{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidsqkh3ftmvjofovz2mdr6bruucq7xdr46xd6nbt6wul5yxswz5ke",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhn3q2xvgve2"
  },
  "path": "/node/185173",
  "publishedAt": "2026-03-22T05:13:00.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "بن یامین نتن یاہو",
    "ایران",
    "اسرائیل",
    "امریکہ",
    "مشرق وسطیٰ",
    "ڈونلڈ میکنٹائر",
    "زاویہ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے عادی افراد نے، جن میں بن یامین نتن یاہو بھی شامل ہیں، اس ہفتے ان ٹرینڈنگ افواہوں کے خوب مزے لیے کہ اسرائیلی وزیر اعظم موجودہ ایران جنگ میں کسی طرح مارے جا چکے ہیں۔**\n\nیقیناً اسرائیل میں سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے سربراہ اس وقت سیاسی اور جسمانی، دونوں لحاظ سے اس سے زیادہ صحت مند اور متحرک نہیں ہو سکتے تھے۔\n\nیہاں تک کہ اب اس بات کو تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے اور بجا طور پر، جیسا کہ میں نے 10 دن قبل دلیل دی تھی کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی مشترکہ جنگ شروع کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔\n\nاس بارے میں ہمارے پاس مارکو روبیو کا بیان موجود ہے کہ امریکہ اس حملے میں اس لیے شامل ہوا کیوں کہ اسرائیل بہرحال حملہ کرنے والا تھا۔\n\nہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نتن یاہو کم از کم اس صدی کے آغاز سے ایسا کرنا چاہتے تھے، لیکن جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور جو بائیڈن نے یکے بعد دیگرے ان کا راستہ روکا۔\n\nیہ بات بھی نمایاں ہے کہ ٹرمپ، ایک ایسے امریکی سیاست دان کے طور پر جو نتن یاہو کی قائل کرنے والی صلاحیتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، شروع ہی سے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے نیتن یاہو کے ہدف سے متفق تھے، اس طرح کہ روبیو اور نام نہاد سیکریٹری برائے جنگ پیٹ ہیگسیتھ متفق نہیں تھے۔\n\nجیسا کہ اوباما دور صدارت میں قومی سلامتی کے سابق نائب مشیر بین روڈز نے سوالیہ انداز میں پوچھا ’کیا ہم واقعی مانتے ہیں کہ نتن یاہو کی غیر موجودگی میں امریکہ اس جنگ میں شامل ہوتا؟‘\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سات مارچ، 2026 کو فلوریڈا میں خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاس کے باوجود یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے اور کیا نہیں؟ یہ نظریہ کہ نتن یاہو مسلسل اس جنگ کے ماسٹر مائنڈ ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے بالکل میل کھاتا ہے کہ وہ اس ہفتے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کے حملے کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں جانتے تھے۔\n\nیہ بات ان کے لیے سیاسی طور پر مددگار ہے کیوں کہ اس حملے نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔\n\nتاہم، دونوں دفاعی اداروں کے درمیان بے مثال تعاون کو دیکھتے ہوئے، یروشلم اور واشنگٹن ڈی سی دونوں میں حکام اور ماہرین ٹرمپ کے اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔\n\nہاں یہ ممکنہ طور پر تباہ کن حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔ لیکن جیسا کہ باخبر ڈین شاپیرو، جو اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ہیں اور اب اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک میں ہیں، نے اس ہفتے اصرار کیا کہ ’ٹرمپ کو اس کی خبر تھی اور انہوں نے حملے کی منظوری دی تھی۔ اب انہیں احساس ہوا ہے کہ اس سے کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔‘\n\nاسی طرح ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کا قتل اسرائیل کے اس عقیدے کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتا کہ کسی تحریک کے رہنماؤں کو ختم کرنے سے اسے شکست دی جا سکتی ہے۔\n\nایران کے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی سفارتی مذاکرات میں لاریجانی کا کلیدی کردار ہو سکتا تھا۔\n\nلیکن اس بات میں کوئی سچائی ہو یا نہ ہو، یہ خیال تقریباً ناقابل فہم ہے کہ اسرائیل نے انہیں خود اپنی مرضی سے نشانہ بنایا۔\n\nمزید یہ کہ اس جنگ کو شروع کرنے میں نتن یاہو کے یقینی کردار پر انہیں مورد الزام ٹھہرانے کا مطلب امریکہ میں کچھ انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والوں کی انتہا پسندانہ سوچ کی حمایت کرنا نہیں، جن میں ٹرمپ کے نامزد کردہ جو کینٹ بھی شامل ہیں جنہوں نے جنگ کے خلاف احتجاجاً اپنے کاؤنٹر انٹیلی جنس کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔\n\nکینٹ حقائق کی بنیاد پر یقیناً درست تھے جب انہوں نے کہا کہ ’ایران سے ہماری قوم کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔‘\n\nلیکن وہ یہ بے بنیاد دعویٰ کرنے میں بالکل غلط تھے کہ اسرائیل نے امریکہ کو 2003 کی عراق جنگ میں بھی 'گھسیٹا' تھا۔\n\nاسرائیل اس جنگ سے بڑی حد تک الگ تھلگ رہا، باوجود اس کے کہ اس پر عراق کی جانب سے حملے ہوئے، اور درحقیقت اس وقت کے وزیر اعظم ایریل شیرون نے کہا تھا کہ یہ ’غلط جنگ‘ ہے جو ایران کی بجائے عراق کے خلاف لڑی گئی۔\n\nانہیں بدقسمتی سے سفید فام قوم پرست اور یہود مخالف تجزیہ کار نک فوینٹس کی طرف سے تعریف کے لیے بھی چنا گیا۔\n\nاس سے یہ حقیقت نہیں بدلتی کہ یہ اب بھی بڑی حد تک ٹرمپ کی پسند کی جنگ ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ اب تک امریکہ کے مقابلے میں اسرائیل میں کہیں زیادہ مقبول ہے، جس کی وجہ سے شاید نیتن یاہو یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اس مقبولیت کا کچھ حصہ اپنی موجودہ کمزور انتخابی ریٹنگز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔\n\nاس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایرانیوں کو آیت اللہ کے بدترین ظلم سے آزاد کرانے کا ان کا قابل ستائش، اگرچہ فی الحال بظاہر دور رس، ہدف فلسطینیوں کے لیے اس جیسی کسی چیز میں دلچسپی نہ ہونے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔\n\nلیکن یہ ٹرمپ ہی ہیں جنہوں نے اس سب پر ہامی بھری، اور کم از کم ایران کے معاملے پر، نتن یاہو کی بات نہ ٹالنے والے پہلے امریکی صدر بننے کا فیصلہ کیا۔\n\nیہ ٹرمپ ہی ہیں جو ایک ایسی جنگ کو، جسے بظاہر وہ ختم کرنا نہیں جانتے، کسی نئے ویڈیو گیم سے کھیلنے والے ایک لڑاکا بچے کی طرح لے رہے ہیں، اور محض ’تفریح کے لیے‘ خارگ کی تیل کی تنصیب پر دوبارہ بمباری کی دھمکی دے رہے ہیں۔\n\nیہاں تک کہ جو لوگ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نتن یاہو نے ٹرمپ کو دباؤ میں لا کر جنگ میں دھکیلا، اس سے بھی امریکی صدر بری الذمہ نہیں ہو جاتے۔\n\nجیسا کہ بین روڈز نے خود زیٹیو ویب سائٹ کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں مزید کہا ’ڈونلڈ ٹرمپ ذمہ دار ہیں۔ دراصل میرا نہیں خیال کہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ یہ سب نتن یاہو کا کیا دھرا ہے۔\n\n’نہیں، یہ وہ شخص ہے جو ہمیں جنگ میں لے کر گیا۔ وہ نیتن یاہو کو انکار کر سکتے تھے۔‘\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nبن یامین نتن یاہو\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nمشرق وسطیٰ\n\nبن یامین نتن یاہو کے بارے میں آن لائن افواہوں کے باوجود شواہد بتاتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف لڑائی میں ذاتی طور پر منظوری دی تھی۔\n\nڈونلڈ میکنٹائر\n\nاتوار, مارچ 22, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 دسمبر، 2025 کو فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنے مار-ا-لاگو کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے مصافحہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nزاویہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران - اسرائیل جنگ اور ماحول کی تباہی\n\nایران نے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے بجلی گھر تباہ کر دیں گے: ٹرمپ\n\nسعودی عرب کا ایرانی فوجی اتاشی، چار سفارتی ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم\n\nنطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ\n\nSEO Title:\n\nامریکی جنگی مشین ٹرمپ کے کنٹرول میں یا نتن یاہو کے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/voices/netanyahu-trump-strike-gas-fields-iran-war-b2942819.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکی جنگی مشین ٹرمپ کے کنٹرول میں یا نتن یاہو کے؟"
}