{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicxyui5brwyu557unv2rkvhqe53cicgilctep74t2ygjm46kiehbi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhtsuzkc6fp2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihv3xnjycy3ueectuf2j75aq3ny3nbdfdqha52ek4ojklapdju5oa"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 68907
  },
  "path": "/node/185197",
  "publishedAt": "2026-03-24T07:38:37.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "صحت",
    "ڈبلیو ایچ او",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کی حکومت اور عالمی ادارہ صحت نے منگل کو ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تپِ دق (ٹی بی) سے ملک میں روزانہ 140 اموات ہوتی ہیں جبکہ ملک میں سالانہ لگ بھگ 6 لاکھ 70 ہزار افراد متاثر ہوتے ہیں۔**\n\nدنیا بھر میں 24 مارچ کو ٹی بی سے متعلق آگاہی کا دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس بیماری کے اثرات سے متعلقہ عوامی آگاہی اور اس وبائی مرض کے خاتمے کی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی کوشش ہوتا ہے۔\n\nاس دن کی مناسبت سے پاکستان کی وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں ہر سال ٹی بی سے 51 ہراز اموات ہوتی ہیں اور دنیا میں پاکستان ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔‘\n\nبیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر روز اس مرض میں 1,800 سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور ٹی بی سے ہر زور 140 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔\n\nوزارت صحت کے مطابق ٹی بی ایک قابلِ علاج بیماری ہے اور اس کی بروقت تشخیص اور علاج جانیں بچانے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’عوام کو ملک بھر میں موجود 2,000 سے زائد سرکاری و نجی مراکز سے رجوع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جہاں مفت تشخیص اور علاج دستیاب ہے۔‘\n\nاس دن کی مناسبت سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ دور حاضر میں بھی ٹی بی متعدی امراض میں سر فہرست ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک سنگین صحت، سماجی اور معاشی چیلنج بنا ہوا ہے۔\n\nیہ مرض خاص طور پر کمزور طبقات کو متاثر کرتا ہے اور غربت، غذائی قلت اور عدم مساوات کی صورت میں صحت، سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب کرتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس مرض سے متعلق ’معاشرتی سٹیگما کو ختم کیا جائے، بروقت تشخیص کی ترغیب دی جائے اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی تنظیمیں، محققین، نجی شعبے کے طبی ادارے کو شامل کیا جائے۔‘\n\nعالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے بیان میں کہا کہ تپ دق سے ہونے والی والی اموات روکی جا سکتی ہیں ’کیونکہ ٹی بی قابلِ علاج ہے۔ اس کا خاتمہ ممکن ہے اور ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام جاری رکھے گا۔‘\n\nپاکستان\n\nصحت\n\nڈبلیو ایچ او\n\nپاکستان کی وزارت صحت اور ڈبلیو ایچ او نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ملک میں ہر سال ٹی بی سے 51 ہراز اموات ہوتی ہیں اور دنیا میں پاکستان ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مارچ 24, 2026 - 12:15\n\nMain image:\n\n> <p>نئی دہلی میں 4 نومبر 2024 کو ایک ڈاکٹر مریض کے ایکس رے کا جائزہ لے رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکراچی: ہتھنیوں کو روزانہ 400 سے زائد اینٹی ٹی بی گولیاں دی جا رہی ہیں\n\nکوئٹہ: ڈیڑھ صدی قدیم ٹی بی ہسپتال کے وارڈز تاحال فعال\n\nوادی نیلم کے گاؤں میں ٹی بی کا مرض کیوں پھیل رہا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nپاکستان میں ٹی بی سے روزانہ 140 اموات: وزارت صحت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان میں ٹی بی سے روزانہ 140 اموات: وزارت صحت"
}