{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigstzd7tldov54l3pjnu723tgklm76nyhly7oty6wcphb2t6q5owq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgvmamptp4t2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibsldku66pspicuhx6ugdrpyvwmx3f4fuv4fvlmlx2hed4ftxdn4i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 132046
  },
  "path": "/node/185030",
  "publishedAt": "2026-03-12T12:20:53.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "March 11, 2026",
    "پاک افغان سرحد",
    "افغانستان",
    "پاکستان",
    "سرحدی جھڑپیں",
    "جنگ",
    "اموات",
    "ڈیورنڈ لائن",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news",
    "@TararAttaullah"
  ],
  "textContent": "**طالبان کی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ مشرقی افغانستان میں پاکستانی توپ خانے اور مارٹر فائر سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد جان سے چلے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا اور دونوں طرف سے اموات کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔**\n\nکابل میں طالبان حکام کے مطابق، دونوں فریقوں کے درمیان سرحد پار جھڑپوں کے نتیجے میں منگل سے اب تک افغانستان میں سات افراد مارے جا چکے ہیں۔\n\nپاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بدھ کو ایکس پر پوسٹ میں بتایا تھا کہ ’پاکستانی حملوں سے اب تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے مجموعی طور پر 641 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔‘\n\nاسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پاکستان نے ’مضبوطی کے ساتھ ٹارگٹڈ آپریشنز کیے ہیں، اس اصول کے ساتھ کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔‘\n\n> ✅Operation Ghazb lil Haq\n>  ✅Update 1600 hours 11 March\n>\n>  ✅Summary of Fitna Al Khawarij / Afghan Taliban losses\n>  ▪️641 Killed,\n>  ▪️855+ Injured\n>  ▪️243 Check posts destroyed\n>  ▪️42 Posts captured & destroyed\n>  ▪️219 tanks, armoured vehicles, artillery guns destroyed\n>  ▪️65 terrorists and…\n\n> — Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 11, 2026\n\nافغان حکومت کے ترجمان حمداللہ فطرت نے کہا کہ افغانستان میں تازہ ترین اموات جمعرات کی صبح صوبہ خوست کے گاؤں صدکو میں ہوئیں، جس میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کے گھروں اور خانہ بدوشوں کے خیموں کو نشانہ بنا رہا ہے۔\n\nانہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ایک خانہ بدوش خاندان کے چار افراد، جن میں ایک عورت اور ایک مرد، کے علاوہ دو بچے، ایک لڑکی اور ایک لڑکا شامل ہیں، مارے گئے اور تین بچے زخمی ہوئے۔‘\n\nصوبائی گورنر کے دفتر نے بھی اموات کی یہی تعداد بتائی۔ منگل کو حمد اللہ فطرت نے کہا کہ سرحدی صوبے پکتیا میں پاکستانی گولہ باری سے تین شہری مارے گئے۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بھی اے ایف پی کو یہی بتایا۔\n\nافغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا ہے کہ افغانستان میں 26 فروری سے 5 مارچ کے درمیان پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں 24 بچوں سمیت 56 شہری مارے گئے ہیں۔\n\nاقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے مطابق تقریباً 115,000 افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔\n\n**کھلی جنگ**\n\nاسلام آباد افغانستان پر پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جنہوں نے پاکستان میں کئی مہلک حملوں کے ساتھ ساتھ دولت اسلامیہ خراسان صوبہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔\n\nافغان حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدونوں ممالک کے درمیان لڑائی 26 فروری کو اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی، جب افغانستان نے سرحد کے ساتھ ایک حملہ شروع کیا، جو اس سے قبل کیے گئے ایک پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں ٹی ٹی پی کو نشانہ بنا رہے تھے۔\n\nاس کے بعد پاکستان نے 27 فروری کو دارالحکومت کابل پر بمباری کرتے ہوئے طالبان حکام کے خلاف ’کھلی جنگ‘ کا اعلان کیا۔\n\nاس کے بعد سے سرحدی علاقوں میں جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔\n\nافغانستان کی جانب رہائشیوں نے کنڑ، پکتیا اور پکتیکا صوبوں میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ کی آوازیں سنیں، جب کہ کابل اور سرحد کے درمیان جلال آباد میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے شہر پر ڈرون کی آوازیں سنی۔\n\nجلال آباد سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر قریب ترین سرحدی کراسنگ پر بھی جھڑپوں کی اطلاع ملی۔\n\nپاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی شدید گولہ باری کی اطلاعات ہیں لیکن ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔\n\nپشاور کے شمال مغربی شہر میں ایک پاکستانی سینیئر سکیورٹی افسر نے اے ایف پی کو بتایا: ’گذشتہ رات طورخم میں پاک افغان سرحد پر افغان جانب سے شدید گولہ باری کی گئی۔‘\n\nافسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید کہا، ’پاکستان نے بھی سخت جوابی کارروائی کا جواب دیا۔‘\n\nپاک افغان سرحد\n\nافغانستان\n\nپاکستان\n\nسرحدی جھڑپیں\n\nجنگ\n\nاموات\n\nڈیورنڈ لائن\n\nپاکستان کا موقف ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا اور دونوں طرف سے اموات کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, مارچ 12, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p>ایک افغان باشندہ 28 فروری 2026 کو قندھار کے تختہ پل ضلع میں مہاجرین کے رجسٹریشن سینٹر کے قریب پاکستانی فضائی حملے کے مقام پر ایک تباہ شدہ کار کے قریب سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان، انڈیا کی سلامتی کونسل میں افغانستان پر تکرار\n\nپاکستان اور افغانستان میں جھڑپیں جاری، ’583 افغان طالبان مارے گئے‘\n\nپاکستان اور افغانستان میں جھڑپیں، ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر\n\nافغانستان کے بلوچستان میں 16 مقامات پر حملے: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nپاکستانی حملوں میں 4 شہری جان سے گئے: افغان حکومت کا دعویٰ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستانی حملوں میں 4  شہری جان سے گئے: افغان حکومت کا دعویٰ"
}