{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihpldiewgjf4gmgr2hbcd7hfsrsnoroczyrbqpca4uiinpd5dkqf4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhgz677ybqu2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreict3tb32g7el3aopxblmcttuznoig7dyan4xc5f62cmg2fjb2pqtm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86661
  },
  "path": "/node/185133",
  "publishedAt": "2026-03-19T05:12:05.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "امریکہ",
    "میزائل",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "video"
  ],
  "textContent": "**امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ کی جانب سے جاری کردہ ’سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026‘ میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔**\n\nبدھ کو جاری کردہ اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں امریکی سرزمین کو درپیش براہِ راست خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کے کٹر حریفوں یعنی روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک ہی صف میں شامل کیا گیا ہے۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگ کے ذریعے امریکہ کو ممکنہ خطرہ ہے۔\n\nتاہم اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کا ردعمل جاننے کے لیے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا ہے۔\n\nرپورٹ کے مطابق: ’پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بنیں گے۔‘\n\nیہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات غیر معمولی گرم جوشی کے دور سے گزر رہے ہیں اور امریکی صدر متعدد بار پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شہباز اور آرمی چیف آصف منیر کی تعریفیں کر چکے ہیں اور انہیں اپنا دوست قرار دیتے ہیں۔\n\n34 صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ’چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔\n\nرپورٹ میں خودکش ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں خودکش ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔\n\nرپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکہ کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی کے تنازعات کے پیشِ نظر پاکستان انڈیا تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔\n\nعلاوہ ازیں، عسکری اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں بھی پاکستان پر تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان مصر، اسرائیل، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت ان ممالک میں شامل ہے جو ’اپنے حریفوں کو اکسانے یا کمزور کرنے، یا قریبی تنازعات کا رخ اپنے حق میں موڑنے کے لیے مہلک امداد، پراکسی فورسز، یا اپنے فوجی اثاثوں کا ملا جلا استعمال کر رہے ہیں۔‘\n\n**ماضی میں پاکستانی میزائل پروگرام پر پابندیاں**\n\nماضی میں بھی امریکہ پاکستان کی میزائل پروگرام پر اعتراض اٹھاتا رہا ہے۔ 2024 میں امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی (بی آئی ایس) نے مبینہ طور پر پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کرنے والی 16 کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔ بی آئی ایس کی ویب سائٹ پر جاری ایک رپورٹ کے مطابق یہ اقدام چین، مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی 26 کمپنیوں پر پابندیاں لگانے والی ایک وسیع کارروائی کا حصہ ہے۔\n\nان کمپنیوں پر برآمدی قوانین کی خلاف ورزیوں، ہتھیاروں کے پروگراموں میں ملوث ہونے، اور ان پابندیوں سے بچنے کی کوشش کا الزام تھا، جو روس اور ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد ہیں۔\n\nاس کے جواب میں پاکستان نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل کے حوالے سے امریکی پابندیوں کو ’جانبدارانہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی‘ سمجھتا ہے۔\n\nپاکستان\n\nامریکہ\n\nمیزائل\n\nاس رپورٹ میں پاکستان کو امریکہ کے کٹر حریفوں روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, مارچ 19, 2026 - 10:15\n\nMain image:\n\n> <p>امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ نے 18 مارچ 2026 کو ’سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026‘ پیش کی (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nVEgBUDoo\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپاکستانی میزائل پروگرام خطرہ، 16 کمپنیوں پر پابندیاں: امریکہ\n\nپاکستانی میزائل پروگرام کی ’معاونت‘، مزید کمپنیوں پر امریکی پابندی\n\nامریکی پابندیاں: کیا پاکستان کا میزائل پروگرام متاثر ہو گا؟\n\nپاکستانی بیلسٹک میزائل پروگرام سے اختلاف دیرینہ پالیسی: امریکہ\n\nSEO Title:\n\nپاکستانی میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہیں: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستانی میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہیں: انٹیلی جنس رپورٹ"
}