{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifwjeiywvhljwsmnmpsgfaefonskvjw3n5ae4ynuml32tgfx2fiay",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mhcsxv6p2zv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifvhz337hcwq6pttnn724wyamgwvhxrjr7qndco4c4dikywyotisu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 118222
},
"path": "/node/185113",
"publishedAt": "2026-03-18T04:13:20.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پنجاب",
"رمضان",
"عید الفطر",
"پکوان",
"محمد جنید خان",
"میگزین",
"video"
],
"textContent": "**رمضان کے آتے ہی پاکستان بھر میں افطار کے دستر خوان طرح طرح کے کھانوں اور مشروبات سے سج جاتے ہیں لیکن میانوالی کے تاریخی شہر کالا باغ میں افطار کی ایک ایسی منفرد سوغات تیار کی جاتی ہے جس کا ذائقہ صدیوں سے لوگوں کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔**\n\nپاپڑ سے ملتی جلتی یہ نمکین چیز ’کھار وڑی‘ کہلاتی ہے جو خالص اور قدرتی اجزا سے تیار کی جاتی ہے، اور انتہائی ذائقہ دار ہوتی ہے۔\n\nکالا باغ کی ایک مقامی خاتون عزیزاں بی بی کے مطابق ان کے گھر میں کئی دہائیوں سے روزانہ کی بنیاد پر روزہ داروں کے لیے کھار وڑی تیار کی جاتی ہے۔\n\nدلچسپ بات یہ ہے کہ کھار وڑی بنانے کی روایت قیام پاکستان سے بھی پہلے ہندو دور سے چلی آ رہی ہے۔\n\nکھار وڑی بنانے کا طریقہ بھی خاصہ منفرد ہے۔ رات کو میدہ اور تھوڑا سا سوڈا پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے اور صبح اس میں مزید پانی، سرخ مرچ، نمک، دھنیا اور سفید زیرہ شامل کر کے آگ پر پکایا جاتا ہے اور مسلسل چمچ ہلاتے ہوئے اسے گاڑھا کیا جاتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کے بعد سرسوں کا تیل چٹائی پر ڈال کر اس گاڑھے آمیزے کو پھیلا دیا جاتا ہے۔ خشک ہونے کے بعد یہ خود ہی چٹائی سے الگ ہو جاتی ہے۔\n\nافطار سے کچھ دیر پہلے اسے گھی یا تیل میں تل کر تیار کیا جاتا ہے اور روزہ داروں کو پیش کیا جاتا ہے۔\n\nکالا باغ کی یہ روایتی کھار وڑی نہ صرف مقامی لوگوں کی پسندیدہ سوغات ہے بلکہ عید کے موقع پر عزیز و اقارب اور بیٹیوں کو تحفے کے طور پر بھی دی جاتی ہے۔\n\nیہاں آنے والے لوگ اسے بیرون ملک بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگرچہ رمضان میں اس کی مانگ خاص طور پر بڑھ جاتی ہے، لیکن کالا باغ کے گھروں میں یہ عام دنوں میں بھی شوق سے کھائی جاتی ہے۔\n\nپنجاب\n\nرمضان\n\nعید الفطر\n\nپکوان\n\nکالاباغ کی یہ روایتی کھار وڑی نہ صرف مقامی لوگوں کی پسندیدہ سوغات ہے بلکہ عید کے موقع پر عزیز و اقارب اور بیٹیوں کو تحفے کے طور پر بھی دی جاتی ہے۔\n\nمحمد جنید خان\n\nبدھ, مارچ 18, 2026 - 09:00\n\nMain image:\n\n> <p>(انڈپینڈنٹ اردو/ محمد جنید)</p>\n\nمیگزین\n\njw id:\n\nsaWnCtma\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nلاندی، مچھ اور غنزاخے: وہ مقامی پکوان جو سردی نہیں لگنے دیتے\n\nرمضان: دنیا بھر میں افطار کے خصوصی پکوان\n\nرمضان میں فٹ اور توانا رہنے کے لیے کیا کریں اور کیا نہ کریں؟\n\nرمضان میں دیکھنے کے لیے ٹاپ 5 ڈرامے کون سے ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nمیانوالی: رمضان کا پکوان ’کھار وڑی‘ جو بیٹیوں کو تحفے میں دیا جاتا ہے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "میانوالی: رمضان کا پکوان ’کھار وڑی‘ جو بیٹیوں کو تحفے میں دیا جاتا ہے"
}