{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidgr2iob3rr6qxrqjaa6vsgpld4nrzdsfcg5wxetonnc5edmxcsbq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhgz53hs3tu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihyhrzizwhsrmqaxlzgp4fm56uhf7icf3ffmsn7nkh4c6ugql2mra"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 85856
},
"path": "/node/185142",
"publishedAt": "2026-03-19T14:15:42.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/2DILEJKn9D",
"March 19, 2026",
"امریکہ",
"میزائل",
"دفتر خارجہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news",
"@ForeignOfficePk"
],
"textContent": "**اسلام آباد نے جمعرات کو پاکستان کی میزائل صلاحیتوں پر امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے ایک بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سٹریٹجک صلاحیتیں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔**\n\nامریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ نے ’سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026‘ میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا ہے۔\n\nبدھ کو جاری کردہ رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں امریکی سرزمین کو درپیش براہِ راست خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کے کٹر حریفوں یعنی روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک ہی صف میں شامل کیا گیا ہے۔\n\nرپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگ سے امریکہ کو ممکنہ خطرہ ہے۔\n\nاس پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جناب طاہر اندرابی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستان قطعی طور پر اس حالیہ دعوے کو مسترد کرتا ہے جو ایک امریکی اہلکار نے پاکستان کی میزائل صلاحیتوں کو ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کیا۔\n\nبیان کے مطابق ’واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سٹریٹجک صلاحیتیں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔\n\n’پاکستان کا میزائل پروگرام جو انٹرکانٹینینٹل رینج سے کہیں کم ہے، انڈیا کے مقابلے میں معتبر کم از کم رَد عمل کی حکمت عملی (Credible Minimum Deterrence) پر مبنی ہے۔ ‘\n\n> PR No.7️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣\n>\n> Statement by the Spokesperson regarding statement made by the United States Director of National Intelligence on Pakistan’s missile capabilities pic.twitter.com/2DILEJKn9D\n>\n> — Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) March 19, 2026\n\nبیان میں مزید کہا گیا ’اس کے برعکس انڈیا کی 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کی میزائل صلاحیتوں کی ترقی ایک ایسی سمت میں ہے جو صرف علاقائی سلامتی کے دائرہ کار سے آگے بڑھتی ہے اور یقینی طور پر پڑوسی ممالک اور خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔‘\n\nبیان کے مطابق ’پاکستان امریکہ کے ساتھ تعمیراتی تعامل جاری رکھنے کا خواہاں ہے، جو باہمی احترام، غیر امتیازی رویہ، اور حقائق کی درستگی پر مبنی ہو۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’ہم پر زور دیتے ہیں کہ امریکہ ایک متوازن اور غور و فکر پر مبنی رویہ اختیار کرے جو جنوبی ایشیا کی سٹریٹجک ضروریات کے مطابق ہو اور خطے میں امن، سلامتی، اور استحکام کو فروغ دے۔‘\n\nتلسی گیبرڈ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ ’پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بنیں گے۔‘\n\nیہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات غیر معمولی گرم جوشی کے دور سے گزر رہے ہیں اور امریکی صدر متعدد بار پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شہباز اور آرمی چیف آصف منیر کی تعریفیں کر چکے ہیں اور انہیں اپنا دوست قرار دیتے ہیں۔\n\n34 صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے ’چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘\n\nرپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔\n\nرپورٹ میں خودکش ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں خودکش ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔\n\nامریکہ\n\nمیزائل\n\nدفتر خارجہ\n\nپاکستان نے اپنی میزائل صلاحیتوں پر امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سٹریٹجک صلاحیتیں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, مارچ 19, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p>23 مارچ، 2023 کو اسلام آباد میں پاکستان کے یوم دفاع کے موقعے پر بیلسٹک میزائل شاہین کی نمائش کی جا رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستانی میزائلوں کو خطرہ قرار دینے والی تلسی گیبرڈ جو انڈیا نژاد نہیں\n\nپاکستانی میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہیں: انٹیلی جنس رپورٹ\n\nمیزائل کے بعد دھواں ہمارے گھروں سے بھی اٹھ رہا ہے\n\nسعودی عرب: ڈیفنس شو میں آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والا ’سمیش‘ میزائل متعارف\n\nSEO Title:\n\nامریکی رپورٹ مسترد، ہمارے میزائل دفاعی نوعیت کے ہیں: پاکستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکی رپورٹ مسترد، ہمارا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے: پاکستان"
}