{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia2gh23xa5q56jvfzin4bgrkxa7tc2h7dado2hdrkx233nwexxoha",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhmoahva7h72"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibhyaephxc6c5fvsuha4odxhuciawjh63bcntcciqho2vdhdpfalu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 78503
  },
  "path": "/node/185169",
  "publishedAt": "2026-03-22T02:13:47.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "اسرائیل",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "سعودی عرب",
    "روئٹرز",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**سعودی عرب نے ایران کے فوجی اتاشی، ان کے معاون اور سفارت خانے کے تین ارکان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر مملکت چھوڑ دیں۔**\n\nسعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایران کے سعودی علاقے پر مسلسل حملوں کے باعث اٹھایا گیا۔\n\nحکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب سینکڑوں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں آیا، جن میں سے اکثریت کو روک لیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی طرف سے جاری حملے مزید کشیدگی کا باعث بنیں گے اور موجودہ و مستقبل کے تعلقات پر ’سنگین اثرات‘ مرتب ہوں گے۔\n\nبدھ کو سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے حالیہ حملوں کے بعد مملکت کو تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق حاصل ہے اور اس پر اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔\n\nسعودی عرب اور ایران نے 2023 میں برسوں کی دشمنی کے بعد سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔\n\nامریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے بعد خلیجی ہمسایوں پر ایران کے حملوں نے مشرق وسطیٰ سے تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کو متاثر کیا ہے اور پیداوار میں وقفے پر مجبور کیا ہے۔\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nایران\n\nسعودی عرب\n\nسعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایران کے سعودی علاقے پر مسلسل حملوں کے باعث اٹھایا گیا۔\n\nروئٹرز\n\nاتوار, مارچ 22, 2026 - 07:15\n\nMain image:\n\n> <p style=\"direction:rtl\">ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قونصلر امور علی رضا بیگ‌ دلی، سعودی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر برائے قونصلر امور علی الیوسف (درمیان) اور ریاض میں ایرانی سفارت خانے کے نگران قونصلر امور حسن زرنگر (دائیں) چھ جون، 2023 کو ریاض میں ایرانی سفارت خانے کے دوبارہ افتتاح کی تقریب میں شریک ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران پر ’اعتبار مکمل ختم‘، فوجی کارروائی کا حق رکھتے ہیں: سعودی عرب\n\nایران جنگ: سعودی عرب خلیجی پروازوں کا اہم مرکز بن گیا\n\nایران کا ترکی، مصر اور پاکستان پر علاقائی ہم آہنگی پر زور\n\nخلیجی ملکوں کو ایران سے عمل کی توقع، الفاظ کی نہیں\n\nSEO Title:\n\nسعودی عرب کا ایرانی فوجی اتاشی، چار سفارتی ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "سعودی عرب کا ایرانی فوجی اتاشی، چار سفارتی ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم"
}