{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreierpz2ehjgkkx74ingkgm6j5pt3vvplsi2z4nmne4pof5e43tq6me",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgzexcel2iq2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiaolnlrj5u6fgarmwvkk6tes3zvk3y2n77yhsyzemcrxlzuckrqii"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 147399
},
"path": "/node/185058",
"publishedAt": "2026-03-14T10:30:17.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"شمالی کوریا",
"جنوبی کوریا",
"کم جونگ ان",
"بیلسٹک میزائل",
"میزائل",
"روئٹرز",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کو 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغے ہیں۔**\n\nشمالی کوریا کی جانب سے یہ میزائل ایسے وقت میں داغے گئے جب امریکہ اور جنوبی کوریا کی افواج مشقوں میں مصروف تھیں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیانگ یانگ کو بات چیت کے لیے دوبارہ پیشکش کر چکے ہیں۔\n\nجاپان کے کوسٹ گارڈ نے کہا کہ اس نے ایک ایسی چیز کا پتہ لگایا، جو ممکنہ طور پر بیلسٹک میزائل تھا جو سمندر میں جا گرا۔ سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے نے فوج کے حوالے سے کہا کہ بظاہر یہ میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرا۔\n\nجنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ایک بیان میں کہا کہ یہ میزائل دارالحکومت پیونگ یانگ کے قریب ایک علاقے سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ایک بج کر 20 منٹ پر ملک کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف داغے گئے۔\n\nشمالی کوریا دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جوہری ہتھیار پہنچانے کے ذرائع تیار کرنے کی کوشش میں طرح طرح کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات کرتا آ رہا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایسے ہتھیار کامیابی سے بنا چکا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسی وجہ سے 2006 سے پیانگ یانگ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی پابندیاں عائد ہیں، لیکن تجارت، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں شدید رکاوٹیں پیدا ہونے کے باوجود وہ اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔\n\nجنوبی کوریا اور واشنگٹن نے اس ہفتے جنوبی کوریا میں اپنی سالانہ بڑی مشقیں شروع کیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی فوجی دھمکیوں کے مقابلے کے لیے تیاری جانچنا ہے۔\n\nامریکہ اور جنوبی کوریا کے سینکڑوں فوجیوں نے ہفتے کو دریا عبور کرنے کی مشقیں کیں، جن میں ٹینک اور بکتر بند جنگی گاڑیاں بھی شامل تھیں اور ان مشقوں کی نگرانی ان کی مشترکہ افواج کے کمانڈر نے کی۔ جنوبی کوریا میں امریکہ کے تقریباً ساڑھے 28 ہزار فوجی اور لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن تعینات ہیں۔\n\nشمالی کوریا اکثر ایسی مشقوں پر غصے کا اظہار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اتحادیوں کی طرف سے اس کے خلاف مسلح جارحیت کی ’پیشگی جنگی مشق‘ ہیں۔\n\nجمعرات کو جنوبی کوریا کے وزیراعظم کم من سوک نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تاکہ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ جنوبی کوریا کے کم نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا کوئی بھی موقع حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔\n\nشمالی کوریا\n\nجنوبی کوریا\n\nکم جونگ ان\n\nبیلسٹک میزائل\n\nمیزائل\n\nجنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا کہ میزائل شمالی کوریا کے دارالحکومت پیا نگ یانگ کے قریبی علاقے سے ملک کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف داغے گئے۔\n\nروئٹرز\n\nہفتہ, مارچ 14, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">آٹھ مئی 2025 کی یہ تصویر میں شمالی کوریا میں نامعلوم مقام پر فوج کے توپ خانے اور میزائل نظام کے مشترکہ حملے کی مشق کی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nشمالی کوریا: ’کم جونگ اُن سٹائل‘ 5000 ٹن وزنی بحری جہاز کی رونمائی\n\nشمالی کوریا اور روس کا حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع کا معاہدہ\n\nسی آئی اے کا ایران، چین، شمالی کوریا میں جاسوس بھرتی کرنے کا انوکھا طریقہ\n\nشمالی کوریا ایٹمی ہتھیاروں میں ’بڑا‘ اضافہ کرے گا: کم جونگ ان\n\nSEO Title:\n\nشمالی کوریا نے 10 سے زیادہ میزائل داغ دیے: جنوبی کوریا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ میزائل داغ دیے: جنوبی کوریا"
}