{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiahdqtpa57tk3kiyf2n2vupiqjdc4p7vvotmb5azrc4hlnqc4vety",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mh4qb4faiuc2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieg5ojotnrnh3cw7lhx4ajxwuppevnf36qsf5mikk5nlacdm5qqae"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 133912
  },
  "path": "/node/185071",
  "publishedAt": "2026-03-15T16:26:39.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/M8PdBra2eN",
    "March 15, 2026",
    "pic.twitter.com/Q2D3KNJpfi",
    "Screenshot 2026-03-15 212738.png",
    "قندھار",
    "افغانستان",
    "افغان طالبان",
    "عسکریت پسند",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news",
    "@TararAttaullah"
  ],
  "textContent": "**وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے باجوڑ میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔**\n\nعطا اللہ تارڑ نے کہا پے کہ 15 مارچ 2026 کو سہ پہر تقریباً 03:30 بجے افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار سے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے سالارزئی میں آرٹلری اور مارٹر کے ذریعے شہری آبادی پر گولہ باری کی گئی۔\n\nانہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ اس بزدلانہ حملے میں ایک ہی گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار سگے بھائی ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ جان سے گئے، جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔\n\nوفاقی وزیر نے کہا کہ افغان طالبان دہشت گرد تنظیم 'فتنہ الخوارج کے ساتھ مل کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو ان کی بوکھلاہٹ اور مایوسی کا عکاس ہے۔‘\n\n> ✅ 15 March 2026\n>\n>  Attack on innocent civilians by Afghan Taliban Regime in Bajaur\n>\n>  ▪️ Today on 15th of March 2026 around 1530 hours, Afghan Taliban regime deliberately targeted civilian population through artillery / mortar fire from across the border in Tabesta Letai, Salarzai… pic.twitter.com/M8PdBra2eN\n>\n> — Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 15, 2026\n\nانہوں نے کہا کہ ’پاکستانی افواج کے آپریشن غضب للحق کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے کاری ضربوں کے باعث دشمن اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آیا ہے۔‘\n\nقبل ازیں پاکستان نے اتوار کو کہا کہ اس نے رات گئے افغانستان میں قندھار کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔\n\nاس صورت حال سے خطے کے استحکام کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ردعمل میں تہران کے جوابی حملوں کے باعث اس تنازعے نے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔\n\nپاکستانی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ فوج نے14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب قندھار میں حملوں کے دوران سازوسامان ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور ’تکنیکی معاونت کے بنیادی ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ اب تک افغان طالبان کے 684 کارندے مارے جا چکے ہیں جبکہ 912 سے زائد زخمی ہیں۔\n\n> Operation Ghazb-lil-Haq\n>  Update 1600 hours 15 March\n>\n>  Summary of Fitna Al Khawarij / Afghan Taliban losses\n>\n>  684 Killed,\n>  912+ Injured\n>  252 Posts destroyed\n>  44 Posts captured and destroyed\n>  229 tanks, armoured vehicles, artillery guns destroyed\n>  73 terrorists and… pic.twitter.com/Q2D3KNJpfi\n\n> — Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 15, 2026\n\nخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے دو مقامات کو نشانہ بنایا: ایک ایسا مقام جہاں دن کے وقت سکیورٹی گارڈز موجود ہوتے ہیں لیکن رات کو خالی ہوتا ہے اور ایک منشیات بحالی مرکز جسے معمولی نقصان پہنچا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ’حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور جنگ کی آگ کو ہوا دے رہا ہے۔‘\n\nدوسری جانب افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس نے اتوار کو قندھار میں حملوں کے جواب میں پاکستان کے علاقے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا۔ وزارت کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں کیمپ کے کمانڈ سینٹر اور دیگر تنصیبات کا زیادہ تر حصہ تباہ ہو گیا اور پاکستانی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔\n\nتاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس دعوے کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایک چھوٹے ڈرون کو مار گرایا گیا جبکہ ’کسی فوجی تنصیب یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘\n\nافغانستان نے یہ بھی کہا کہ اس نے کنڑ اور ننگرہار صوبوں کے پار پاکستان کے اندر کارروائیاں کیں اور دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر قبضہ کر لیا اور کئی فوجیوں کی اموات ہوئیں، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا۔\n\n## Screenshot 2026-03-15 212738.png\n\nپاکستان افغانستان کی طالبان حکومت پر عسکریت پسند گروہوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں اور انہیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی نے گذشتہ برس اکتوبر میں قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو بھی ختم کر دیا، جو اس سے پہلے ہونے والی جھڑپوں کے بعد طے پائی تھی جس میں درجنوں فوجی، شہری اور مبینہ عسکریت پسندوں کی اموات ہوئی تھیں۔\n\nایک مقامی سرکاری اہلکار عدنان خان نے بتایا کہ ’اتوار کو افغانستان کی جانب سے داغا گیا ایک مارٹر خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم چار افراد جان سے گئے جبکہ دو زخمی ہو گئے۔‘\n\nدونوں فریق ایک دوسرے پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔\n\nپاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ہفتے کو کہا تھا کہ افغانستان نے پاکستان کے شہری علاقوں پر ڈرون حملے کر کے ’سرخ لکیر عبور کر لی ہے‘، جس کے چند گھنٹوں بعد پاکستان کی جانب سے افغانستان میں ایک ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیب پر حملہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔\n\nقندھار\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nعسکریت پسند\n\nوفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا پے کہ 15 مارچ 2026 کو سہ پہر تقریباً 03:30 بجے افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار سے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے سالارزئی میں آرٹلری اور مارٹر کے ذریعے شہری آبادی پر گولہ باری کی گئی۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مارچ 15, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\n> <p>15 مارچ 2026 کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی جھڑپوں کے دوران جان سے جانے والے چار بھائیوں کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی ہے (فضل رحمان / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کی افغانستان میں کارروائی پر انڈیا کی تنقید ’بیہودہ‘ اور ’بے بنیاد‘: دفتر خارجہ\n\nافغان طالبان نے ڈرون حملے کر کے ’سرخ لکیر‘ عبور کر لی: صدر زرداری\n\nافغان طالبان نے چند ڈرونز داغے جو مار گرائے: پاکستان فوج\n\nاسلام آباد کی فضائی حدود میں دفاعی نظام نے افغانستان کے دو ڈرون مار گرائے\n\nSEO Title:\n\nافغانستان کی باجوڑ میں شہری آبادی پر گولہ باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی: تارڑ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "افغانستان کی باجوڑ میں شہری آبادی پر گولہ باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی: تارڑ"
}