{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidjsf7dr4fax6zlblmuqe4okpbt7ds7yx37iundq6b7bhhk2a2hem",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgvma5zyifa2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihs7epwoax3vg3qx2tdqswxzwucudftkfb3gmkhtqgpjc6nmzerda"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 85358
},
"path": "/node/185032",
"publishedAt": "2026-03-12T16:25:29.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"طورخم",
"خیبر",
"افغانستان",
"جرگہ",
"اظہار اللہ",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کی بلدیاتی حکومت کے نمائندے شاہ خالد نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر گذشتہ تقریباً 10 روز سے ایک لاوارث لاش پڑی ہے، جسے جمعرات کو دونوں ملوں کے ایک جرگے کی کوششوں کے باوجود اٹھایا نہیں جا سکا۔**\n\nتاحال سرکاری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا کہ یہ لاش پاکستانی یا افغان شہری کی ہے، تاہم پاکستان کے ضلع خیبر کے جرگے کے ارکان کے مطابق افغان وفد کا کہنا ہے کہ یہ لاش ایک افغان محنت کش کی ہے۔\n\nضلع خیبر کے سرکاری حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ اس لاش کو اٹھانے کے سلسلے میں ضلع خیبر کے مقامی مشران اور افغانستان کے کچھ مشران کے جرگے نے آج طورخم پر ملاقات کی۔\n\nاس موقعے پر پاکستانی جرگے میں شامل مقامی مشران نے سفید رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے قبائلی عمائدین جو طورخم سرحد پر پڑی نامعلوم لاش کو اٹھانے وہاں پہنچے تھے (شاہ خالد)\n\nشاہ خالد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آج اس سلسلے میں افغان جرگے سے ملاقات کی اور جرگے کی درخواست پر آج شام ساڑھے پانچ بجے تک عارضی فائر بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔\n\nشاہ خالد نے بتایا کہ ملاقات کا مقصد لاش کی شناخت اور اسے دفنانا تھا، تاہم وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا لیکن اب بھی ’امید‘ ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا: ’افغان وفد نے لاش کی شناخت کی اور بتایا کہ یہ دراصل سرحد پر کام کرنے والے افغان پورٹر (ویل چیئر چلانے والا مزدور) ہے، جسے ذہنی مسائل بھی درپیش تھے، جو جھڑپوں کے دوران گیٹ کے پاس آیا اور مارا گیا۔‘\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔\n\nشاہ خالد نے بتایا کہ ’جب لاش کی شناخت ہو گئی کہ یہ افغان شہری کی ہے، تو افغان وفد نے بتایا کہ لاش اٹھانے سے پہلے وہ افغان حکام سے بات کریں گے، جس کے بعد وہ چلے گئے۔ پھر فائر بندی کا وقت بھی ختم ہو گیا اور وفد واپس نہیں آیا۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں سرکاری حکام نے یہ اختیار دیا تھا کہ اگر لاش کی شناخت نہ ہو سکی تو اسے اٹھا کر پاکستان میں عزت سے دفن کیا جائے لیکن چونکہ لاش کی شناخت ہوگئی تو افغان وفد سے لاش اٹھانے کی درخواست کی گئی۔\n\nشاہ خالد کے مطابق: ’لاش کی حالت بھی خراب تھی اور پہچان سے باہر تھی لیکن کچھ نشانیوں سے شناخت ہوئی، جیسے سرخ ٹوپی، جو وہاں پر موجود تھی جبکہ ان کے پہنے ہوئے چپل سے بھی شناخت میں مدد ملی۔ ‘\n\nانہوں نے بتایا کہ اب بھی ہماری کوشش ہے کہ افغان وفد سے رابطہ قائم رکھ سکیں اور لاش کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان حکام اسے اٹھائیں۔\n\nاس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطے کی کوشش کی، لیکن اس خبر کی اشاعت تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔\n\nطورخم\n\nخیبر\n\nافغانستان\n\nجرگہ\n\nتاحال سرکاری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا کہ آیا یہ لاش پاکستانی یا افغان شہری کی ہے، تاہم افغان وفد کے مطابق یہ لاش ایک افغان محنت کش کی ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعرات, مارچ 12, 2026 - 21:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد طورخم پر گذشتہ تقریباً 10 دنوں سے موجود ایک لاوارث لاش (شاہ خالد)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستانی حملوں میں 4 شہری جان سے گئے: افغان حکومت کا دعویٰ\n\nافغان طالبان ترجمان جھوٹے بیانات پر بے نقاب: پاکستان\n\nکابل پر حملہ ہوا تو اسلام آباد پر بھی حملہ ہوگا: افغان وزیر دفاع\n\nپاکستان اور افغانستان میں جھڑپیں، ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر\n\nSEO Title:\n\nطورخم بارڈر پر 10 دنوں سے پڑی لاش، جسے اٹھانے والا کوئی نہیں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "طورخم بارڈر پر 10 دنوں سے پڑی لاش، جسے اٹھانے والا کوئی نہیں"
}