{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifh3kfw7yrk2lqzes27ggsh2v3dudfqwfndrsj53btkmi6iocijnq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhr3pefnqab2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidkrddfferlh6ha4zvvov4zy3zyuaavpcjuwhixa62qj42v3kmbmm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 64678
},
"path": "/node/185098",
"publishedAt": "2026-03-23T03:25:43.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"helenkirwan.jpg",
"خون",
"خون کی بیماری",
"برطانیہ",
"علاج",
"کوورنا وائرس",
"ہیلن کراون ٹیلر",
"فٹنس",
"video"
],
"textContent": "**امریکی اداکارہ اور لائف سٹائل گرو گوینتھ پالٹرو اور میرے درمیان چند چیزیں مشترک ہیں، سب سے اہم یہ کہ ہم دونوں طویل، دردناک اور مستقل کوویڈ کی علامات سے متاثر ہوچکے ہیں۔ مختصراً: ہمیں تھکاوٹ اور سوزش (انفلی میشن) کا سامنا ہے (جو درد اور دماغی فوگ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے)۔**\n\nسالہا سال سے میں نے ان کے کئی پروٹوکولز کو دیکھا (اور آزمایا ہے)، جیسے کہ کیٹو ڈائیٹ اور انفراریڈ سونا کا استعمال، اب تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا۔\n\nلیکن پھر میں نے شکاگو میں ان کے خون دھونے یا صفائی (بلڈ واشنگ) کے علاج کے بارے میں پڑھا۔\n\nیہ ایک طبی طریقہ کار ہے جسے ایفیریسس کہا جاتا ہے جو ناصرف انتہائی مہنگا ہے بلکہ میرے ساتھی مریضوں کی کمیونٹی میں بھی کافی متنازع ہے۔\n\nیہ پلازما ایکسچینج اور پلازما فلٹرنگ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، جس کے بارے میں کچھ نیا نہیں۔\n\nیہ طبی طریقہ کار 1950 اور 60 کی دہائیوں کا ہے اور اب یہ برطانیہ کے قومی صحت پرورگام این ایچ ایس پر آٹو ایمیون بیماریوں کے لیے شامل علاجوں میں سے ہے۔\n\nلیکن اب، جیسا کہ ہر چیز میں ہوتا ہے، طویل عمر کی خواہش مند کمیونٹی نے منافع کے حصول کے لیے اسے اپنایا ہے۔ اس کا مقصد کسی خاص بیماری کا علاج نہیں بلکہ عمر بڑھانا ہے۔\n\nان کا موقف ہے: یہ مائیکروپلاسٹکس، سوزش اور زہریلے مادے نکالتا ہے اور آپ کے جسم کو برسوں پیچھے لے جاتا ہے (بغیر کسی ثبوت کے، ظاہر ہے، جب تک کہ ایسا شخص 200 سال تک نہ جیے اور اس کے بعد بھی ہم کیسے جانیں گے کہ یہ اسی کی وجہ سے ہوا؟)\n\nپالٹرو نے اعتراف کیا کہ وہ شکاگو میں ایک کلینک گئیں جہاں انہوں نے پلازما ایکسچینج کا علاج کروایا، جس کی قیمت 36,000 برطانوی پاونڈز (تقریباً ایک کروڑ 34 لاکھ پاکستانی روپے) تھی۔\n\nان کے مسائل (جو انہوں نے پوسٹ کیے) مسلسل تھکاوٹ، دماغی دھند، ’کرانک چیزیں‘ تھیں جیسا کہ انہوں نے کہا۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنی کلیرٹی اور ہلکے پن پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا وہ ’عمدہ‘ محسوس کر رہی ہیں۔\n\nانہوں نے جو بات نہیں کی کہ ان سے پہلے بہت سے طویل کوویڈ کے مریض – لوگ جن سے میں نے آن لائن بات چیت کی ہے – خطرناک سفر کر کے غیر ملکی کلینک گئے، جہاں ہمیشہ اتنے معیاری معالج یہ پلازما ایکسچینج پیش نہیں کرتے تھے۔\n\nمیں ان فیس بک صفحات کو قریب سے دیکھتی ہوں، کلینک کے نام نوٹ کرتے ہوئے اور ان کی فالو اپ کہانیاں (جو اچھی نہیں ہوتیں)۔\n\nمیں نے پڑھا ہے کہ لوگ کیتھیٹر لگانے کی جگہ کے گرد شدید انفیکشن کا شکار ہو گئے اور اس کے نتیجے میں بیمار ہو گئے؛ الیکٹرولائٹ توازن کا ذکر بھی ہوا، کچھ مریض اس کی وجہ سے بستر پر رہنے لگے۔\n\nخون پتلا کرنے والے بھی اس میں شامل ہیں۔ میں نے عہد کیا کہ میں انتظار کروں گی اور دیکھوں گی، جیسا کہ میں کسی بھی نئے ’ٹویکمنٹس‘ کے ساتھ کرتی ہوں، جب تک کہ یہ اتنی عام نہ ہو جائے کیونکہ تعداد میں حفاظت ہوتی ہے۔\n\n## helenkirwan.jpg\n\nاب زیادہ فلمی ستارے جیسے اورلینڈو بلوم بھی اپنے خون سے مائیکروپلاسٹکس نکالنے کے لیے نئے ہارلی سٹریٹ جیسے مقامات پر دھو رہے ہیں، جن میں کلیرٹی کلینک بھی شامل ہے (بلوم نے خود اپنا علاج انسٹاگرام پر پوسٹ کیا)۔\n\nاور میں پالٹرو کی کہانی سے متاثر ہوئی، اس لیے میں نے ایک ڈاکٹر دوست سے پوچھا کہ لندن میں ایسی بہترین جگہ کون سی ہے۔\n\nاس نے جواب دیا ’ری بورن لونگیویٹی۔‘ تو میں فائے مائتھن، کنسلٹنٹ سی ای او سے ملنے گئی تاکہ یہ مشورہ کیا جا سکے کہ کیا پالٹرو کے لیے کام کرنے والی چیز میرے لیے بھی کام کر سکتی ہے یا نہیں۔\n\nایک انتہائی شان دار، چمک دار اور پانچ ستارہ ہوٹل کے دبئی جیسی ماحول میں، انہوں نے اپنی جدید پلازما ایکسچینج مشین کی وضاحت کی جس کا نام سپیکٹرا آپٹیا ہے، جس کی تعداد برطانیہ میں 300 ہے، تقریباً سب این ایچ ایس اور بوپا ہسپتالوں میں ہیں۔\n\n(این ایچ ایس کے لفظ کا یہاں استعمال مثبت تسلی ہے، حالانکہ یہاں صرف ان بہت سنگین مسائل کے لیے یہ استعمال ہوتی ہے جہاں خطرناک اینٹی باڈیز یا زہریلے مادے نکالنے کی ضرورت یا طبی طور پر اشارہ ہوتا ہے)۔\n\nانہوں نے کھل کر جواب دیا: ری بورن لونگیویٹی میں، انہیں پہلے میرے تمام مارکرز کی شناخت مخصوص خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کرنی ہوگی۔ پھرایمان داری سے انہوں نے کہا ’ٹی پی ای کوئی علاج نہیں۔‘\n\nیہ ان لوگوں کے لیے ہو سکتا ہے جو ہسپتال میں شدید کوویڈ کے ساتھ ہیں (جہاں مہلک وائرس کا بوجھ فوری طور پر کم کیا جا سکتا ہے) لیکن ان لوگوں کے لیے جیسے میں، جن کے علامات مسلسل بدلتے رہتے ہیں اور جن کے خون کے نمونے عام طور پر بالکل ٹھیک آتے ہیں (اور ری بورن میں بھی آیا)، کوئی ضمانت نہیں تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاگرچہ اسے محفوظ سمجھا جاتا ہے، یہ ہلکا سر چکرانا یا، بدتر، مدافعتی کمزوری جیسے ضمنی اثرات کے بغیر بھی نہیں ہے۔\n\nاس کی قیمت بھی ہے: ہر علاج کی قیمت 5,800 پاونڈز (تقریبا ساڑھے اکیس لاکھ روپے) ہے، ہر ایک میں کئی گھنٹے لگتے ہیں اور عموماً کئی مزید درکار ہوتے ہیں، ساتھ ہی خون کے ٹیسٹ اور آخر میں دیکھ بھال کے سیشن۔\n\nانہوں نے پھر کہا کہ اس سب کے لیے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ ایک خاص مقدار ’انتظار اور دیکھنے‘ سے آگے بڑھ کر کام کرے گا۔\n\nمیں نے مائتھن کی ایمان داری کی قدر کی اور اطمینان محسوس کیا کیونکہ بغیر کسی نتیجے کی ضمانت کے ساتھ بڑی مقدار میں خون نکالنا میرے لیے ٹھیک نہیں تھا۔\n\nتاہم یہ ایک دوست کے لیے مفید رہا تھا جو امریکہ میں وائل کارنیل میڈیکل سینٹر گئی تھیں، حالانکہ ان کی علامات اور نگران مختلف تھے (یہ ایک تشخیص شدہ خودکار بیماری تھی جس نے اس کے دماغ کو متاثر کیا۔)\n\nمجھے کمزور کہو، لیکن اگر میں ایک ایسے علاج کا سامنا کرنے والی ہوں جو شدید بیماریوں کے لیے تیار کیا گیا ہے اور جس میں اپنے پلازما کو نکالنا اور پھر دوبارہ لگانا شامل ہے، تو میں چاہوں گی کہ یہ ایک ایسے ہسپتال میں ہو جہاں تجربہ کار ماہر ڈاکٹر ماسک میں موجود ہوں۔\n\nطویل عمر کی کلینک کے ساتھ جن کی اب لندن میں کافی تعداد موجود ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ سجاوٹ میں بھاری اور دوا میں ہلکے لگتے ہیں – دوسرے الفاظ میں، وہاں سکرب میں بہت کم مرد یا عورتیں ہیں۔\n\nایسا لگتا ہے کہ ٹی پی ای (تھراپیٹک پلازما ایکسچینج) کو بے رحمانہ طویل عمر کی خواہاں کمیونٹی نے ہائی جیک کر لیا ہے (جو اکثر نجی ایکویٹی کے ذریعہ چلائی جاتی ہے)، جو صحت مند لوگوں کو ایسی چیزیں پیش کرنا پسند کرتی ہیں جو عام طور پر بہت بیمار (اور پہلے موٹے) لوگوں کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔\n\nپھر، یقیناً ایسے ایتھلیٹک حلقوں میں پلازما ایکسچینج کے سائے دار پہلوؤں کی سرگوشیاں ہیں جہاں خون نکالا جاتا ہے، ذخیرہ کیا جاتا ہے، پھر دوبارہ لگایا جاتا ہے (شاید مشکوک مادے ملا کر) تاکہ سرخ خلیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے اور کارکردگی کو بڑھایا جا سکے۔\n\n(کم عمر لوگوں کے ساتھ خون کے تبادلے کی کوششیں نوجوانی کی مایوس کن تلاش کے دوران اب تک شان دار طور پر ناکام رہی ہیں۔)\n\nایک ہلکی قسم کا خون دھونا پہلے ہی وسیع پیمانے پر دستیاب ہے، جسے اوزون تھراپی کہا جاتا ہے (گوینتھ بھی وہاں گئی ہیں)، جہاں آپ کا خون نکالا جاتا ہے اور اوزونائڈز کے ساتھ ملایا جاتا ہے تاکہ ظاہری طور پر متعدد مسائل کو کم کیا جا سکے (جیسے لائم بیماری، جسے کچھ ڈاکٹر طویل کوویڈ کی جڑ سمجھتے ہیں)۔\n\nمیں نے اب تک 15 اس طرح کے علاج کیے ہیں، جن کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔\n\nحقیقت میں، تقریبا تمام ’طویل عمر‘ کی ٹیکنیکس جو میں نے آزمایا ہے (پانچ گھنٹے طویل NAD IV وغیرہ) بے فائدہ ثابت ہوئی ہیں۔ اور اگر آپ بیمار نہیں ہیں، تو اس کا کیا فائدہ؟\n\nیہ یقیناً اب بھی ابتدائی دن ہیں۔ مجھے شک ہے کہ خون دھونا مستقبل میں طویل عمر کے شکار لوگوں کے لیے علاج کا ایک انتخاب بن جائے گا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو دائمی بیماریوں، آٹو ایمون کنڈیشنز اور الزائیمر سے نمٹنے کے خواہاں ہیں – جب ڈیٹا مستحکم ہو جائے۔\n\nاب کے لیے، میں ایک تجربے کے طور پر GLP1s کو مائیکروڈوز سطح پر آزما رہی ہوں (کچھ اس کو سوزش کم کرنے کے لیے بہترین سمجھتے ہیں)، جانتے ہوئے کہ اگر یہ ناکام ہو جائے تو میرا پرس محفوظ رہے گا۔\n\nخون\n\nخون کی بیماری\n\nبرطانیہ\n\nعلاج\n\nکوورنا وائرس\n\nطویل عمر کی خواہش مند کمیونٹی نے منافع کے حصول کے لیے اسے اپنایا ہے۔ اس کا مقصد کسی خاص بیماری کا علاج نہیں بلکہ عمر بڑھانا ہے۔\n\nہیلن کراون ٹیلر\n\nسوموار, مارچ 23, 2026 - 09:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">گوینتھ پالٹرو 15 مارچ 2026 کو ہالی وڈ، کیلیفورنیا میں ڈولبی تھیٹر میں 98ویں آسکرز کی تقریب میں شرکت کر رہی ہیں (آرتورو ہومز / اے ایف پی)</p>\n\nفٹنس\n\njw id:\n\nQ7VKPFLM\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nرومیوں سے ہٹلر تک: نسلی برتری کا وہ خونی سفر جس نے جرمنی کو برباد کر دیا\n\nکیا ٹیٹو بنوانے سے خون کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟\n\nخون کا یہ ٹیسٹ سرطان کی 50 سے زائد اقسام کا پتا چلا سکتا ہے\n\nخود کو سانپوں سے ڈسوانے والے امریکی شخص کا خون تریاق ہو سکتا ہے\n\nSEO Title:\n\nکیا ڈیڑھ کروڑ روپے کا بلڈ پلازما علاج عمر بڑھا سکتا ہے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.the-independent.com/life-style/gwyneth-paltrow-blood-plasma-treatment-b2939405.html?loginSuccessful=true\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "کیا ڈیڑھ کروڑ روپے کا بلڈ پلازما علاج عمر بڑھا سکتا ہے؟"
}