{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiadwdw44eklzco7djfft5jnagmyp5gauccu6fvvwdiogdepk5gvje",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mh4qban625z2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreieaxjw3daqf3354bne2pqzl2juzvvhofqatttqavpf5k2sw4vfmxe"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 456921
},
"path": "/node/185070",
"publishedAt": "2026-03-15T13:55:38.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"خصوصی انٹرویو",
"سعودی عرب",
"پاکستان سعودی عرب تعلقات",
"مشرق وسطیٰ",
"ایران",
"اسرائیل",
"امریکہ",
"وسیم عباسی",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**ریاض میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ہمیشہ مملکت کی مدد کے لیے آئے گا۔**\n\nامریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے ردعمل میں تہران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی حملے جاری ہیں۔ خطے میں جاری اس کشیدگی کی زد میں سعودی عرب بھی آیا ہے۔\n\nپاکستان نے برادر ملک سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 12 مارچ کو سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔\n\nاس موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے ولی عہد وزیراعظم محمد بن سلمان کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔\n\nعرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے اس دورے کا بنیادی مقصد خطے کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کرنا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا: ’سب سے اہم بات یہ کہ اس موقعے پر پاکستان کو مشکل وقت میں مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کا موقع ملا، لہٰذا یہی اس ملاقات کا بنیادی مقصد اور خلاصہ تھا جو وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہوئی۔‘\n\nاس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ ایک ہنگامی ملاقات تھی؟ پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’یہ دورہ اس تنازعے کے باعث کیا گیا جو اس خطے میں شروع ہوا ہے اور جس کے اثرات پڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس تنازعے کا مرکزی محور ایران ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے اثرات دوسرے علاقائی ممالک پر بھی پڑے ہیں جن میں مملکتِ سعودی عرب بھی شامل ہے اور بنیادی مقصد یہی تھا کہ اس بات پر توجہ دی جائے کہ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ہم کس طرح علاقائی سطح پر مزید کشیدگی کو روک سکتے ہیں، کیونکہ یہ خطے کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ جب بھی مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گا تو پاکستان اس کی مدد کے لیے آئے گا۔ ہم ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں۔‘\n\nپاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں ایک تاریخی ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ریاض میں طے پانے والے اس معاہدے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔\n\nاس معاہدے کے تناظر میں پاکستانی سفیر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے فوجی دستے اور سازوسامان بھیجنے پر غور کر رہا ہے؟‘ تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔\n\nاحمد فاروق کے مطابق: ’یہ بنیادی طور پر تکنیکی نوعیت کی گفتگو ہوتی ہے جو دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے درمیان ہوتی ہے۔ میں اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔‘\n\nتاہم انہوں نے کہا: ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی قیادت نے مملکت کی قیادت کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔‘\n\nحالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ایرانی قیادت سے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ ’اس تنازعے کے آغاز سے ہی پاکستان کی قیادت متحرک رہی ہے۔‘\n\nپاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار رواں ماہ کے آغاز میں سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کو حالیہ جنگ شروع ہوتے ہی اسلام آباد اور ریاض کے درمیان موجود دفاعی معاہدے کے حوالے سے یاد دہانی کروا دی تھی، جس کی وجہ سعودی عرب اور عمان کے خلاف کم ترین ردعمل سامنے آ یا جبکہ دوسرے خلیجی ممالک پر کارروائیاں زیادہ ہوئیں۔\n\nانٹرویو کے دوران پاکستانی سفیر نے کہا: ’ہمارا پیغام اس خطے کے تمام ممالک کے لیے یہ ہے کہ اس تنازعے کو مزید بڑھنے سے روکنا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی پاسداری کریں اور جو مسائل اس تنازع کا سبب بنے ہیں ان کا حل صرف مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، لہٰذا ہم تمام متعلقہ ممالک کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔‘\n\n**’سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی خوف کا شکار نہ ہو‘**\n\nسعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کی صورت حال اور سفارت خانے کے اقدامات سے متعلق پاکستانی سفیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر ’سعودی عرب میں ہمارے سفارت خانے اور جدہ میں قونصل خانے دونوں نے چوبیس گھنٹے فعال سہولت مراکز قائم کیے ہیں جہاں عوام کسی بھی مدد کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے اطمینان دلایا کہ سعودی عرب میں صورت حال ’مستحکم‘ ہے اور ’ملک میں کسی قسم کی افراتفری نہیں ہے۔‘\n\nبقول پاکستانی سفیر: بازار کھلے ہیں اور اشیائے خوردونوش کی کوئی قلت نہیں ہے۔ شہری کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہ ہوں البتہ سوشل میڈیا کے حوالے سے مقامی قوانین کی پابندی لازمی کریں۔‘\n\nسعودی عرب\n\nپاکستان سعودی عرب تعلقات\n\nمشرق وسطیٰ\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nاحمد فاروق کے مطابق: ’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ جب بھی سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گا تو پاکستان مدد کے لیے آئے گا۔‘\n\nوسیم عباسی\n\nاتوار, مارچ 15, 2026 - 19:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق (پاکستانی سفارت خانہ فیس بک اکاؤنٹ)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nhQ7yur55\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان اور سعودی عرب کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہیں\n\nسعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے: پاکستان\n\nجب بھی ضرورت پڑی پاکستان سعودی عرب کی ’مدد‘ کے لیے آئے گا: ترجمان شہباز شریف\n\nایران کو بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ ہے: اسحٰق ڈار\n\nSEO Title:\n\nسعودی عرب کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا: پاکستانی سفیر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "سعودی عرب کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا: پاکستانی سفیر"
}