{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiarcmt2ye4jczzzwpzwsr5tqm7ek7xqzaei2z5aqzfqs5tvo5j6iu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgydgokfk2n2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiam7wxqmx5fb53e2agf42ct4onu3mhath3mhkzgjoppqmwpfa3o7a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 107640
},
"path": "/node/185044",
"publishedAt": "2026-03-13T10:21:55.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پشاور",
"خیبر پختونخوا",
"امریکی",
"قونصل خانہ",
"سوویت یونین",
"افغانستان",
"اظہار اللہ",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پشاور میں واقع امریکی قونصل خانے کو امریکی حکام نے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔**\n\nبندش کی وجہ پیسوں کی بچت بتائی گئی ہے اور متعلقہ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کو ایک خط میں لکھا ہے کہ اس بندش سے سالانہ سرکاری خزانے کو 75 لاکھ ڈالر کی بچت ہو گی جبکہ پاکستان میں امریکی مفادات متاثر نہیں ہوں گے۔\n\nتاہم قونصل خانے کی بندش کے حوالے سے باضابطہ طور پر ابھی امریکی حکام کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو نے قونصل خانے کی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے پیغام بھیجا، لیکن اس خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔\n\nپشاور میں واقع امریکی قونصل خانہ دراصل افغانستان کے قریب امریکہ کی موجودگی کی ایک جگہ تھی اور اسی قونصل خانے نے 80 کی دہائی اور اس کے بعد 2001 میں نیٹو افواج کے افغانستان آنے کے بعد بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔\n\nکئی دہائیوں سے ایک کوٹھی میں واقع متحرک امریکی قونصل خانہ پشاور میں گورا قبرستان کے بالکل سامنے کے پوش علاقے میں واقع ہے۔\n\nمبصرین کے مطابق اس قونصل خانے نے سوویت یونین کی افغانستان میں شکست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔\n\nپاکستانی سیاست دان 25 نومبر 2013 کو پشاور میں قونصل خانے کے باہر امریکی اہلکار کرسٹوفر ایلن بیکن کو پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ایک یادداشت پیش کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاپنی جغرافیائی قربت کی وجہ سے یہ قونصل خانہ افغانستان اور خیبر پختونخوا کے حالات پر نظر رکھنے کا ایک اہم سفارتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔\n\nامریکی سفارت کار رچرڈ ہوگلینڈ 80 کی دہائی میں پشاور قونصل خانے میں ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں جبکہ بعد میں 2012 میں اسلام آباد میں امریکہ کے نائب سفیر بھی رہے۔\n\nانہوں نے کیسپیئن پالیسی سنٹر پر شائع اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پشاور قونصل خانہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ کے لیے ’گراؤنڈ زیرو تھا۔‘\n\nحالانکہ رچرڈ کے مطابق پشاور قونصل خانہ 80 کے اوائل میں بے کار پڑا تھا اور رونالڈ ریگن کے امریکی صدر بننے کے بعد اسے بند کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا لیکن سوویت یونین کی جنگ نے اس کو اہم بنا دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرچرڈ نے لکھا ہے کہ ’اس وقت سوویت یونین کے خلاف افغانستان کی مزاحمتی سیاسی و مذہبی جماعتیں تھیں اور اس وقت ہم ہی ان جماعتوں کو جوڑتے اور سوویت یونین کے خلاف معاونت فراہم کرتے تھے۔‘\n\nاپنے مضمون میں ریچرڈ نے قونصل خانے کی حدود میں ’دی امریکن کلب پشاور‘ کی ایک دلچسپ کہانی بھی لکھی ہے جہاں مختلف سفارت کار، غیر ملکی صحافی، خفیہ ایجنسیوں کے لوگ اور کچھ ’فریڈم فائٹرز‘ بھی آیا کرتے تھے۔\n\nافغانستان میں چار دہائیوں سے جاری جنگ نے جہاں پشاور کو بہت زیادہ بم دھماکوں اور خودکش حملوں سے متاثر کیا، ان میں سے بعض کا ہدف یہ امریکی قونصل خانہ بھی رہا۔\n\nاس کی سکیورٹی بڑھانے کی خاطر اس کے سامنے کی سڑک کو 26 سال قبل عام شہریوں کے لیے بند کر دیا گیا۔\n\nیہ فیصلہ آج بھی پشاور کے شہریوں کو کھٹکتا ہے۔ اس قونصل خانے کو یہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔\n\nایک نقاب پوش خاتون 17 ستمبر 2012 کو پشاور میں امریکی قونصل خانے کے سامنے سے گزر رہی ہیں ( اے ایف پی)\n\n\n\n\nقونصل خانہ کے باہر سکیورٹی رکاوٹیں اور جدید سکریننگ مشینیں اسے ایک ناقابلِ تسخیر چھوٹا مغربی قلعہ بنا دیتی تھیں۔\n\nاچھے دنوں میں یہ قونصل خانہ امریکی ثقافت اور آرٹ کے فروغ کا بھی وسیلہ بنا لیکن اس کی بندش سے خطے میں ایک طویل امریکی سفارتی دور کا اختتام ہوا ہے۔\n\nامریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے انسپکٹر جنرل برائے سفر کی 2011 کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں قائم امریکی قونصل خانہ دنیا میں امریکہ کی جانب سے سب سے خطرناک مقام تھا اور یہاں امریکی سفارت کاروں کے کام کرنے کو بہادری سمجھا جاتا ہے۔\n\nاس رپورٹ میں امریکی حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ پشاور قونصل خانے کو لاہور یا کراچی کی طرح ٹریٹ نہ کیا جائے بلکہ یہ ایسا ہی ہو جیسے امریکہ کا افغانستان کے کسی صوبے میں قونصل خانہ قائم ہو۔\n\n**بندش کی وجہ**\n\nامریکہ کی جانب سے پشاور قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ مبصرین کے مطابق معمولی فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ اس خطے میں سیاسی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔\n\nایم ریاض خان پشاور میں مقیم صحافی اور پشاور پریس کلب کے صدر ہیں جنہوں نے افغانستان میں سوویت یونین کی جنگ اور اس دوران رونما ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ کی ہے۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ دنیا میں امریکہ کی پوسٹوں میں ایک اہم آبزرویشن پوسٹ تھی جہاں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 80 کی دہائی میں سوویت یونین کو شکست دینے میں کردار ادا کیا تھا۔\n\n**قونصل خانے کی بندش، پشاور میں امریکی سفارتی دور کا اختتام** پشاور کا 11 ہسپتال روڈ شہر کے اہم ترین ایڈریسز میں سے ایک رہا ہے۔ یہ کئی دہائیوں سے ایک کوٹھی میں واقعے اس متحرک امریکی قونصل خانے کا پتہ ہے جس نے سویت یونین کی افغانستان میں شکست میں اہم کردار ادا کیا، تاہم امریکی حکام نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ یہ اب یہ متحرک مرکز ہمیشہ کے لیے بند ہو جا رہا ہے۔\nاپنی جغرافیائی قربت کی وجہ سے، یہ قونصل خانہ افغانستان اور خیبر پختونخوا کے حالات پر نظر رکھنے کا ایک اہم سفارتی مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری جنگ نے جہاں پشاور کو بہت زیادہ بم دھماکوں اور خودکش حملوں سے متاثر کیا، ان میں سے بعض کا ہدف یہ امریکی قونصل خانہ بھی رہا۔\nاس کی سکیورٹی بڑھانے کی خاطر اس کے سامنے کی سڑک کو 26 سال قبل عام شہریوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ آج بھی پشاور کے شہریوں کو کھٹکتا ہے۔ اس قونصل خانے کو یہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔\nقونصل خانہ کے باہر سکیورٹی رکاوٹیں اور جدید سکریننگ مشینیں اسے ایک ناقابل تسخیر چھوٹا مغربی قلعہ بناتی دیتی تھیں۔ اچھے دنوں میں یہ قونصل خانہ امریکی ثقافت اور آرٹ کے فروغ کا بھی وسیلہ بنا۔ اس کی بندش سے خطے میں ایک طویل امریکی سفارتی دور کا اختتام ہوا ہے۔\n---\n\nایم ریاض کے مطابق،’یہ صرف قونصل خانہ یا سفارتی مقام کی بندش نہیں تاریخ کی اہم باب کی بندش ہے کیونکہ سرد جنگ، سویت یونین کی افغانستان آمد اور اس کے بعد 9/11 کے نتیجے میں خطے میں تبدیلی کی وجہ سے پشاور قونصل خانے نے ایک اہم اور حساس مقام کا کرداد ادا کیا ہے۔‘\n\nایم ریاض سمجھتے ہیں کہ اس سے بظاہر یہ بھی لگتا ہے کہ امریکہ شاید افغانستان میں مزید دلچسپی نہیں لے رہا جبکہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جب اسلام آباد کا سفارت خانہ ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہو تو یہاں اب امریکہ کے مطابق شاید قونصل خانے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’90 کی دہائی میں یہاں سے ویزوں کا اجرا ہوتا تھا لیکن بعد میں بند ہو گیا جبکہ اس قونصل خانے میں ویزا سروس یا ایسی کسی عوامی مفاد کی خدمات فراہم نہیں کی جاتی تھیں۔\n\n’یہ صرف سٹریٹجک مقاصد کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن کبھی کبھی مختلف تقریبات منعقد کر کے صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات کو بلاتے تھے۔‘\n\nافغانستان اور پاکستان میں شدت پسندی پر گہری نظر رکھنے وال صحافی و تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ان کے لیے پشاور قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ حیران کن ہے۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان اب بھی اور ہمیشہ کے لیے امریکہ کے لیے اہم ہوگا اور اسی کے لیے پشاور شہر بھی اہمیت کا حامل ہے۔\n\nرفعت اللہ نے بتایا کہ ’مجھے حیرانی ہوئی جب بندش کے فیصلے کے حوالے سے خبر پڑھی کیونکہ اس خطے میں افغانستان اہم ہے اور یہ امریکہ کے لیے اسی طرح اہم ہی ہوگا۔‘\n\nپشاور\n\nخیبر پختونخوا\n\nامریکی\n\nقونصل خانہ\n\nسوویت یونین\n\nافغانستان\n\nامریکی حکام نے جمعرات کو اعلان کیا کہ پشاور میں اس کا متحرک قونصل خانہ ہمیشہ کے لیے بند ہونے جا رہا ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعہ, مارچ 13, 2026 - 15:15\n\nMain image:\n\n> <p>پشاور میں امریکی قونصل خانے کے باہر تعینات بھاری سکیورٹی دیکھی جا سکتی ہے (انڈپینڈنٹ اردو) </p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n6T69048l\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپشاور اور نیویارک کو جڑواں شہر قرار دینے کا فیصلہ خوش آئند: گورنر کنڈی\n\nبیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ کھولنے، فلسطینی امداد کا اعلان\n\nپاکستان کی بن غازی میں قونصل خانہ کھولنے کے لیے بات چیت: روئٹرز\n\nبیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ کھولنے، فلسطینی امداد کا اعلان\n\nSEO Title:\n\nپشاور: افغانستان میں سوویت یونین کی شکست میں اہم کردار ادا کرنے والا امریکی قونصل خانہ بند\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پشاور میں امریکی قونصل خانہ: ’قونصل خانہ نہیں، ایک باب بند ہو رہا ہے‘"
}