{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihq3dgqns6dqiidanfkby5lsa7c552kyl72qx7blmwc4yvwxjqlc4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgydgapxcm62"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibldcuscyklvkukkngie2oir5uy45drb3atl6unk2rnn62g2nhrr4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 190171
  },
  "path": "/node/185047",
  "publishedAt": "2026-03-13T12:22:31.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "pic.twitter.com/30qP2EAn2E",
    "March 13, 2026",
    "کوہاٹ",
    "ڈرون حملہ",
    "خیبر پختونخوا",
    "اظہار اللہ",
    "پاکستان",
    "news",
    "@TararAttaullah"
  ],
  "textContent": "**خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی پولیس کا کہنا ہے کہ سپیشل پولیس سکواڈ نے جمعے کو علاقے میں تین مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے ناکارہ بنا کر گرا دیا ہے۔**\n\nکوہاٹ پولیس کے سربراہ شہباز الٰہی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پولیس کی خصوصی ٹیم نے اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کے سگنلز پہلے جام کر دیے جس سے ڈرون کی موٹر بند ہو گئی۔\n\nمزید بتایا گیا کہ ’موٹر بند ہونے کے بعد ڈرون زمین پر آگرا جبکہ ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔‘\n\n13 مارچ 2026 کو کوہاٹ میں گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ (کوہاٹ پولیس)\n\n\n\n\nدوسری جانب افغان طالبان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ آج افغان طالبان کی جانب سے کوہاٹ میں پاکستان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں کوہاٹ میں فوجی قلعے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔\n\nتاہم پاکستان نے اس کی تردید کی ہے اور وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ دراصل افغان طالبان کی حمایت یافتہ ٹی ٹی پی کی جانب سے کوہاٹ میں تین ڈرون استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، جنہیں سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، تاہم ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو عام شہری زخمی ہوگئے۔\n\nبیان کے مطابق: ’ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مشاہداتی طرز کا ڈرون تھا جس کو موڈیفائی کر کے بارودی مواد کو لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس سے پہلے بھی افغان طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے صوابی، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فضائی کارروائی کی تھی۔\n\nتاہم پاکستانی حکام کی جانب سے بعد میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہاں بھی ڈرون کا استعمال کیا گیا تھا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔\n\nحالیہ پاکستان اور افغانستان کشیدگی میں افغان طالبان کی جانب سے ڈرون استعمال کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے جبکہ دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کی جانب سے بھی مختلف کارروائیوں میں چھوٹے کواڈکاپٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔\n\nاس مسئلے کے حل کے لیے اب خیبر پختونخوا پولیس کو اینٹی ڈرون گن اور نظام بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ڈرون حملوں کو روک سکیں۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nکوہاٹ میں ڈرون گرائے جانے کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پاکستان اور افغانستان کے حالات کشیدہ ہیں اور سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔\n\nوزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جمعے کی سہ پہر ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک افغان طالبان کے 663 کارندے مارے گئے جبکہ 887 زخمی ہوئے۔\n\nاسی طرح افغانستان کی 249 چوکیاں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کردی گئیں۔\n\n> Operation Ghazb lil Haq\n>  Update 1600 hours 13 March\n>\n>  Summary of Fitna Al Khawarij / Afghan Taliban losses\n>  887+ Injured\n>  ▪️249 Posts destroyed\n>  44 Posts captured\n>  224 tanks, armoured vehicles, artillery guns destroyed\n>  70 terrorists and terrorist… pic.twitter.com/30qP2EAn2E\n>\n> — Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 13, 2026\n\nوزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے 70 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’12 اور 13 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں سے منسلک تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے، بشمول لاجسٹک اڈوں اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nبقول وزیر اطلاعات: ’جاری کی گئ ویڈیو واضح طور پر دکھاتی ہے کہ پاکستان نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف انہی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو افغانستان کے اندر سے دہشت گردی کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت کرتی ہیں اور جہاں دہشت گردوں کے کیمپ موجود تھے۔ افغان حکومت کے عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس کسی شہری آبادی یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘\n\nکوہاٹ\n\nڈرون حملہ\n\nخیبر پختونخوا\n\nخیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی پولیس کا کہنا ہے کہ سپیشل پولیس سکواڈ نے جمعے کو علاقے میں تین مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے ناکارہ بنا کر گرا دیا ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعہ, مارچ 13, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p>13 مارچ 2026 کی اس تصویر میں کوہاٹ میں گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے (کوہاٹ پولیس)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغانستان سے مختلف شہروں پر ڈرون حملے ناکام: پاکستان\n\nپاکستان نے افغانستان میں 4 عسکریت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: سکیورٹی حکام\n\nپاکستانی حملوں میں 4 شہری جان سے گئے: افغان حکومت کا دعویٰ\n\nافغان طالبان ترجمان جھوٹے بیانات پر بے نقاب: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nکوہاٹ پولیس نے مشتبہ ڈرونز گرا دیے، افغان طالبان کا حملے کا دعویٰ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "کوہاٹ پولیس نے مشتبہ ڈرونز گرا دیے، افغان طالبان کا حملے کا دعویٰ"
}