{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifeavvencekt2juyrfs3va34f5soabz7j3mootothckseihqsoaym",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mh7hh2c72yk2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieq6gttwevd2qtrmnlw34jzc22dywmjz7mmxf6v35iyb4k6qgvw2y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 194154
  },
  "path": "/node/185089",
  "publishedAt": "2026-03-16T13:15:47.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام",
    "رحیم یار خان",
    "پنجاب",
    "امدادی رقم",
    "حادثہ",
    "اموات",
    "ارشد چوہدری",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ایک گاؤں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ملنے والی نقد امداد کی تقسیم کے دوران ایک چھت گرنے سے سات خواتین جان سے گئیں جبکہ 75 زخمی ہو گئیں۔**\n\nترجمان ڈسٹرکٹ آفیسر رحیم یار خان محمد عتیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’رحیم یار خان کے چک نمبر 123 پی میں 16 مارچ کو رجسٹرڈ ڈیوائس ہولڈر بی آئی ایس پی پروگرام کے تحت حسب معمول امدادی رقوم تقسیم کر رہے تھے۔ انہوں نے رقوم دکان کے اوپر چوبارے میں دینے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ اسی دوران نچلی دوکان کی ٹی آئرن گارڈر کی کمزور چھت سینکڑوں خواتین کے وزن کی وجہ سے گر گئی اور وہاں موجود بڑی تعداد میں خواتین مبلے تلے دب گئیں۔\n\nترجمان نے بتایا کہ ’اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اس حادثہ میں کل سات خواتین کی موت ہوئی جبکہ 75 زخمی ہیں۔ انہیں شیخ زید ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے۔‘\n\nپاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2008- 2013 کے دوران ملک میں مستحق خواتین کی مالی معاونت کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت ایک کروڑ خواتین کو ہر تین ماہ بعد 14 ہزار روپے امدادی رقم کے طور دیے جاتے ہیں۔ یہ امدادی رقوم ملک بھر میں مخصوص ڈیوائسز ہولڈرز کے ذریعے آن لائن بھجوائی جاتی ہیں اور وصولی کے لیے رجسٹرڈ خواتین موبائل فون پر پیغام موصول ہونے ہی متعلقہ پوائنٹ پر پہنچتی ہیں۔\n\n16 مارچھ 2026 کو رحیم یار خان میں چھت گرنے کے ب عد ریسکیو ورکرز مصروف ہیں (محمد عاصم)\n\nچیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’آج بروز پیر صبح رحیم یار خان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نجی بینک کے ادائیگی مرکز پر، دیگر خواتین کے ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین بھی موجود تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مذکورہ دکان کی چھت گرنے کے باعث اب تک 6 خواتین جاں بحق جبکہ متعدد خواتین زخمی ہو گئی ہیں۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ ’صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ہدایت پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد فوری طور پر رحیم یار خان پہنچیں اورمتاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ ہیڈکوارٹرز سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی فوری طور پر رحیم یار خان روانہ ہو چکی ہے جو واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کا تعین کر کے 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔‘\n\nبی آئی ایس پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں ممکنہ غفلت کے پیشِ نظر متعلقہ پارٹنر بینک کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جبکہ اس پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا رہا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’بی آئی ایس پی کی جانب سے ہر جاں بحق ہونے والی خاتون کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے جبکہ زخمی خاتون کے لیے 3 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی اور یہ ادائیگیاں کل تک مکمل کر دی جائیں گی۔ اس افسوسناک واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور متعلقہ پارٹنر بینک کے نمائندگان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔‘\n\nوزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ کمشنر سمیت ضلعی افسران کو موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں تیز کرنے زخمیوں کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔\n\nحکام جائے حادثہ پر موجود ہیں (محمد عاصم)\n\nترجمان محمد عتیق کے بقول، ’رقوم کی تقسیم کے لیے ڈیوائس ہولڈرز بی ایس پی انتظامیہ خود رجستڑڈ کرتی ہے۔ اس میں ضلعی انتظامیہ کو نہ اعتماد میں لیا جاتا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ چند سال پہلے تک بی آئی ایس پی نے یہ رقوم تقسیم کرنے کے لیے رجسٹریشن ضلعی انتطامیہ کے این او سی سے مشروط کی ہوئی تھی۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ انتظامیہ ان ڈیوائس ہولڈرز کو ایسی جگہ فراہم کرتے تھے جہاں ان خواتین کے لیے محفوظ انتظام کیا جائے۔ سرکاری سکولوں یا قریبی سرکاری کسی دفتر میں یہ امداد احسن طریقے سے تقسیم ہوجاتی تھی۔ لیکن اب ہمیں یہ بھی معلومات نہیں دی جاتی کہ کسی ضلع میں کون ڈیوائس ہولڈر ہے اور کتنے ہیں وہ کہاں اور کیسے امداد تقسیم کرتے ہیں۔‘\n\nبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام\n\nرحیم یار خان\n\nپنجاب\n\nامدادی رقم\n\nحادثہ\n\nاموات\n\nضلعی انتظامیہ کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم کے دوران ایک چھت گر گئی جو اموات کی وجہ بنا۔\n\nارشد چوہدری\n\nسوموار, مارچ 16, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p>16 مارچھ 2026 کو رحیم یار خان کے ایک گاؤں میں دکان کی چھت گرنے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم حاصل کرنے کی غرض سے جمع 7 خواتین جان سے گئیں ّمحمد عاصم)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کس کس نے ناجائز فائدہ اٹھایا؟\n\nبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بند تو نہیں ہو رہا؟\n\n’بےنظیر نہیں، مگر انکم سپورٹ زندہ ہے!‘\n\nلاہورجشن بہاراں میلہ: غریب خواتین کے ہنر کو اجاگر کرنے والی خاتون\n\nSEO Title:\n\nرحیم یار خان: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امداد وصولی کے دوران 7 خواتین کی موت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "رحیم یار خان: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امداد وصولی کے دوران 7 خواتین کی موت"
}