیٹ امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے پر غور: امریکی میڈیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ہزاروں ایلیٹ امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے پر غور: امریکی میڈیا"
}