{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifczrxvfgmsq3vt5t5mhadrii7kn5vg2aavqeouwhe5oihrrsyqoy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgydfriiuhx2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaq5rrgw2fyhu6atc4xcl3nc4suh4wdugrfi2nxz3t5r4yehyw76y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 161458
  },
  "path": "/node/185052",
  "publishedAt": "2026-03-13T15:16:38.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "12233.JPG",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "اسلام آباد",
    "ڈرون",
    "ڈرون حملہ",
    "افغانستان",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے میں منڈلانے والے دو یو اے وی کو فضائی دفاع نے جمعے کو مار گرایا ہے، جس کی تصدیق سینیئر پاکستانی حکام نے کی ہے۔**\n\nپاکستانی حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ شام سات بج کر 15 منٹ کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد میں حمزہ کیمپ کے اوپر دو ڈرون منڈلا رہے تھے جنہیں ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔\n\nدوسری جانب افغان وزارت دفاع نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں ’فضائی حملے‘ کا دعویٰ کیا ہے۔\n\nافغان وزارت دفاع نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ ’جاری جوابی کارروائی ’ریجیکٹ اوپریشن‘ کے تسلسل میں آج شام تقریباً 5 بجے افغان فضائیہ نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں پاکستانی فوج کے سٹریٹجک مرکز ‘حمزہ‘ پر فضائی حملہ کیا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس دوران اسلام آباد کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے کہا کہ چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو روکے جانے کے بعد اسلام آباد کی فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہے۔\n\nسول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بھی کہا گیا کہ ’اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل وجوہات کی بنا پر آج کچھ دیر کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی آپریشنل ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم تمام پروازیں اب معمول کے مطابق آپریٹ ہو رہی ہیں۔‘\n\nترجمان سول ایوی ایشن نے ’مسافروں سے گزارش کی ہے کہ اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کریں۔‘\n\nپاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے بھی سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی فضائی حدود کی بندش سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔\n\n## 12233.JPG\n\nاس سے قبل آج خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں بھی پولیس نے تین ڈرون حملے ناکام بنائے تھے، جن کے نتیجےمیں تین افراد زخمی ہوئے۔\n\nڈرون گرائے جانے کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب پاکستان اور افغانستان کے حالات کشیدہ ہیں اور سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔\n\nوزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جمعے کی سہ پہر ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک افغان طالبان کے 663 کارندے مارے گئے جبکہ 887 زخمی ہوئے۔\n\nاسی طرح افغانستان کی 249 چوکیاں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کردی گئیں۔\n\nوزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے 70 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’12 اور 13 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں سے منسلک تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے، بشمول لاجسٹک اڈوں اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nبقول وزیر اطلاعات: ’جاری کی گئ ویڈیو واضح طور پر دکھاتی ہے کہ پاکستان نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف انہی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو افغانستان کے اندر سے دہشت گردی کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت کرتی ہیں اور جہاں دہشت گردوں کے کیمپ موجود تھے۔ افغان حکومت کے عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس کسی شہری آبادی یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘\n\nاسلام آباد\n\nڈرون\n\nڈرون حملہ\n\nافغانستان\n\nپاکستانی حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی کہ شام سات بج کر 15 منٹ کے بعد فیض آباد میں حمزہ کیمپ کے اوپر دو ڈرون منڈلا رہے تھے جنہیں ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, مارچ 13, 2026 - 20:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">16 نومبر 2020 کو اسلام آباد کا ایک فضائی منظر (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکوہاٹ پولیس نے مشتبہ ڈرونز گرا دیے، افغان طالبان کا حملے کا دعویٰ\n\nافغانستان سے مختلف شہروں پر ڈرون حملے ناکام: پاکستان\n\nپاکستان نے افغانستان میں 4 عسکریت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: سکیورٹی حکام\n\nپاکستانی حملوں میں 4 شہری جان سے گئے: افغان حکومت کا دعویٰ\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد کی فضائی حدود میں دفاعی نظام نے افغانستان کے دو ڈرون مار گرائے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "اسلام آباد کی فضائی حدود میں دفاعی نظام نے افغانستان کے دو ڈرون مار گرائے"
}