{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreighxmfwhqyuh32a7kkbpuysscbbi32qyhgmnobwqdlftlj2y7yerq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mh7hgmmk3zk2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibxo6dqvwslxw7yj3wao5bo5lteb34nlzmbjmv3cqrpvvtizfvpkm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 111264
},
"path": "/node/185093",
"publishedAt": "2026-03-16T15:42:40.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"پاکستان",
"جنگ",
"معیشت",
"محمد عیسیٰ",
"video"
],
"textContent": "**ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایران سے ملحق بلوچستان پر معاشی اعتبار سے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بارڈر کی بندش اور ترسیلی نظام متاثر ہونے سے صوبے میں پٹرول، ایل این جی گیس اور دیگر اشیاء خوردونوش کی کمی آنے کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔**\n\nبلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان، پنجگور، چاغی، گبد، جیونی، مند اور بلو ایسے علاقوں میں شامل ہیں جہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار ایران سے آنے والی اشیاء پر ہے۔ سرحد سے منسلک علاقوں میں بھی اشیاء خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء میں نمایاں کمی آئی ہے۔\n\nتفتان کے مقامی صحافی نعمت اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تفتان پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا اہم پوائنٹ ہے۔ اسی پوائنٹ سے دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ تر تجارت ہوتی ہے۔ جب سے ایران پر حملہ ہوا ہے اس کے بعد دو طرفہ تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستانی تاجروں نے واپس پاکستان کا رخ کر لیا ہے اور فی الحال انہوں نے اپنا کاروبار روک دیا ہے۔ اسی طرح ایرانی تاجروں نے بھی اپنی کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ جنگ کو دو ہفتوں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور ہر نئے دن کے ساتھ تجارت میں بھی کمی آ رہی ہے۔ البتہ بعض لوگ ایران سے پٹرول اور کچھ خوردنی اشیاء سمگل کر کے پاکستان لاتے ہیں جن کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اس میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایران سے آنے والے تیل، گیس اور دیگر اشیاء خوردونوش کی کمی اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقامی تاجروں اور صارفین سے بات کی، جنہوں نے صورتحال پر مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا۔\n\nکوئٹہ میں ڈرائی فروٹ کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر محمد فاروق نے بتایا کہ میری دکان میں موجود ڈرائی فروٹ اور دیگر اشیاء ایران سے آتی ہیں۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے ہمارے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایران سے آنے والی اشیاء کی ترسیل میں کمی آ گئی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ پستہ کی ایک کلو قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ چاکلیٹ کے ایک کارٹن کی قیمت میں ہزار روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایک صارف فیض اللہ ترین کا کہنا تھا کہ محلے میں ایک چھوٹی سی دکان ہے جہاں ایرانی سامان فروخت ہوتا ہے۔ ایران پر حملے کے بعد ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب میں انہیں خریدنے سے قاصر ہوں۔\n\nکاسمیٹکس کے کاروبار سے منسلک حبیب اللہ نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے سامان کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ عید کا موقع ہے لیکن ہمارے پاس ایران سے آنے والے کاسمیٹکس کے سامان کی کمی ہے جس کی وجہ سے خریدار خریداری کیے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔\n\nایل پی جی گیس کے کاروبار سے منسلک عنایت اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جنگ کے باعث گیس کی سپلائی میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں 40 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ گیس مہنگی ہونے کی وجہ سے خریداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔\n\nپٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ایک صارف محمد ظریف نے بتایا کہ پاکستانی پٹرول کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس کی خرید عام شہری کی بس سے باہر ہو گئی ہے۔ بلوچستان اور خاص کر کوئٹہ میں ایرانی پٹرول آدھی قیمت پر مل رہا تھا۔ ایران پر حملے کے بعد نہ صرف سپلائی متاثر ہوئی بلکہ قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور اب ایرانی تیل بھی 250 روپے فی لیٹر تک مل رہا ہے۔ اگر جنگ رکے گی تو شاید قیمتیں اپنی اصل سطح پر آ جائیں جس کا ہمیں انتظار ہے۔\n\nبلوچستان کے عوام کی زندگی کا دارومدار ایران اور افغانستان سے آنے والے سامان پر ہے۔ افغانستان کا پاکستان کے ساتھ بارڈر ایک سال سے زائد عرصے سے بند ہے اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط فی الحال تقریباً منقطع ہیں۔ جبکہ ایران کے ساتھ تجارت سے ملک اور خاص طور پر بلوچستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد نہ صرف کاروباری طور پر وابستہ تھی بلکہ سرحدی اور شہری علاقوں میں عام لوگ بھی اشیاء خوردونوش سے مستفید ہو رہے تھے۔\n\nایران\n\nپاکستان\n\nجنگ\n\nمعیشت\n\nبلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان، پنجگور، چاغی، گبد، جیونی، مند اور بلو ایسے علاقوں میں شامل ہیں جہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار ایران سے آنے والی اشیا پر ہے۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nسوموار, مارچ 16, 2026 - 20:45\n\nMain image:\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n6wM0UNw4\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 15عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\nسرسبز اوتھل کے سائے میں پیاسا کیواری، بلوچستان کے آبی بحران کی کہانی\n\nبلوچستان حملوں کے سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے: سلامتی کونسل\n\nبلوچستان: طاقت کے ساتھ سیاسی عمل کی ضرورت\n\nSEO Title:\n\nایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ: پاکستانی بارڈر مارکیٹس کی صورت حال\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ: پاکستانی بارڈر مارکیٹس کی صورت حال"
}