{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibhxm5oi75665dipypz4z3vfavaxfcw53utxwy6mk6qfgg36tccxu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhr3ogagz6r2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihz44wbevumquoq3q7hw4xgcpnq2egpplfd6ioayq7dipxhsnm3zq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 172875
  },
  "path": "/node/185190",
  "publishedAt": "2026-03-23T13:18:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/el2AqQ7F6a",
    "March 23, 2026",
    "لندن",
    "یہودی",
    "کیئر سٹارمر",
    "ایمبولینس",
    "اے ایف پی",
    "یورپ",
    "news",
    "@Keir_Starmer"
  ],
  "textContent": "**برطانوی پولیس نے پیر کو کہا کہ وہ ایک یہودی تنظیم کے زیر انتظام چلنے والی رضاکار ایمبولینسوں کو آگ لگائے جانے کے بعد ایک مشتبہ آتش زنی کے واقعے کی یہود مخالف ہیٹ کرائم کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔**\n\nلندن میں ان چار گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے بارے میں ہم اب تک جو جانتے ہیں وہ یہ ہے، جس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی افسوس ناک یہود مخالف آتش زنی کا حملہ‘ قرار دیا ہے۔\n\nلندن فائر بریگیڈ نے کہا کہ انہیں رات ایک بج کر 40 منٹ پر (0140 جی ایم ٹی) شمالی لندن کے ایک علاقے گولڈرز گرین کے ہائی فیلڈ کورٹ میں گاڑیوں میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، جہاں یہودیوں کی ایک بڑی آبادی مقیم ہے۔\n\nجائے وقوعہ پر بلائے گئے تقریباً 40 فائر فائٹرز نے دیکھا کہ گاڑیوں پر موجود کئی سلنڈر پھٹ چکے ہیں، جس سے ملحقہ بلاک کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔\n\nلندن کی میٹروپولیٹن پولیس فورس نے بتایا کہ جلنے والی گاڑیاں چار ہٹزالہ (Hatzalah) ایمبولینسیں تھیں جو یہودی کمیونٹی ایمبولینس سروس کی تھیں۔\n\nپولیس نے مزید کہا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور تمام جگہوں پر آگ بجھا دی گئی ہے۔\n\nاحتیاط کے طور پر قریبی گھروں کو خالی کروا لیا گیا جبکہ علاقے کی کچھ سڑکیں بند کر دی گئیں۔\n\nپولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’آتش زنی کے اس حملے کو یہود مخالف ہیٹ کرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘\n\nسپرنٹنڈنٹ سارہ جیکسن نے کہا، ’ہم سی سی ٹی وی کا جائزہ لے رہے ہیں اور آن لائن فوٹیج سے بھی آگاہ ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم اس ابتدائی مرحلے میں تین مشتبہ افراد کی تلاش میں ہیں۔‘\n\nتاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبرطانیہ میں یہود دشمنی کی نگرانی کرنے والے ایک فلاحی ادارے کمیونٹی سکیورٹی ٹرسٹ (سی ایس ٹی) نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ وہ پولیس کی تفتیش میں مدد کر رہا ہے۔\n\nلندن فائر بریگیڈ نے بھی کہا کہ وہ آگ لگنے کی وجہ کی تفتیش کر رہے ہیں۔\n\nسٹارمر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی ’ہمدردیاں اس یہودی کمیونٹی کے ساتھ ہیں جو آج صبح اس خوفناک خبر کے ساتھ بیدار ہوئی ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا، ’ہمارے معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہے،‘ اور بعد ازاں برطانیہ کی کمیونٹیز پر زور دیا کہ ’ایسے وقت میں سب مل کر کھڑے ہوں۔‘\n\nشومرم نارتھ ویسٹ لندن، جو ایک فلاحی ادارہ اور رضاکار نیبرہڈ واچ گروپ ہے، نے اس آتش زنی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’ٹارگٹڈ اور انتہائی تشویش ناک واقعہ قرار دیا ہے جس نے مقامی یہودی کمیونٹی کی خدمت کرنے والی ایک اہم ایمرجنسی سروس کو متاثر کیا ہے۔‘\n\nگروپ نے فیس بک پر لکھا، ’ان ایمبولینسوں پر حملہ ہماری کمیونٹی کی حفاظت، فلاح اور استقامت پر حملہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہود دشمنی یا نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘\n\nیہ ایمبولینسیں ہٹزالہ چلاتی ہے، جسے 1979 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے رضاکار چلاتے ہیں۔\n\n> The antisemitic arson attack in Golders Green is horrifying.\n>\n>  I’ve been in touch with Jewish community leaders this morning and will continue to do so throughout the day.\n>\n>  An attack on our Jewish community is an attack on us all. We will fight the poison that is antisemitism. pic.twitter.com/el2AqQ7F6a\n>\n> — Keir Starmer (@Keir_Starmer) March 23, 2026\n\nیہ شمالی لندن میں رہنے والوں کو مفت طبی آمدورفت اور ہنگامی امداد فراہم کرتی ہے۔\n\nبرطانیہ کے چیف ربی، افرائیم میروس نے ایکس پر کہا، ’ہماری ہٹزالہ رضاکار ایمبولینس کور ایک غیر معمولی سروس ہے، جس کا واحد مقصد زندگی کا تحفظ کرنا ہے، خواہ وہ یہودی ہو یا غیر یہودی۔‘\n\n’دہشت گردی، نفرت اور زندگی کی بے حرمتی کے لیے اس قدر پرعزم لوگوں کی جانب سے ہٹزالہ کو نشانہ بنانا، ان لوگوں کے درمیان جاری جنگ کی ایک انتہائی تکلیف دہ مثال ہے جو زندگی کو مقدس مانتے ہیں اور جو اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔‘\n\nنگرانی کرنے والے گروپس نے حالیہ برسوں میں برطانیہ میں یہود مخالف اور اسلامو فوبک واقعات میں اضافے کی اطلاع دی ہے، خاص طور پر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران۔\n\nسی ایس ٹی نے گذشتہ سال برطانیہ بھر میں یہود مخالف نفرت کے 3,700 واقعات ریکارڈ کیے، جو 2024 کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہیں، لیکن 2023 کے مقابلے میں کم ہیں۔\n\nگروپ نے اس حملے کو بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں ہونے والے حالیہ اسی طرح کے واقعات سے تشبیہ دی جہاں سکولوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔\n\nیہودی کمیونٹی تنظیم کے لیے کام کرنے والے 36 سالہ ایڈم واٹرز نے حملے کی جگہ کے قریب اے ایف پی کو بتایا، ’مجھے اس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی کہ یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والی چیز ہے۔‘\n\nلندن\n\nیہودی\n\nکیئر سٹارمر\n\nایمبولینس\n\nوزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی افسوس ناک یہود دشمن آتش زنی کا حملہ‘ قرار دیا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nسوموار, مارچ 23, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">23 مارچ 2026 کو لندن میں کے ایک پارکنگ لاٹ میں ایک یہودی ادارے کی جلی ہوئی ایمبولنسیں (اے ایف پی)</p>\n\nیورپ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nلندن میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے پر خاتون گرفتار\n\nلندن میں فلسطینی سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح\n\nمانچسٹر: یہودی عبادت گاہ پر حملہ، دو افراد ’پولیس فائرنگ‘ سے زخمی ہوئے\n\nSEO Title:\n\nیہودی ایمبولینسوں پر حملے کی ہیٹ کرائم کے طور پر تفتیش: برطانوی پولیس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "یہودی ایمبولینسوں پر حملے کی ہیٹ کرائم کے طور پر تفتیش: برطانوی پولیس"
}