{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibukxhaysc2taatd3wjbitxofzhzhzvpy6a4bbjne7vkfp4pnh7be",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgsv3l6kihy2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreif5yxhzksy3fh4ueyrupfajfcgf6dftqluscf72amc6n3dmafhsm4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 169019
},
"path": "/node/185002",
"publishedAt": "2026-03-11T05:28:14.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"March 11, 2026",
"ایران",
"جزیرہ",
"آبنائے ہرمز",
"ایرانی تیل",
"امریکہ",
"اسرائیل",
"اے ایف پی",
"میگزین",
"news",
"@realZalmayMK"
],
"textContent": "**ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا خارگ جزیرہ، شمالی خلیج میں ایک ناہموار زمین کا ٹکڑا ہے، جو ملک کی تقریباً تمام خام تیل کی برآمد کا مرکز ہے اور اس پر قبضہ کرنے کی کوئی بھی کوشش اس تنازعے میں بڑی شدت کی علامت ہوگی۔**\n\nامریکہ اور اسرائیل نے اب تک جزیرے کے ارد گرد محتاط انداز اپنایا ہوا ہے لیکن ایک امریکی نیوز ویب سائٹ اکسیوس نے اپنی ایک رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ خارگ پر قبضے کی آپشن موجود ہے۔\n\nجے پی مورگن کے مطابق جزیرہ، جو ایرانی سرزمین سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے، تقریباً 90 فیصد ایران کی خام تیل کی برآمدات دیکھتا ہے۔\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر، جو نیو یارک کے مشہور مین ہیٹن کے سائز کا تقریباً ایک تہائی ہے، کوئی بھی فیصلہ فوری نتائج کا باعث بنے گا۔\n\nجے پی مورگن کا کہنا ہے کہ ’براہ راست حملہ فوری طور پر ایران کی خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ روک دے گا، جس سے آبنائے ہرمز میں شدید جوابی کارروائی کا امکان پیدا ہوگا۔‘\n\n> Seizing Iran's Kharg Island, and controlling operations on and from it can provide huge leverage for the USA in affecting the future of the regime in Tehran. In addition, it will make it unnecessary to attack and destroy Iran's oil infrastructure and undermine global energy…\n>\n> — Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) March 11, 2026\n\nایرانی حملوں نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو تقریباً روک دیا ہے، جس کے ذریعے عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، اور اس نے دیگر خلیجی ریاستوں میں تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بھی اثر ڈالا ہے۔\n\nلیکن واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیر ایسٹ پالیسی کے سینیئر فیلو فرزین ندیمی نے اے ایف پی کو بتایا ایرانی توانائی کے وسائل اب تک متاثر نہیں ہوئے ہیں اور جزیرے کو نشانہ بنانا ’ایک بہت خطرناک اقدام‘ ہوگا۔\n\nایران نہ صرف ’جنگ کے دوران متبادل ذرائع استعمال کرنے میں تجربہ کار ہے‘، بلکہ وہ ’اگر چاہے تو خلیج کی تیل اور گیس کی تنصیبات پر مزید زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ بہت جلد ایسا کر سکتا ہے۔‘\n\n’انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ جزیرے پر قبضے کی کوشش امریکی کانگریس کی بحثوں سے آگے جا پائے گی۔ یہ امکان 1979 میں ایرانی انقلاب کے دوران یرغمال بنائے جانے والے امریکی فوجیوں کے بحران کے بعد سے واشنگٹن میں زیر بحث ہے۔\n\nخارگ نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں اہم ترقی دیکھی جب ملک کے دیگر ساحل کے بہت سے علاقے سپر ٹینکرز کے لیے بہت کم گہرے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایران نے 2021 میں خلیج عمان میں آبنائے ہرمز کے باہر جازک ٹرمینل کھول کر اپنی برآمدی صلاحیتوں کو متنوع بنانے کی کوشش کی، لیکن جے پی مورگن کے مطابق خارگ ایران کے لیے ’ایک اہم کمزوری‘ ہے۔\n\nجے پی مورگن نے ایران کی فوج کی اچھی طرح سے وسائل سے لیس نظریاتی شاخ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ایران کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے اور ایرانی انقلابی گارڈ کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔\n\n**’بہت مشکل‘**\n\nگیارہ روز سے جاری جنگ نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیر کو یہ تجویز کہ تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے نے مارکیٹ کو کچھ سکون دیا۔\n\nہفتے کے آخر میں، وائٹ ہاؤس کے قومی توانائی کونسل کے ڈائریکٹر جارڈ ایجن نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایران میں اتنی بڑی تیل کی ذخائر کو دہشت گردوں کے ہاتھوں سے نکالیں۔‘\n\nحال ہی میں، واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ امریکی زمینی افواج کی تعیناتی کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ خارگ جزیرہ ایک ابتدائی ہدف ہو گا۔\n\nندیمی نے کہا کہ واشنگٹن ہوسکتا ہے کہ جنگ بندی کے بعد جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے، لیکن یہ ’جنگ کے دوران ایک دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔‘ خارگ تقریباً تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں اور ٹینکوں کا ایک پورا جزیرہ ہے۔\n\nان کا کہنا ہے کہ ’اس جزیرے پر فوجی کارروائی کرنا بہت مشکل ہے۔‘\n\nلیکن دیگر تیل کے بنیادی ڈھانچے بھی نشانے پر ہو سکتے ہیں، ٹرمپ نے بار بار اپنی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرانے اور جنوری میں ملک کے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔\n\nایران نے جو اوپیک (تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم) کے اندر چوتھا بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے وعدہ کیا ہے کہ جنگ کے دوران خلیج سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کیا جائے گا۔\n\nاس نے کہا اس کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ جیسا جواب دیا جائے گا۔\n\nہفتے کو، اسرائیل نے ایران میں تیل کی تنصیبات پر جنگ کا پہلا حملہ کیا، لیکن اس نے کہا کہ یہ ’فوجی بنیادی ڈھانچے کے آپریشن کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔‘\n\nاسی دن، اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائر لاپڈ نے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: ’اسرائیل کو خارگ جزیرے پر ایران کے تمام تیل کی تنصیبات اور توانائی کی صنعت کو تباہ کرنا چاہیے؛ یہی ایران کی معیشت کو تباہ کرے گا اور حکومت کو گرا دے گا۔‘\n\nایران\n\nجزیرہ\n\nآبنائے ہرمز\n\nایرانی تیل\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر، جو نیو یارک کے مشہور مین ہیٹن کے سائز کا تقریباً ایک تہائی ہے، کوئی بھی فیصلہ فوری نتائج کا باعث بنے گا۔\n\nاے ایف پی\n\nبدھ, مارچ 11, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یہ ہینڈ آؤٹ تصویر جو یورپی خلائی ایجنسی نے کوپرنیکس سینٹینل-2 سیٹلائٹ سے2 مارچ 2026 کو لی ہے، ایران کے خارگ جزیرے کا منظر دکھا رہی ہے، جو ملک کا مرکزی خام تیل برآمد کرنے کا ٹرمینل اور دنیا کو اس کی تیل کی زیادہ تر ترسیل کا ذمہ دار ہے (یورپی خلائی ایجنسی / اے ایف پی)</p>\n\nمیگزین\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسرائیل سے ایرانی تیل کی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی بات ہو رہی ہے: بائیڈن\n\nبلوچستان میں ایرانی تیل کی ترسیل میں کمی، باہر لے جانے پر سختی: حکام\n\nامریکہ نے ایرانی تیل پر نئی پابندیاں لگا دیں\n\nبلوچستان: کیا ایرانی تیل پر پابندی مسئلے کا حل ہے؟\n\nSEO Title:\n\nکیا امریکہ ایران کے تیل کے اہم مرکز جزیرہ خارگ پر حملہ کرے گا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "کیا امریکہ ایران کے تیل کے اہم مرکز جزیرہ خارگ پر حملہ کرے گا؟"
}