{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieyuwnsxrrc542soptedu4be6unqqorc5y7zak6q4in56iz7gp2le",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgzsepudpdj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidekfphcraswfjw2jupktvkxvdrwrfqanibhexn2hbzzvl7alkoda"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 857146
},
"path": "/node/185062",
"publishedAt": "2026-03-14T15:24:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"طورخم",
"سرحدی کشیدگی",
"جلال آباد",
"اظہار اللہ",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر گذشتہ 12 دن سے پڑی لاش کے حوالے سے ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ان کے بھانجے کی ہے، جن کا نام خالد ہے اور ان کے خاندان کا آبائی تعلق افغان صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد سے ہے، تاہم وہ پاکستانی علاقے فتح جنگ میں اپنے پرانے گھر جانا چاہتے تھے۔**\n\nیہ شخص گذشتہ دنوں طورخم پر سرحدی کشیدگی کے دوران مارے گئے تھے، جس کے بعد سے ان کی لاش وہاں موجود ہے۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔\n\nتاحال پاکستان اور افغانستان کے حکام کی جانب سے اس لاش کے حوالے سے باضابطہ کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔\n\nخالد کے ماموں علی گل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے فیس بک پر کچھ ویڈیوز اور تصاویر دیکھیں اور ’اسی سے نشاندہی کی کہ یہ میرے بھانجے کی لاش ہے۔‘\n\nعلی گل کے مطابق ان کے بھانجے خالد ذہنی طور پر معذور تھے اور سرحد پر ہتھ گاڑی چلاتے تھے (تصویر: علی گل)\n\n\n\n\nانہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور خالد ذہنی طور پر معذور تھے۔\n\nعلی گل نے بتایا کہ خالد کا خاندان پاکستان کے علاقے فتح جنگ میں رہائش پذیر تھا لیکن پھر افغان پناہ گزینوں کے انخلا کی مہم کے دوران واپس اپنے آبائی علاقے جلال آباد منتقل ہو گیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا: ’یہ (خالد) جلال آباد میں اپنے گھر سے نکلے اور گھر والوں کو یہی بتایا تھا کہ وہ واپس اپنے فتح جنگ والے گھر جانا چاہتے ہیں، تاہم طورخم سرحد پر مارے گئے۔‘\n\nخیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کی بلدیاتی حکومت کے نمائندے شاہ خالد نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ طورخم سرحد پر گذشتہ تقریباً 10 روز سے زائد ایک لاوارث لاش پڑی ہے، جسے جمعرات کو دونوں ملکوں کے ایک جرگے کی کوششوں کے باوجود اٹھایا نہیں جا سکا۔\n\nدونوں ممالک کے جرگے کے وفود کی ملاقات کے دوران کچھ گھنٹوں کے لیے فائر بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔\n\nخیبر جرگہ کے رکن شاہ خالد کے مطابق یہ محنت کش بارڈر پر ہتھ ریڑی چلاتے تھے، جس کے ذریعے مسافروں کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔\n\nخالد نامی شخص کی لاش کے حوالے سے ان کے ماموں نے مزید بتایا کہ ان کے دیگر بھائی جلال آباد میں حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاکہ لاش کو اٹھا کر تدفین ہو سکے لیکن تاحال افغان طالبان کی جانب سے لاش کو اٹھانے کی اجازت نہیں ملی۔\n\nلاش اٹھانے کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطے کی کوشش بھی کی، لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔\n\nضلع خیبر کے سرکاری حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو یہی بتایا ہے کہ پاکستانی جرگے کے مطابق لاش افغان شہری کی ہے اور وہی اسے اٹھانے کا بندوبست کریں گے۔\n\nپاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر گذشتہ تقریباً پانچ مہینوں سے بند ہے۔ پاکستانی سائیڈ پر ٹرمینل مکمل طور پر خالی ہے اور کسٹم دفاتر بھی بند پڑے ہیں جبکہ کشیدگی اور سکیورٹی کی وجہ سے کسی کو بھی بارڈر کے دروازے تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔\n\nطورخم\n\nسرحدی کشیدگی\n\nجلال آباد\n\nخالد نامی شخص کے ماموں علی گل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ ذہنی طور پر معذور تھے۔ ان کا خاندان فتح جنگ میں رہائش پذیر تھا لیکن پھر افغان پناہ گزینوں کے انخلا کی مہم کے دوران واپس اپنے آبائی علاقے جلال آباد منتقل ہو گیا تھا۔\n\nاظہار اللہ\n\nہفتہ, مارچ 14, 2026 - 20:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد طورخم پر گذشتہ کئی دنوں سے موجود لاش (شاہ خالد)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nطورخم بارڈر پر 10 دنوں سے پڑی لاش، جسے اٹھانے والا کوئی نہیں\n\nطورخم بارڈر پر انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟\n\nطورخم بارڈر کی بندش کے خلاف لنڈی کوتل میں احتجاج\n\nپاکستان نے افغانستان میں 4 عسکریت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: سکیورٹی حکام\n\nSEO Title:\n\nطورخم پر پڑی لاش بھانجے کی ہے جو فتح جنگ میں گھر واپس جانا چاہتا تھا: ماموں کا دعویٰ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "طورخم پر پڑی لاش بھانجے کی ہے جو فتح جنگ میں گھر واپس جانا چاہتا تھا: ماموں کا دعویٰ"
}