{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifhbunozkd6s7q3jv3pdnerbid3bxx5ugdkfkogchbfkmcxaqsupe",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgyqt34x4uu2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreig23fc6p2aa42l3cawiniest3fs4wgqhisep2nyzfkcka6cdhpmx4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 126792
},
"path": "/node/185057",
"publishedAt": "2026-03-14T04:54:49.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"March 12, 2026",
"pic.twitter.com/uINTsNesL3",
"پاکستان سعودی عرب تعلقات",
"سعودی ولی عہد محمد بن سلمان",
"شہباز شریف",
"ریاض",
"اسلام آباد",
"ڈاکٹر علی عواض العسیری",
"نقطۂ نظر",
"news",
"@mosharrafzaidi",
"@MIshaqDar50"
],
"textContent": "**جدہ میں جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مشرق وسطیٰ غیر معمولی کشیدگی سے گزر رہا ہے۔**\n\nایران کی جنگ نے خلیج کے سٹریٹیجک ماحول کو بدل دیا ہے اور خطہ کئی دہائیوں میں اپنے خطرناک ترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔\n\nسعودی عرب اور اس کے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے شراکت داروں کے خلاف ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں، توانائی کی منڈیوں میں خلل، اور کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات نے خلیج اور وسیع تر مسلم دنیا کے استحکام کے بارے میں سنجیدہ تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس غیر یقینی ماحول میں سعودی اور پاکستانی قیادت کے درمیان باقاعدہ مشاورت ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ہم آہنگی کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔\n\nاس تازہ ترین اعلیٰ سطح کی ملاقات میں بات چیت کا مرکز علاقائی سلامتی، مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں، اور دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ شراکت داری رہی۔ اس طرح کے کڑے وقت میں دونوں ملکوں نے ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کی ہے جس نے طویل عرصے سے ان کے تعلقات کی پہچان بنائی ہے: ’خطے میں استحکام اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے ایک ساتھ کھڑا ہونا۔‘\n\nبحران کے بارے میں سعودی عرب کا رویہ علاقائی استحکام، ذمہ دار قیادت اور سفارت کاری کے لیے مملکت کے مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور دور اندیش قیادت میں مملکت نے ایسی پالیسیاں اختیار کی ہیں جن میں اپنی خودمختاری کا مضبوط دفاع بھی شامل ہے اور بات چیت اور علاقائی امن کے لیے واضح عزم بھی۔ اس متوازن رویے نے ایک ہنگامہ خیز خطے میں سعودی عرب کے کردار کو استحکام کے ایک مضبوط ستون کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔\n\nموجودہ بحران دونوں ملکوں کے لیے غیر معمولی چیلنج لے کر آیا ہے۔ ایران کی جنگ نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، سمندری تجارتی راستوں کو خطرے میں ڈالا ہے، اور پوری خلیج میں نہایت اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے اس معاملے میں اپنے علاقے، توانائی کی تنصیبات، اور عالمی توانائی کے استحکام کو یقینی بنانے میں اپنے اہم کردار کا تحفظ شامل ہے۔\n\nپاکستان کے لیے اس بحران کے سنجیدہ معاشی اور سٹریٹیجک اثرات ہیں، جن میں توانائی کی بڑھتی لاگت سے لے کر خلیج بھر میں رہنے اور کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی سلامتی تک سب کچھ شامل ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں گذشتہ ستمبر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔\n\nاگرچہ یہ معاہدہ موجودہ تنازع سے پہلے طے پایا تھا، لیکن اب یہ غیر معمولی طور پر بروقت دکھائی دیتا ہے۔ اس کا بنیادی اصول ’ایک شراکت دار کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی‘ دونوں ملکوں کی قیادت کی تزویراتی دور اندیشی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب علاقائی سکیورٹی انتظامات کے بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے، یہ معاہدہ نہ صرف روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دو دیرینہ شراکت داروں کے درمیان اعتماد کو بھی بڑھاتا ہے۔\n\nاس فریم ورک کی عملی اہمیت حال ہی میں اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب پاکستان کے فیلڈ مارشل اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے مشاورت کی اور سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی عملی روح کی عوامی سطح پر توثیق کی۔ پاکستان نے مملکت کے دفاع کے لیے اپنے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا، اور یہ عزم دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط قریبی فوجی تعاون اور باہمی اعتماد میں جڑا ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے وقت میں یہ واضح تزویراتی اشارہ ایک اہم روک تھام کا مقصد پورا کرتا ہے، جس سے سعودی سکیورٹی کو یقین دہانی ملتی ہے اور دوطرفہ دفاعی شراکت داری کی ساکھ بھی مضبوط ہوتی ہے۔\n\n> Prime Minister of Pakistan Meets Crown Prince Mohammed bin Salman in Jeddah\n>\n> Prime Minister's Office\n> Media Wing\n>\n> JEDDAH: 12 MARCH 2026\n>\n> The Prime Minister of Pakistan held a restricted meeting with His Royal Highness Prince Mohammed bin Salman bin Abdulaziz Al Saud, Crown Prince…\n>\n> — Mosharraf Zaidi (@mosharrafzaidi) March 12, 2026\n\nلیکن آج جو یکجہتی دکھائی دے رہی ہے وہ کسی ایک بحران کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایسے تعلق کی عکاسی کرتی ہے جو کئی دہائیوں میں صبر کے ساتھ تعمیر ہوا ہے، اور جس کی بنیاد مشترک تاریخ، باہمی احترام اور دونوں معاشروں کے درمیان گہرے انسانی رشتوں پر ہے۔\n\nاس شراکت داری کی بنیادیں کئی دہائیاں پہلے پڑی تھیں۔ پاکستان کے قیام سے بھی پہلے جزیرہ نمائے عرب اور برصغیر کے عوام کے تعلقات تجارت، ایمان اور علمی تبادلے سے جڑے ہوئے تھے۔ 1947 میں پاکستان کے ایک خودمختار ریاست کے طور پر سامنے آنے کے بعد سعودی عرب جلد ہی مسلم دنیا میں اس کا قریبی ترین شراکت دار بن گیا۔\n\nوقت کے ساتھ یہ تعلق ایک وسیع تزویراتی شراکت داری میں ڈھل گیا، جس میں سفارت کاری، دفاعی تعاون اور معاشی اشتراک شامل تھا۔ دفاعی تعلقات اس کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک بن گئے۔ 1960 کی دہائی کے آخر سے پاکستان اور سعودی عرب نے فوجی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی، جس کے تحت پاکستانی افسران اور ماہرین نے مملکت کے دفاعی اداروں میں تربیت اور جدید کاری میں کردار ادا کیا۔\n\nان انتظامات نے اعتماد کی ایسی روایت پیدا کی جو مشترکہ مشقوں، پیشہ ورانہ تبادلوں اور سکیورٹی تعاون کی کئی دہائیوں کے دوران مزید گہری ہوتی گئی۔ اس لیے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اس تعلق کا آغاز نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط قریبی تعاون کا فطری ادارہ جاتی ارتقا ہے۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان انسانی روابط نے بھی اس شراکت داری کو مضبوط کیا ہے۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں رہتے اور کام کرتے ہیں، مملکت کی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے وطن سے مضبوط تعلق بھی برقرار رکھتے ہیں۔\n\nپاکستان میں سعودی عرب کے سفیر کے طور پر اپنے برسوں کے دوران میں نے خود پاکستانی عوام کی مملکت کے لیے گرمجوشی، وفاداری اور اخلاص کو قریب سے دیکھا۔ حکومتی قیادت سے لے کر عام شہریوں تک، سعودی عرب کے لیے ہمیشہ گہرا احترام اور محبت پائی جاتی تھی، اور ہماری دونوں قوموں کے درمیان پائیدار تعلق کے لیے سچا عزم بھی۔ اسی لیے میں گواہی دے سکتا ہوں کہ سعودی پاکستان تعلقات کی مضبوطی صرف سفارت کاری یا حکمت عملی میں نہیں بلکہ ہمارے عوام کے درمیان موجود حقیقی دوستی میں بھی ہے۔\n\n> *_وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے_*\n>\n> وزیراعظم سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کریں گے اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کے… pic.twitter.com/uINTsNesL3\n>\n> — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 12, 2026\n\nآج اس تعلق کی اہمیت ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ ایران کی جنگ نے خلیج کے خطے کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں، جن میں توانائی کے ڈھانچے پر حملے اور عالمی منڈیوں کو متاثر کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس لیے خلیج کا استحکام نہ صرف علاقائی سکیورٹی بلکہ وسیع تر عالمی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔\n\nایسی صورت حال میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان شراکت داری روک تھام اور استحکام کے ایک وسیع تر ڈھانچے میں حصہ ڈالتی ہے۔ اسی کے ساتھ دونوں ملک اس بات کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں کہ فوجی کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جائے۔ پاکستان نے علاقائی فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھا ہے اور ساتھ ہی سعودی سکیورٹی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے اپنے دفاعی انتظامات کو مضبوط کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔\n\nدونوں ملکوں کا مشترک مقصد واضح ہے کہ اس بحران کو ایک ایسے وسیع تر علاقائی تنازع میں پھیلنے سے روکنا جو پورے خطے کو نقصان پہنچائے۔\n\nآگے بڑھتے ہوئے، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان شراکت داری مسلم دنیا میں استحکام کا ایک اہم ستون بنی رہے گی۔ عرب اور اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی قیادت، اور پاکستان کی تزویراتی صلاحیتوں اور انسانی وسائل کا امتزاج ایک ایسے تعلق کو جنم دیتا ہے جس میں گہرائی بھی ہے اور مضبوطی بھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nغیر یقینی کے لمحات میں پائیدار شراکت داریاں اپنی اصل قدر دکھاتی ہیں۔ جدہ کی یہ ملاقات اس بات کی یاد دہانی تھی کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ایسا تعلق قائم کیا ہے جو جغرافیائی سیاست کے دباؤ اور علاقائی ہنگاموں کے جھٹکوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔\n\nمشترک تاریخ، باہمی احترام اور امن و استحکام کے لیے یکساں عزم کی رہنمائی میں سعودی عرب اور پاکستان کڑے وقت میں ایک ساتھ کھڑے رہیں گے، اور نہ صرف اپنی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے بلکہ پورے وسیع خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے بھی کام کرتے رہیں گے۔\n\nڈاکٹر علی عواض العسیری ریاض میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایرانیَن اسٹڈیز کے نائب چیئرمین اور پاکستان میں سعودی عرب کے سابق سفیر ہیں۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nپاکستان سعودی عرب تعلقات\n\nسعودی ولی عہد محمد بن سلمان\n\nشہباز شریف\n\nریاض\n\nاسلام آباد\n\nایران کی جنگ نے خلیج کے سٹریٹیجک ماحول کو بدل دیا ہے اور خطہ خطرناک ترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔\n\nڈاکٹر علی عواض العسیری\n\nہفتہ, مارچ 14, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 12 مارچ، 2026 کو جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو کر رہے ہیں (ایکس/پی ٹی وی نیوز آفیشل)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجب بھی ضرورت پڑی پاکستان سعودی عرب کی ’مدد‘ کے لیے آئے گا: ترجمان شہباز شریف\n\nپاکستان سعودی عرب، معدنیات میں سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش پر اتفاق\n\nپاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ خطے میں استحکام کا ضامن\n\nپاکستان سعودی عرب معاہدہ، تاریخ کا نیا باب\n\nSEO Title:\n\nپاکستان اور سعودی عرب کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہیں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستان اور سعودی عرب کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہیں"
}