{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicffjzmqsnkbsamd6evzngrpzqglv6etj7o3dj43owlxdb65lk6ba",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhdulemsy5r2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigpqsjtz6jsduc47jddc4lwztreotdxhucuqxohpjgoamxcebxwba"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 151029
  },
  "path": "/node/185125",
  "publishedAt": "2026-03-18T14:41:29.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "March 18, 2026",
    "پاک افغان تعلقات",
    "پاک افغان سرحد",
    "پاکستان",
    "افغانستان",
    "جنگ",
    "سرحدی جھڑپیں",
    "ٹی ٹی پی",
    "دہشت گردی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news",
    "@TararAttaullah",
    "@Zabehulah_M33"
  ],
  "textContent": "**وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بدھ کی رات کہا کہ عید الفطر کے پیش نظر اور اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں عسکریت پسندوں اور ان کے حمایتوں کے خلاف آپریشن غضب للحق عارضی طور پر (آج رات سے 23/24 مارچ کی درمیانی رات تک) روک دیا گیا ہے۔**\n\nاس کے جواب میں طالبان نے بھی اپنا آپریشن ’ردِ الظلم‘ روکنے کا اعلان کیا ہے۔\n\nسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بدھ کی شام ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ’تاہم، سرحد پار سے کسی بھی حملے، ڈرون حملے یا پاکستان کے اندر دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کی صورت میں، ’آپریشن غضب للحق‘ کو فوری طور پر دوبارہ شدت کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’وقفہ 18/19 مارچ 2026 کی آدھی رات سے 23/24 مارچ 2026 کی آدھی رات تک لاگو ہو گا۔‘\n\n> TEMPORARY PAUSE IN OPERATION GHAZAB LIL HAQ\n>  (18 Mar 26)\n>\n>  In view of the upcoming Islamic festival of Eid-ul-Fitr, upon its own initiative as well as on the request from the brotherly Islamic countries of the Kingdom of Saudi Arabia, the State of Qatar and the Republic of Turkiye,…\n\n> — Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 18, 2026\n\nاس کے جواب میں افغان طالبان نے ‘رد الظلم’ کے نام سے اپن آپریشن عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔\n\nافغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ عید الفطر کی مناسبت اور دوست اسلامی ممالک جیسے سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی درخواست پر آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا۔\n\n> إعلان وقف مؤقت لعمليات \"ردّ الظلم\" الدفاعية\n>  تُعلن القوات الأمنية والدفاعية في إمارة أفغانستان الإسلامية عن وقف مؤقت لعمليات \"ردّ الظلم\" الدفاعية، وذلك بمناسبة قرب حلول عيد الفطر المبارك، واستجابةً لطلب الدول الإسلامية الشقيقة الوسيطة مثل: المملكة العربية السعودية،\n>\n> — Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) March 18, 2026\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔\n\nپاکستان نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف آپریشن کا غضب للحق کا نام دیا۔\n\nاس تنازع سے بین الاقوامی برادری میں علاقائی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے ردعمل میں تہران کے جوابی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان افغان طالبان حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ وہ پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دیتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ اور غیر مستحکم سرحد عبور کر کے پاکستانی افواج پر حملے کرتے ہیں، اور یہ بھی کہ وہ پاکستان کے ازلی حریف انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتی ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔\n\nوفاقی وزیر عطا تارڑ نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان یہ اشارہ نیک نیتی اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کرتا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ آپریشن کی عارضی بندش کے لیے جن اسلامی ممالک نے پاکستان سے درخواست کی ہے ان میں سعودی عرب، ریاست قطر اور جمہوریہ ترکی شامل ہیں۔\n\nبدھ ہی کو افغانستان کے شہر کابل میں ان افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جن کے بارے میں افغانستان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ پیر کو ایک ہسپتال پر پاکستانی بمباری میں مارے گئے۔\n\nپاکستان انکار کرتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ہسپتال کو نشانہ بنایا۔\n\n\nپاک افغان تعلقات\n\nپاک افغان سرحد\n\nپاکستان\n\nافغانستان\n\nجنگ\n\nسرحدی جھڑپیں\n\nٹی ٹی پی\n\nدہشت گردی\n\nوفاقی وزیر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سرحد پار سے حملے یا پاکستان میں دہشت گردی کے واقعے کی صورت میں آپریشن دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 18, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p>ایک شخص 13 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں تباہ شدہ عمارت کے باہر کھڑا ہے جو افغان طالبان کے مطابق پاکستان کی مبینہ فضائی بمباری میں نشانہ بنی (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغانستان کا باجوڑ پر حملہ عالمی قانون کی خلاف ورزی: پاکستان\n\nپاکستان اور افغانستان تناؤ کو مذاکرات سے کم کریں: چین\n\nاسلام آباد کی فضائی حدود میں دفاعی نظام نے افغانستان کے دو ڈرون مار گرائے\n\nافغانستان سے یورپ کے لیے برآمدات: لاپس لازولی راہداری کیا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nافغانستان میں آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: عطا تارڑ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "افغانستان میں آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: عطا تارڑ"
}