{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidwx3nniq5rdusjcdue7dytovxtraucftxlfbkkwunisob25d242y",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhmuykrokme2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihxd2t36pnzsvxffzlym2xxdl4t23z4o2mnbrylbjox2xefg7hphe"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 69210
  },
  "path": "/node/185171",
  "publishedAt": "2026-03-22T04:06:39.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران",
    "اسرائیل",
    "امریکہ",
    "ماحول",
    "جنگ",
    "آمنہ مفتی",
    "بلاگ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**مشرق وسطیٰ اور ایران دونوں ہی قدیم سرزمینیں ہیں، وہ سرزمینیں، جہاں انسان نے کھیتی باڑی کی، شہر بسائے، قانون لکھے، انہی زمینوں پہ خدا نے پیغمبر بھیجے، صحیفے اتارے۔**\n\nیہیں کے رہنے والوں نے خدا کے نبیوں کا پیغام سنا بھی، جھٹلایا بھی، ان ہی کو نوید سنائی گئی اور جب یہ سرکش ہوئے تو ان ہی کو وعید سنائی گئی اور یہ پھر بھی باز نہ آئے تو ان ہی سرزمینوں پہ عذاب بھی نازل ہوئے۔\n\nیہ عذاب کبھی ریت کے طوفان تھے تو کبھی سیلاب، کبھی ٹڈی دل تو کبھی وبائی امراض، کبھی ظالم حاکم تھے اور کبھی خشک سالی۔\n\nشہر کے شہر ویران ہوئے، تہذیبیں اجڑ گئیں اور آج ان لوگوں کے بارے میں بتانے والا کوئی نہیں۔ ماسوائے، صحیفوں اور ان تختیوں اور پتھروں کے جن پہ ان کی داستانیں ثبت رہ گئیں، سرکشی کی داستانیں۔\n\nسلطنت عثمانیہ کا زوال، مشرق وسطی کی بدنصیبی کے دور کا آغاز تھا۔ جنرل ایلن بی کی فتوحات کے بعد اس خطے میں بدامنی کی جو میخ ٹھونکی گئی اس کا بھگتان آج پوری دنیا بھگت رہی ہے۔\n\nجو آج ایران اسرائیل تنازع ہے، یہی عرب اسرائیل تنازع تھا اور ممکن ہے کچھ عرصے بعد یہ پھر سے عرب اسرائیل تنازع بن جائے اور عرب ایران تنازع بھی بن سکتا ہے۔\n\nجنگوں میں وجہ ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ جنگ انسان کی جبلت میں ایسی شے ہے جسے آپ نوع کا اپنی ہی نوع سے مقابلہ کہہ سکتے ہیں۔ جب انواع بقا کی جنگ لڑتی ہیں تو، دوسری انواع سے مقابلہ کرتی ہیں۔\n\nانسان یہ جنگ جیت چکا ہے۔ آج نوع انسانی ایک ایسی نوع ہے جس کا وجود خطرے میں نہیں مگر اس کے وجود سے ہر ایک نوع خطرے میں ہے۔ جہاں ایک نوع دوسری انواع سے مقابلہ کرتی ہے وہیں ایک نوع کے اندر بھی برتری کے لیے مقابلہ ہوتا ہے۔\n\nسو صاحبو! مشرق وسطی میں یہ مقابلہ جاری ہے، قدیم صحیفوں میں جن بستیوں کے مٹ جانے کی داستانیں بیان کی گئی ہیں ان ہی سے اپنا تعلق جوڑ کے نیا آدمی، بوڑھے آدم کا بیٹا، پھر سے بستیاں اجاڑ رہا ہے۔\n\nکون غلط ہے کون درست، زمانہ یہ نہیں دیکھتا۔ تاریخ میں صرف مٹ جانے والی قوموں کا تذکرہ ملتا ہے، ان پہ نوحے بھی نہیں پڑھے جاتے۔ صرف تذکرہ۔\n\nیہ جنگ جو پہلے سے موسمی تبدیلیوں کی شکار دنیا کو مزید تیزی سے ایک ایسی تبدیلی کی طرف لے جا رہی ہے جس سے انسانوں کا بچنا ممکن نہیں۔ جنگ رکنی چاہیے۔\n\nجنگ اس لیے رکنی چاہیے کہ یہ جنگ اگر نہ رکی تو دنیا کا ماحول برباد ہو جائے گا اور دنیا میں صرف انسان نہیں رہتے۔\n\nانسان جب ایک دوسرے کے مسکنوں پہ حملہ کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ کتنے پرندے اپنے گھونسلوں میں جل بھن جائیں گے، کتنی مچھلیاں مریں گی اور گھونگھوں کی کتنی نسلیں معدوم ہو جائیں گی۔\n\nخارگ، کشیم اور ہرمز کے جزائر پہ رہنے والے ہرنوں کا اس جنگ سے کیا تعلق؟ نہ ہی راس الخیمہ اور فجیرہ کے ساحلوں پہ اڑنے والے سمندری بگلے اس مصیبت کو سمجھ سکتے ہیں۔\n\nپرندے تو اتنے نازک ہوتے ہیں کہ گرج چمک سے ان کے گھونسلوں میں رکھے انڈے خراب ہو جاتے ہیں، ان پرندوں کے مسکنوں کے قریب انسانوں کو لڑنے کا حق کس نے دیا؟\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجنگ پھیل رہی ہے۔ سمندروں اور جزیروں کو نگلتے نگلتے مشرق وسطی سے نکل کے بحر ہند کے ڈیگو گارشیا تک پہنچ چکی ہے۔\n\nجنگ پھیلے گی اور مالدیپ کے کورل ریف کو نگل جائے گی، سری لنکا کے سمندروں کے صدف بانجھ ہو جائیں گے، ہمالیہ کی چوٹیوں سے برف پگھلے گی اور سیلاب ہمارے میدانوں کو نگل جائیں گے۔\n\nکیا جنگ کا طبل بجانے سے پہلے کسی نے یہ سوچا کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں؟ کون سا مسئلہ میز پہ حل نہیں ہو سکتا؟ پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے کون سے مسائل حل کر دیے؟\n\nان دو جنگوں میں ملک برباد ہوئے تھے اور انسان مرے تھے، ملک پھر سے آباد ہو گئے اور انسانی آبادی پھر بڑھ گئی لیکن کیا زمین کا ماحول برباد ہونے کے بعد دوبارہ تعمیر ہو سکے گا اور ناپید ہونے والے جانور دوبارہ پیدا ہو سکیں گے؟\n\nجنگ رکنی چاہیے، ورنہ صحیفوں میں جو مرقوم ہے وہ عیسائیوں، یہودیوں، مسلمانوں، رومن کیتھولک، مرمن، پروٹسٹنٹ، اوینجلیکل، سب ہی نے خوب پڑھا ہوا ہے۔ بعد میں صرف تذکرہ رہ جاتا ہے اور کبھی کبھی وہ بھی نہیں۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nماحول\n\nجنگ\n\nامریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ موسمی مسائل کی شکار دنیا کو مزید تیزی سے ایسی طرف لے جا رہی ہے جس سے انسانوں کا بچنا ممکن نہیں۔\n\nآمنہ مفتی\n\nاتوار, مارچ 22, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p>ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی دو کارکن آٹھ مارچ، 2026 کی رات تہران کے شهران آئل ریفائنری پر ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد بھڑکنے والی آگ کے قریب موجود ہیں(اے ایف پی)</p>\n\nبلاگ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران نے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے بجلی گھر تباہ کر دیں گے: ٹرمپ\n\nسعودی عرب کا ایرانی فوجی اتاشی، چار سفارتی ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم\n\nنطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ\n\nایران جنگ سے متعلق مصنوعی ذہانت سے بنی ویڈیوز کی بھرمار\n\nSEO Title:\n\nایران - اسرائیل جنگ اور ماحول کی تباہی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ایران - اسرائیل جنگ اور ماحول کی تباہی"
}