{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiftxj2pfkdcj7yvu4vl6na7kjpcjb35tqaijorxobzagru6gt4z6m",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhtsvsbpetq2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreic2pv56moldw7fb5n5xvn56xreo5p72uc4qk7wszn5yiylkew7y6i"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 114209
},
"path": "/node/185192",
"publishedAt": "2026-03-24T01:50:38.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"روایتی کھیل",
"قدیم کھیل",
"خیبر پختونخوا",
"شازیہ نثار",
"کھیل",
"video"
],
"textContent": "**چندرو بچپن کا وہ کھیل ہے جو صرف چند لکیر نما خانوں، پالش کے خالی ڈبے یا پھر پتھر کے ایک گول ٹکڑے کی مدد سے کھیلا جاتا، تب نہ کوئی مہنگا کھلونا ہوتا، نہ سکرین کی چمک، بس ایک پتھر، کچھ لکیریں، اور چند سہیلیاں ہی خوشی کے لیے کافی تھیں مگر اب یہ علاقائی کھیل خواب بنتا جا رہا ہے۔**\n\nچندروں، صدیوں پرانا ایک روایتی کھیل ہے اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے کھیلا جاتا ہے۔\n\nایک اندازے کے مطابق اس کھیل نام ہیں تاہم سات خانے ہونے کی وجہ سے اردو میں اس کھیل کو سات سمندر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کھیل کے مقبول ناموں میں چیچو، شٹاپو اور چندرو شامل ہیں۔ چندرو خاص طور پر لڑکیوں میں بہت مقبول رہا ہے عموماً سات سے 14 سال کی بچیاں یہ کھیل اپنے گھر کے صحن یا گلیوں میں کھیلا کرتی تھیں۔\n\nکھیل کے لیے زمین پر چاک یا مٹی سے مخصوص خانے بنائے جاتے، جن میں ایک پتھر یا مٹی سے بھری خالی ڈبی اچھال کر، ایک پاؤں پر چھلانگیں لگاتے ہوئے خانے پار کیے جاتے۔ اگر کسی کھلاڑی کا پاؤں لکیر پر آ جائے یا پتھر غلط جگہ گرے تو وہ کھلاڑی ’آؤٹ‘ ہو جاتی اور باری اگلی کھلاڑی کی ہوتی۔\n\nیہ کھیل نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ جسمانی صحت، توازن اور مہارت کا امتحان بھی ہے۔ بچیوں کی پھرتی، ذہانت اور ہم آہنگی اس کھیل میں خوب نکھرتی ہے جو لڑکی تمام خانے کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے وہ ’بادشاہ‘ قرار پاتی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمگر جدید ٹیکنالوجی، سکرینز اور برقی کھلونوں کی وجہ سے یہ سادہ مگر بھرپور کھیل ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چندروں، جیسے بے شمار کھیل اب صرف کہانیوں، یادوں یا بزرگوں کی باتوں میں ہی باقی رہ گئے ہیں۔\n\nعلاقائی کھیلوں کو معدوم ہونے سے بچانے والے سوشل ورکر سلطان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کھیلوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش اپنی آنے والی نسلوں کو ان خوبصورت اور صحت بخش کھیل کھود کی طرف لانا ہے جو سادہ مگر مفید ہیں۔\n\nسلطان خان کا مزید کہنا ہے کہ چندرو میں کھیل کے رولز سب سے پہلے سیٹ کیے جاتے تھے تو پھر کھیلنے کے دوران اگر کوئی تنازعہ آ جاتا تو اس مسئلے کو بھی پھر انہیں رولز کے مطابق کھلاڑی خود حل کرتیں۔\n\n’اس سے بچیوں کو مسائل کے حل کا بھی سبق ملتا ہے اور اگرعام زندگی میں کبھی کوئی مسئلہ آ جائے، کوئی تضاد آ جائے یا کوئی جھگڑا تو اس کو حل کرنے کی صلاحیت بچی میں ہوتی ہے۔\n\nان کا کہنا ہے کہ ’آج کل ہمارے ہاں چونکہ موبائل، کمپیوٹر لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس کی وجہ سے بچوں کا سکرین ٹائم بڑھ گیا ہے اور فزیکلی ایکٹیوٹی کم ہو گئی تو میری اپنی تمام بہنوں، بیٹیوں سے یہ گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو علاقائی و عوامی کھیلوں سے روشناس کرائیں تاکہ ہماری بچے کھیل کھود کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی طور پر ایک صحت مند زندگی گزارسکیں اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔‘\n\nچندرو کھیلنے والی 13 سالہ ایشما کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ سکول سے واپس آتی ہے تو اپنی بہنوں اور سہیلیوں کے ساتھ چندرو کھیلتی ہے۔\n\nپاکستان\n\nروایتی کھیل\n\nقدیم کھیل\n\nخیبر پختونخوا\n\nچندروں، صدیوں پرانا ایک روایتی کھیل ہے اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے کھیلا جاتا ہے۔\n\nشازیہ نثار\n\nمنگل, مارچ 24, 2026 - 06:45\n\nMain image:\n\n> <p>انڈپینڈنٹ اردو</p>\n\nکھیل\n\njw id:\n\nZr8t5xYs\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکشمیری ثقافت کی نشانی تلواروں والا کھیل ’گتگا‘ معدومیت کا شکار\n\nروایتی کھیل ’مخہ‘ کے لیے مضبوط اعصاب کا ہونا ضروری\n\nکالا باغ میں ’کسوٹی‘ کے کھیل کو نئے انداز میں زندہ کرنے کی کوشش\n\nبسنت اب کروڑوں کا نہیں اربوں روپے کا کھیل\n\nSEO Title:\n\nخیبر پختونخوا: لڑکیوں میں مقبول مگر معدوم ہوتا کھیل ’چندرو‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "خیبر پختونخوا: لڑکیوں میں مقبول مگر معدوم ہوتا کھیل ’چندرو‘"
}