{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiccljotpxrvca3mkr2mrdpwfnatffa6c3hjzdv5fcpbffvz4jrhde",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhe3al2c4ks2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibyosgz2zezvbedaccan7heizm3bcvj26l6e5z2hyo7u77646zxna"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 192209
  },
  "path": "/node/185127",
  "publishedAt": "2026-03-18T15:28:48.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "غضب للحق",
    "افغانستان",
    "افغان طالبان",
    "عطا تارڑ",
    "اظہار اللہ",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**بدھ کو افغانستان کے شہر کابل میں ان افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جن کے بارے میں افغانستان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ پیر کو ایک ہسپتال پر پاکستانی بمباری میں مارے گئے۔**\n\nپاکستان انکار کرتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ہسپتال کو نشانہ بنایا اور اس کا کہنا ہے کہ یہ دراصل ڈرون کی تیاری کا مرکز تھا۔\n\nیہ عمارت دراصل کیا تھی اور اس میں کیا اس میں واقعی ڈرون بنائے جاتے تھے؟\n\nاس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں ماضی کا سفر کرنا پڑے گا۔\n\n**کوڑا گھر سے فوجی کیمپ تک**\n\nیہ 2003 تھا جب ننگرہار کابل شاہراہ پر افغان ٹریکٹرز کی ایک کمپنی کی پارکنگ میں بڑی مقدار میں کباڑ پڑا نظر آ رہا تھا۔\n\nاس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور نیٹو کی افواج افغانستان کے مختلف فوجی اڈوں میں موجود تھیں۔\n\nاس وقت کے دفتر برائے فوجی تعاون کو ایک ایسی جگہ کی تلاش تھی جس میں 800 سپاہیوں کے رہنے کی گنجائش ہو اور یوں یہ زمین جس کمپنی کی تھی، اس سے رابطہ کیا گیا۔\n\nامریکی غیر سرکاری ادارے ’گلوبل سکیورٹی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیٹو کی جانب سے یہ پارکنگ کی جگہ ایک سال کی لیز پر لی گئی اور اس بنجر جگہ کو ایک بڑے فوجی کیمپ میں تبدیل کیا گیا۔ یہ فوجی اڈہ ’کیمپ فینکس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔\n\nاس فوجی اڈے کو دو ہفتوں کے اندر اندر قائم کیا گیا تھا جس میں کچن کی سہولت، میڈیکل، واش رومز اور رہائش کے لیے کوارٹرز بنائے گئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کی 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کیمپ میں بعد میں 10 ہزار تک افراد کے رہنے کی گنجائش پیدا کی گئی۔\n\n’گلوبل سکیورٹی‘ کے مطابق یہ کیمپ دراصل نیٹو افواج کی جانب سے افغان نیشنل آرمی کو تربیت دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس ٹریننگ کیمپ میں فروری 2005 تک 17 ہزار کے قریب افغان نیشنل آرمی کے اہلکاروں کو تربیت دے کر افغانستان کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کیمپ پر اس وقت افغان طالبان کی جانب سے متعدد بار حملوں کی کوشش بھی کی گئی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔\n\n**اڈے کے ایک حصے میں منشیات بحالی مرکز کی بنیاد**\n\nافغانستان سے 2014 میں امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کے بعد اس کیمپ کو اس وقت کی افغان حکومت کے حوالے کیا گیا۔ یہ کیمپ ’قرغا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جبکہ اس کے داخلے کے راستے پر ’ابن سینا منشیات بحالی ہسپتال‘ نام لکھا گیا ہے۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، اس وقت کے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے کیمپ کے ایک حصے میں منشیات بحالی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کابل و دیگر صوبوں سے منشیات کے عادی افراد کو علاج کی غرض سے اس کیمپ میں لایا گیا۔\n\nنیویارک ٹائمز کی اس وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق، منشیات بحالی کے اس مرکز کے لیے اشرف غنی کی اہلیہ رولا غنی نے ’امید‘ نام تجویز کیا تھا۔ اس وقت تو یہ نام نہیں دیا گیا تھا لیکن اب یہ اسی نام سے جانا جاتا ہے۔\n\nیہ مرکز کیمپ کے احاطے میں ایک عارضی عمارت میں قائم کیا گیا ہے جہاں افغان طالبان کے مطابق دو ہزار مریضوں کی گنجائش موجود ہے۔ جبکہ برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق اس مرکز میں ایک ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے اور یہ افغانستان کا سب سے بڑا منشیات بحالی مرکز ہے۔\n\n**کیمپ پر بمباری**\n\nاس کیمپ پر 17 مارچ کی شب تقریباً نو بجے فضائی بمباری کی گئی اور پاکستان کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اس کیمپ کے تین حصوں پر فضائی بمباری کی گئی ہے۔ پاکستان کے مطابق اس کیمپ میں افغان طالبان کے بارودی مواد کا ذخیرہ موجود تھا اور درست نشانے پر دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔\n\nدوسری جانب افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی جانب سے منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 400 افراد جان سے گئے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دعوے کی انڈپینڈنٹ اردو یا کسی غیر سرکاری یا بین الاقوامی ادارے کی جانب سے آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔\n\nاقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان (یوناما) نے اس حوالے سے جاری بیان میں بتایا ہے کہ بمباری سے منشیات بحالی مرکز ’متاثر‘ ہوا ہے، تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ واقعی براہِ راست اس مرکز پر بمباری کی گئی ہے۔\n\nعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تصدیق پر کام کر رہے ہیں اور تمام فریقین سے کشیدگی ختم کرنے اور امن کو ترجیح دینے کی درخواست کی ہے۔\n\nخیال رہے کہ افغانستان میں مراکز صحت وزارت پبلک ہیلتھ کے تحت کام کرتے ہیں، تاہم یہ مرکز افغانستان کی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے۔ افغانستان کی تمام فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کا کنٹرول وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے پاس ہے۔\n\n**تصاویر کیا دکھاتی ہیں؟**\n\nافغان طالبان کی جانب سے شیئر کی گئی اس مقام کی سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیمپ کے اندر تین مقامات متاثر ہوئے ہیں۔ دو مقامات ایسے نظر آ رہے ہیں جہاں عمارت مکمل تباہ نظر آ رہی ہے جبکہ ایک عمارت میں شدید آگ لگنے اور آگ سے نقصان کے آثار نظر آتے ہیں۔\n\nاس مقام کو اگر آپ گوگل میپ پر سرچ کریں تو کیمپ کی بائیں جانب ایک بیرک نما عمارت نظر آتی ہے اور گوگل پر اس کا نام ’امید کیمپ‘ دکھایا گیا ہے۔ اس مرکز کے آس پاس گوگل میپ پر آپ کو فوجی بیرکس اور فوجی سٹوریج مراکز کی طرز کی عمارتیں نظر آتی ہیں جبکہ اس کمپاؤنڈ کا ایک حصہ کھلا میدان نظر آتا ہے جس کو نقشے پر ’فینکس کیمپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔\n\nاس کیمپ کے حوالے سے گذشتہ سال برطانیہ کے روزنامہ ڈیلی میل اور دی ڈپلومیٹ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کیمپ کے اندر افغان طالبان کے ڈرون بنانے کی جگہ موجود ہے۔\n\nاس رپورٹ میں افغان طالبان کا موقف شامل نہیں تھا، تاہم اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ کیمپ میں القاعدہ کے ماہرین ڈرون بناتے ہیں اور یہ کام 2023 کے آس پاس شروع کیا گیا تھا اور ان ماہرین میں کابل یونیورسٹی کے کچھ فارغ التحصیل طلبہ بھی شامل ہیں۔\n\nغضب للحق\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nعطا تارڑ\n\nکابل کا ’کیمپ فینکس‘ جس کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور بارودی مواد تباہ کیا گیا، جبکہ افغان طالبان اسے منشیات بحالی کا مرکز قرار دے رہے ہیں۔ اصل حقیقت کیا ہے؟\n\nاظہار اللہ\n\nبدھ, مارچ 18, 2026 - 20:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">17 مارچ 2026 کو کابل کے کیمپ فینکس میں مبینہ طور پر پاکستانی حملے سے عمارت کو نقصان پہنچا (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغانستان میں آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: عطا تارڑ\n\nکابل میں ہدف ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا، سویلین اموات جھوٹ: ڈی جی آئی ایس پی آر\n\nکابل میں ہدف گولہ بارود کا ذخیرہ کیمپ فینکس تھا: پاکستان\n\nافغانستان کا باجوڑ پر حملہ عالمی قانون کی خلاف ورزی: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nکابل کا ’فینکس‘ فوجی اڈا، کیا یہاں واقعی ہسپتال تھا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کابل کا ’فینکس‘ فوجی اڈا، کیا یہاں واقعی ہسپتال تھا؟"
}