{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreih5yxk5qoyzzuhhirnzliinqf6dbhmqgrr5yicrdoz4yxfa76hznm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhmhjejikvl2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifu44crk5bari5sms4tt7n2jbqhjmlcahr5wzsjkw3jzsouyvpf5a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 129872
},
"path": "/node/185160",
"publishedAt": "2026-03-21T18:16:44.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"March 21, 2026",
"https://t.co/fVPAYozdF4",
"pic.twitter.com/n25zPDCtLO",
"ٹرمپ",
"امریکی صدر",
"ایران",
"تہران",
"اسرائیل",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news",
"@CMShehbaz",
"@mofauae"
],
"textContent": "ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو 20 دن سے زیادہ ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس\n---\n\n* * *\n\n**رات 12 بج کر 25 منٹ: نطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ**\n\nدو ایرانی میزائل نے ہفتہ کو جنوبی اسرائیل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین ہفتوں کی جنگ کے سب سے مہلک حملے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ وزیراعظم نتن یاہو نے ’تمام محاذوں‘ پر جوابی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔\n\nان حملوں سے رہائشی عمارتوں کے سامنے زمین میں گڑھے کھود گئے۔\n\nریسکیو والوں نے کہا کہ اراد شہر میں 75 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔ چند گھنٹے پہلے، قریبی دیماونا میں 33 افراد زخمی ہوئے، جہاں اے ایف پی ٹی وی کی فوٹیج میں ملبے اور مڑے ہوئے دھات کے ڈھیر کے قریب زمین میں ایک بڑا سوراخ دکھایا گیا۔\n\nدیماونا میں ایک ایسی سہولت موجود ہے جسے مشرق وسطیٰ کے واحد جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کا مقام سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اسرائیل نے کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے ہونے کا اعتراف نہیں کیا۔\n\nاسرائیلی فوج نے اے ایف پی کو بتایا کہ دیماونا میں ’ایک عمارت پر براہ راست میزائل حملہ‘ ہوا ہے، اور متعدد مقامات پر ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں، جن میں ایک 10 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جو شیل کے زخموں کی وجہ سے تشویشناک حالت میں ہے۔\n\nایران نے کہا کہ دیماونا کو نشانہ بنانا اسرائیلی حملوں کا بدلہ ہے جو اس کے نطنز جوہری سہولت پر کیے گئے تھے۔\n\nایرانی سرکاری ٹیلی وژن کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے شہر ڈیمونا، جہاں ایک جوہری تنصیب موجود ہے، پر میزائل حملہ اس کے نطنز جوہری مرکز پر پہلے کیے گئے حملے کا ’جواب‘ ہے۔\n\nایران کی جوہری توانائی تنظیم نے کہا ہے کہ ’نطنز افزودگی کمپلیکس کو آج صبح نشانہ بنایا گیا‘، تاہم مقامی میڈیا کے مطابق کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔\n\nاے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ میزائل دیمونا میں ایک عمارت پر براہ راست گرا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔\n\nاسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 39 افراد زخمی ہوئے۔\n\nدیمونا شہر صحرائے نیگیو میں واقع ہے اور اس کے قریب اسرائیل کی ایک اہم جوہری تنصیب موجود ہے، جسے وسیع پیمانے پر مشرق وسطیٰ کا واحد غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔\n\nاے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے اجزا تیار کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔\n\nاسرائیلی فوج کے مطابق یہ تنصیب ’ملک اشتر یونیورسٹی‘ کے اندر قائم تھی، جسے ایرانی فوجی صنعتوں اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک قرار دیا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ ایرانی وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے اور اس پر عالمی پابندیاں بھی عائد ہیں۔\n\n* * *\n\n**رات 11 بج کر 15 منٹ: برطانوی اڈے ’‘جارحانہ کارروائیوں‘ کے لیے استعمال نہیں ہوں گے: قبرص**\n\nقبرص حکومت کے ترجمان کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قبرص میں برطانیہ کے فوجی اڈے ایران سے متعلق کسی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔\n\nبرطانوی وزیراعظم نے کہا کہ قبرص کی سلامتی برطانیہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اسی مقصد کے تحت پہلے سے موجود حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وسائل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔\n\nترجمان کے تحریری بیان کے مطابق کیئر سٹارمر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ قبرص میں برطانیہ کے فوجی اڈے کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ روئٹرز\n\n* * *\n\n**رات ساڑھے نو بجے: وسیع علاقائی تنازع روکنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو روکنا ضروری: ایرانی صدر**\n\nایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ جنگ اور وسیع تر علاقائی تنازعے کے خاتمے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت میں فوری روک تھام ضروری ہے۔\n\nیہ بات ایران کے انڈیا میں سفارت خانے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی۔\n\nبیان میں بتایا گیا کہ صدر پزیشکیان نے آج انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔\n\n\n\n\nبیان کے مطابق صدر پزیشکیان نے وزیر اعظم مودی کو بتایا کہ ایسی جارحیت کے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس ضمانتیں ضروری ہیں۔\n\nانہوں نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ ’برکس‘ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف جارحیت کے خاتمے کے لیے آزادانہ کردار ادا کرے۔\n\nایرانی صدر نے مغربی ایشیائی ممالک پر مشتمل ایک علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی بھی تجویز پیش کی، تاکہ بیرونی مداخلت کے بغیر خطے میں امن یقینی بنایا جا سکے۔ روئٹرز\n\n* * *\n\n**رات 8 بج کر 45 منٹ: کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے، شہباز شریف کی بحرین کے شاہ کو یقین دہانی**\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو بحرین کے شاہ حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں کہا کہ پاکستان خطے میں جاری صورت حال کے تناظر میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔\n\nانہوں نے خطے میں جاری کشیدگی، بالخصوص بحرین پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔\n\nوزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے بحرین کی جانب سے صبر و تحمل کے مظاہرے کو سراہتے ہوئے مشکل وقت میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔\n\n> Spoke with my brother His Majesty King Hamad bin Isa Al Khalifa to convey warm Eid-ul-Fitr greetings to him and the people of Bahrain.\n>\n> I reiterated Pakistan’s strong condemnation of the ongoing hostilities in the region, particularly the attacks against Bahrain, and extended my…\n\n> — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 21, 2026\n\nانہوں نے کہا کہ ’پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘\n\nوزیراعظم نے بحرین کے شاہ کو یقین دلایا کہ پاکستان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔\n\nوزیر اعظم نے اس موقع پر انہپیں عیدالفطر کی مبارک باد بھی پیش کی۔\n\nدونوں رہنماؤں نے امت مسلمہ میں اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے دعا بھی کی اور دوطرفہ و علاقائی امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔\n\n* * *\n\n**رات سات بجے: 20 ممالک کا آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان**\n\nبیس سے زائد ممالک نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس اہم سمندری راستے کو محفوظ گزرگاہ بنانے کے لیے اقدامات میں تعاون کا اعلان کیا ہے\n\nان ممالک نے ایک بیان میں کہا ’ہم ایران کی جانب سے خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں، شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں اور ایرانی فورسز کی جانب سے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘\n\nیہ 22 ممالک زیادہ تر یورپی ہیں جبکہ اس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین بھی شامل ہیں۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا ’ہم اس اہم سمندری راستے میں محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں تعاون کے لیے تیار ہیں اور ہم ان ممالک کے عزم کو سراہتے ہیں جو تیاری میں مصروف ہیں۔‘\n\n> Joint Statement on the Strait of Hormuzhttps://t.co/fVPAYozdF4 pic.twitter.com/n25zPDCtLO\n\n> — MoFA وزارة الخارجية (@mofauae) March 21, 2026\n\nامریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے نہ صرف اپنے خلیجی ہمسایوں بلکہ ہرمز میں موجود جہازوں پر بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔\n\nیکم تا 19 مارچ کے دوران اینالٹکس فرم کیپلر کے مطابق صرف 116 کمرشل جہازوں نے ہرمز کو عبور کیا، جو امن کے معمول کے اوسط کے مقابلے میں 95% کمی ہے۔\n\nایران کی عملی طور پر ہرمز کی ناکہ بندی اور مشرق وسطیٰ میں تیل و گیس کے انفراسٹرکچر پر متعدد حملوں نے توانائی کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔\n\nممالک نے مزید کہا ’ہم شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں پر فوری جامع پابندی کے لیے اپیل کرتے ہیں۔‘\n\n* * *\n\n**دن 3 بج کر 25 منٹ**\n\n**ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر حملہ، ’تابکاری نہیں ہوئی‘**\n\nایران کی سرکاری نیوز ایجنسی میزان نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ ایران کی نطنز جوہری تنصیب ایک فضائی حملے کا نشانہ بنی ہے۔ تاہم اس واقعے میں تابکاری کا کوئی اخراج نہیں ہوا۔\n\nایران کی مرکزی یورینیم افزودگی کی جگہ نطنز امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے پہلے ہفتے میں بھی حملے کا نشانہ بنی تھی اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق وہاں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔\n\nاقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے بتایا کہ اس حملے سے ’کسی قسم کے تابکاری اثرات‘ کی توقع نہیں۔\n\nیہ جوہری تنصیب تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اس سے قبل جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں اور امریکہ کے حملوں کا بھی نشانہ بن چکی ہے۔ اے پی\n\n* * *\n\n**دن 11 بج کر 25 منٹ**\n\n**متنازع جزیروں پر حملے کے سنگین نتائج ہوں گے: ایران کی یو اے ای کو تنبیہ**\n\nایران کی فوج نے ہفتے کو متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین سے خلیج میں واقع متنازع جزیروں پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں جو ایک اہم سٹریٹجک گزرگاہ ہے۔\n\nفوجی بیان کے مطابق: ’ہم متحدہ عرب امارات کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس کی سرزمین سے ایرانی جزائر ابو موسیٰ اور گریٹر تنب کے خلاف مزید کسی جارحیت کا آغاز ہوا تو ایران کی طاقتور مسلح افواج متحدہ عرب امارات کی ریاست رأس الخیمہ کو شدید حملوں کا نشانہ بنائیں گی۔‘\n\nیہ بیان ایران کے فوجی آپریشنل کمانڈ ’خاتم الانبیا‘ کی جانب سے جاری کیا گیا، جسے خبر رساں ادارے تسنیم نے نشر کیا۔\n\n* * *\n\n**صبح 10 بجے**\n\n**مشرق وسطیٰ کارروائیاں ’سمیٹنے‘ پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ**\n\nامریکہ کے صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو’سمیٹنے‘ پر غور کر رہے ہیں جب کہ امریکہ نے تیل کی فراہمی کے عالمی بحران کو روکنے کے لیے ایرانی تیل کی ترسیل پر عائد پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی کر دی ہے۔\n\nٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ ’اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ رہا ہے جب کہ ہم مشرق وسطی میں اپنی عظیم فوجی کوششوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں۔‘\n\nان کی یہ پوسٹ اب تک کا سب سے قوی اشارہ تھی کہ وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی کو جلد ختم کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔\n\nصدر ٹرمپ نے اپنے اس اہم بیان میں کہا کہ ’ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عظیم فوجی کارروائیوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ہم اپنے اہداف کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا:\n\n(1) ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور اس سے متعلق ہر چیز کو مکمل طور پر ناکارہ بنانا۔\n(2) ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کرنا۔\n(3) ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا، بشمول فضائی دفاعی نظام۔\n(4) ایران کو کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب نہ آنے دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ امریکہ کسی بھی ایسی صورتحال میں فوری اور بھرپور ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہو۔\n(5) اپنے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں — جن میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور دیگر شامل ہیں — کو اعلیٰ ترین سطح پر تحفظ فراہم کرنا۔\n\n’آبنائے ہرمز کی حفاظت اور نگرانی ان دیگر ممالک کو کرنی ہوگی جو اسے استعمال کرتے ہیں — امریکہ نہیں۔ اگر درخواست کی گئی تو ہم ان ممالک کی مدد کریں گے، لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے لیے یہ ایک آسان فوجی آپریشن ہوگا۔‘\n\n* * *\n\n**صبح 09 بج کر 25 منٹ**\n\n**سعودی عرب نے مزید 22 ڈرونز مار گرائے**\n\nسعودی وزارت دفاع نے ہفتے کو بتایا کہ سعودی عرب نے ملک کے مشرق میں 22 ڈرون روکے۔\n\nسعودی وزارت دفاع نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’مشرقی خطے میں 10 ڈرون کو روکا اور تباہ کر دیا گیا۔‘\n\nوزارت نے بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مزید 12 ڈرون مار گرائے۔\n\nٹرمپ\n\nامریکی صدر\n\nایران\n\nتہران\n\nاسرائیل\n\nمشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی ہے جب ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مارچ 21, 2026 - 23:30\n\nMain image:\n\n> <p>21 مارچ 2026 کو ایرانی میزائل حملوں کے بعد دیمونا میں تباہی کے مقام پر ہنگامی امدادی عملہ کام کر رہا ہے (روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کے پاس جنگ سے نکلنے کا موقع ہے\n\nصدر ٹرمپ نے نیٹو کو ’بزدل‘ اور ’کاغذی شیر‘ قرار دے دیا\n\nایران کا ترکی، مصر اور پاکستان پر علاقائی ہم آہنگی پر زور\n\nSEO Title:\n\nنطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "نطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ"
}