{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreichlwjpgzctgcp75w3nyuk2rks7iaahw2zqky4bbmsq7cfzv3zusi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhr3pijhjmn2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigcbhihutkco4rvch2ihpoxeystfg24tbwdzqgvokreivmuqhgiza"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 102311
  },
  "path": "/node/185183",
  "publishedAt": "2026-03-23T02:57:30.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "عید",
    "غزہ",
    "افغانستان",
    "ایران جنگ",
    "غربت",
    "جنگ",
    "مسائل",
    "جویریہ صدیق",
    "بلاگ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**شوال کا چاند تو پورے عالم اسلام کے لیے طلوع ہوا، لیکن عید کی خوشیاں منانا ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔**\n\nدیکھا تو غزہ کے بچوں نے بھی اس چاند کو ہو گا لیکن عید منانے کے لیے ان کے پاس کچھ خاص نہیں۔\n\nہمت، بہادری اور جذبہ ایمانی ان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے، پر اسرائیل کے مسلسل تین سال سے ہونے والے مظالم سے غزہ راکھ کا ڈھیر بن گیا ہے۔\n\nان بچوں کے پاس نہ عید کے نئے کپڑے ہیں، نہ عید کے لوازمات، نہ ہی سر چھپانے کے لیے مکمل گھر۔\n\nکچھ اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے میں رہ رہے ہیں اور کچھ کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔ اوپر سے اسرائیلی جارحیت، گولی باری، میزائل اور جان کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔\n\nایسے میں چاند دیکھ کر فلسطین کے بچے نے کیا مانگا ہو گا؟ اس کو سویاں، عید کا جوڑا یا کھلونا نہیں بلکہ صاف پانی، پیٹ بھر کھانا، سکون کی زندگی، اپنے اہل خانہ کی سلامتی اور اپنا وطن واپس چاہیے ہوگا۔\n\nان کے پاس امید ہے لیکن وسائل موجود نہیں۔ اسرائیل رفح بارڈر بند کرکے امدادی سامان بھی ان تک نہیں جانے دیتا۔ کاش دنیا ان بچوں کے کرب کو پہلے ہی محسوس کر لیتی تو آج ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں نہ آتی۔\n\nسب اسرائیل کی مدد کرنے کی بجائے اس کے مظالم کی مذمت کرتے، اسے اسلحہ نہ دیتے، امریکہ کو اس خطے میں فوجی اڈے نہ دیتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔\n\nپر اب اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے بعد پورا مشرق وسطیٰ اور جنوب ایشیا خطرے میں ہے۔\n\nاس کے معاشی اور فرقہ وارانہ کیسے نتائج نکلیں گے، یہ دنیا کے امن پر کیسے اثر انداز ہوں گے، یہ آنے والے دن خود بتائیں گے۔\n\nعید کا چاند تو ایران میں بھی نکلا ہوگا لیکن جو بچے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں لقمۂ اجل بنے تھے، کیا ان کے گھروں میں عید ہوگی؟\n\nنہیں، ایسا نہیں۔ ان ننھوں کے یونیفارم، کتابیں سب گھر پر والدین کے پاس ہیں، بس بچے منوں مٹی تلے سو گئے۔\n\nان پر کیا گزر رہی ہوگی، یہ لکھنے کے لیے قلم اور انگلیوں کو آنسوؤں میں ڈبونا پڑے گا۔ شاید الفاظ اس غم کا احاطہ نہیں کر سکتے جو ان والدین پر بیتی۔\n\nاس خطے پر بلاوجہ جنگ مسلط کر دی گئی۔\n\nعید کا چاند دیکھ کر وہ کیا خوشیاں منا رہے ہوں گے؟ کچھ بھی نہیں۔ کوئی اپنے پیارے کا دکھ منا رہا ہوگا، کوئی گھر کا ملبہ سمیٹ رہا ہوگا، کسی کے روزگار کی جگہ میزائل سے تباہ ہو گئی ہوگی اور وہ کوڑیوں کا محتاج ہو گا۔\n\n22 مارچ، 2026 کو کوئٹہ کے مضافات میں عید الفطر کے دوران بچے جھولے پر کھیل رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایران ایک بہادر قوم ہے، جیسے فلسطین، لیکن طویل جنگ معاشرت کو تباہ کر دیتی ہے۔ اگر جنگ کچھ عرصہ اور چلی تو ایران میں اشیائے خوردونوش کا بحران پیدا ہو جائے گا۔\n\nصاف پینے کا پانی، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت ہو جائے گی۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں آئیں گے۔ تیل کی ترسیل کم ہونے سے دنیا بھر میں مہنگائی ہوگی۔\n\nایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کی لپیٹ میں مشرق وسطیٰ بھی آ گیا ہے۔ چاند تو وہاں بھی نکلا ہو گا، پر اس بار وہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے ہمارے پرامن شہر اور جدید علاقے میزائلوں کی زد میں آ گئے۔\n\nوہاں کے عوام بھی بے چینی اور خوف محسوس کر رہے ہیں۔ اس جنگ کو فوری طور پر رکنا چاہیے۔ اگر یہ جنگ پھیل گئی تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔\n\nچاند تو افغانستان میں بھی نکلا ہوگا، لیکن چار دہائیوں سے جنگ میں مبتلا افغان باشندوں نے کیا عید منائی ہوگی؟ وہاں نہ کوئی نظام ہے، نہ سہولیات۔\n\nبس سب نے اس خطے کو اپنے مطابق استعمال کیا اور اسے بنجر کر کے چھوڑ گئے۔ تمام عالمی طاقتیں اپنے مفاد کی جنگ لڑ کر اس خطے اور اس کی مظلوم عوام کو اکیلا چھوڑ گئیں۔\n\nوہاں نہ صحت کی سہولیات ہیں، نہ تعلیم کی، نہ کوئی انفراسٹرکچر ہے۔ امن و امان نہیں، گروہ بندی ہے، قبائل ہیں۔\n\nبچے اور عورتیں ظلم کا شکار ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کو جنگ بندی کرکے امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔\n\nسب کو ان کی مظلوم عوام، بچوں، بچیوں اور خواتین کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، جنہیں عالمی طاقتیں تنہا چھوڑ گئیں۔\n\nچاند تو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بھی نکلا ہوگا، جہاں انڈیا مظالم آج بھی جاری ہیں۔ نئی دہلی نے ان کی جداگانہ حیثیت ختم کرکے ماضی قریب میں وہ مظالم ڈھائے جن کی مثال نہیں ملتی۔\n\nنیٹ بند تھا، کرفیو لگا تھا اور کشمیریوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا، پر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔\n\nمسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے، لیکن معاملہ ابھی حل طلب ہے۔\n\nروہنگیا کے مسلمان کشتیوں پر دربدر رہے، انہوں نے بھی چاند دیکھا ہو گا، پر عید منانے کے وسائل اور اسباب نہیں ہوں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nشام، لیبیا، یمن اور صومالیہ میں بھی شوال کا چاند تو نکلا ہو گا، لیکن کیا مسلمانوں کے لیے عید ہوئی ہوگی؟\n\nپاکستان کی آبادی کا بھی ایک بڑا طبقہ غربت کی لکیر کے نیچے ہے۔\n\nچاند تو یہاں بھی نکلا، لیکن بہت سے لوگوں کی عید نہیں ہوئی۔ یہ وہ طبقہ ہے جن کی ساری زندگی دو وقت کی روٹی کمانے میں نکل جاتی ہے۔ کمرے کا کرایہ دیں، بجلی کا بل بھریں، راشن خریدیں، دوائی لیں یا مہنگا تیل—اس میں عید کیسے منائی جائے گی؟\n\nاشرافیہ خود تو کفایت شعاری کرتی نہیں۔ کبھی آئی ایم ایف تو کبھی جنگ کا نام لے کر پیٹرول مہنگا کر دیتی ہے۔\n\nسارا بوجھ عوام پر آ جاتا ہے۔ عوام کیا عید منائیں گے؟ دودھ، سویاں اور نئے کپڑے تو دسترس میں ہی نہیں۔\n\nپردیس میں بھی چاند نکلا ہوگا، لیکن پاکستانی مزدور وطن کو یاد کرکے دکھی ہو گئے ہوں گے۔\n\nکاش کہ ملک میں روزگار کے مواقع ہوتے تو یوں گھر سے دور نہ جانا پڑتا۔\n\nاس بیوہ نے بھی عید کا چاند دیکھا، جس کے ہاتھ شوہر کی زندگی میں چوڑیوں اور مہندی سے مزین ہوتے تھے۔\n\nاب ہاتھ خالی ہیں، آنکھوں میں اداسی ہے، زندگی ویران ہے اور ناانصافی کی وجہ سے چاند کی روشنی اور عید کی خوشیاں اس کی دہلیز تک نہیں پہنچیں۔\n\nچاند تو ہر سُو نکلا، پر ہر کسی کی عید نہیں ہوئی۔\n\nعید\n\nغزہ\n\nافغانستان\n\nایران جنگ\n\nغربت\n\nجنگ\n\nمسائل\n\nشوال کا چاند دنیا بھر میں طلوع ہوا مگر اس کی خوشیاں سب کے حصے میں نہیں آئیں۔\n\nجویریہ صدیق\n\nسوموار, مارچ 23, 2026 - 08:30\n\nMain image:\n\n> <p>6 جون، 2025 کو غزہ کی پٹی میں عید الاضحیٰ کے پہلے دن فلسطینی اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nبلاگ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان میں عید: فلسطین، کشمیر سے اظہار یکجہتی\n\nپاکستان میں اویغور مسلمانوں کی روایتی عید تقریبات\n\nمتعدد ممالک میں عید، فلسطینی مسجد الاقصیٰ میں نماز نہ پڑھ سکے\n\nSEO Title:\n\nچاند تو نکلا مگر عید سب کی نہیں تھی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "چاند تو نکلا مگر عید سب کی نہیں تھی"
}