{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreig652vfprooga6iky5iysgvwi3sjsr2bljssuhndbrmx33v3kqvv4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgsv2kahses2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihaoiy2cj4oyx3neeod5eiwzg3gpiqiwklf2wy5pfur4otfhlfle4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 125446
},
"path": "/node/185001",
"publishedAt": "2026-03-11T11:15:19.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"11ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں",
"دا گارڈین",
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"وزارة_الدفاع",
"pic.twitter.com/7YlfD8L1N6",
"March 11, 2026",
"ایشیا",
"سعودی عرب",
"ایران",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"news",
"لائیو اپ ڈیٹس",
"@modgovksa"
],
"textContent": "ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 12ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔\n\n* * *\n\n11ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں\n\n* * *\n\n**رات 8 بج کر 32 منٹ: ایران اور غزہ جارحیت پر اختلافات: سپین کا اسرائیل سے سفیر مستقل طور پر واپس بلانے کا اعلان**\n\nایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مخالفت اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد سپین اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔\n\nسپین نے منگل کو اسرائیل سے اپنا سفیر مستقل طور پر واپس بلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔\n\nسپین کے سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق، تل ابیب میں متعین ہسپانوی سفیر کی خدمات ختم کر دی گئی ہیں۔\n\nسپین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اسرائیل میں ہسپانوی سفارت خانے کے معاملات اب ناظم الامور (Charge d'affaires) سنبھالیں گے۔\n\nاس سفارتی بحران کی اہم وجوہات یہ ہیں:\n\nایران پر حملوں کی مخالفت: سپین نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فوجی حملوں کی سخت مخالفت کی ہے، جس نے دونوں ملکوں کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے۔\n\nاسلحہ کی ترسیل پر پابندی: گزشتہ سال ستمبر میں سپین نے ان تمام طیاروں اور بحری جہازوں کے لیے اپنی حدود اور بندرگاہیں بند کر دی تھیں جو اسرائیل کے لیے اسلحہ لے کر جا رہے تھے۔\n\nفلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا: مئی 2025 میں سپین کی جانب سے فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کیے جانے پر اسرائیل نے احتجاجاً اپنا سفیر پہلے ہی واپس بلا لیا تھا۔\n\nیاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز سے ہی سپین اور اسرائیل کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ سپین یورپی یونین کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو اسرائیل کی فوجی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔\n\n* * *\n\n**شام 7 بج کر 15 منٹ پر: مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے، ایرانی سفیر**\n\nقبرص میں ایران کے سفیر نے تصدیق کی ہے کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد سمیت خاندان کے چھ افراد جان سے چلے گئے تھے۔\n\nدارالحکومت نکوسیا میں اپنے سفارت خانے کے احاطے میں برطانوی اخبار دا گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی سفیر علی رضا سالاریان نے ان حالات کی وضاحت کی جن میں 56 سالہ خامنہ ای زخمی ہوئے اور کہا کہ ان کا اس حملے سے بچنا خوش قسمتی تھی، جس نے مرحوم آیت اللہ کی رہائش گاہ کو منہدم کر دیا تھا۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’وہ بھی وہاں تھے اور وہ اس بمباری میں زخمی ہوئے تھے لیکن میں نے اس کا ذکر غیر ملکی خبروں میں نہیں دیکھا۔\n\n’میں نے سنا ہے کہ ان کی ٹانگوں اور ہاتھ اور بازو میں چوٹ لگی ہے... مجھے لگتا ہے کہ وہ ہسپتال میں ہے کیونکہ وہ زخمی ہے۔‘\n\nیہ بتاتے ہوئے کہ اتوار کو اپنے والد کی جگہ لینے کے بعد سے کیوں مجتبیٰ عوام کے سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی بیان دیا، انہقں نے مزید کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ تقریر کرنے کے قابل ہیں۔‘\n\nیہ حملہ امریکی قیادت میں ایران کے خلاف فضائی حملوں کے پہلے دن ہوا تھا، جب تہران کے وسط میں وسیع و عریض صدارتی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر تھے، جن میں مجتبیٰ کی اہلیہ زہرہ بھی شامل تھیں، جو اس حملے میں جان سے چلی گئی تھیں۔\n\nایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کی اہلیہ منصور کی فضائی حملے کے تین دن بعد موت ہو گئی۔\n\n* * *\n\n**شام 5 بج کر 15 منٹ: امریکی، اسرائیلی اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران**\n\nتہران میں ایک بینک کی عمارت پر حملے کے بعد ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل سے منسلک اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائے گا۔\n\nنیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، تہران میں ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینکوں میں سے ایک اور فوج سے تاریخی روابط رکھنے والے بینک سپاہ سے منسلک ایک انتظامی عمارت کو راتوں رات نشانہ بنایا گیا۔\n\nایران کے سرکاری میڈیا نے تہران کے خاتم الانبیا ملٹری کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’اپنی ناکام مہم کے بعد، دہشت گرد امریکی فوج اور ظالم صہیونی حکومت (اسرائیل) نے ملک کے ایک بینک کو نشانہ بنایا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ اس ناجائز اور غیر معمولی اقدام سے دشمن ہمارے ہاتھ خطے میں امریکہ اور صیہونی حکومت سے منسلک اقتصادی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنانے پر مجبور کر رہا ہے۔\n\nترجمان نے علاقے کے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ بینکوں سے 1000 میٹر دور رہیں۔\n\n* * *\n\n**شام 4 بجے: ایران سے روسی جوہری کارپوریشن ’روس اٹوم‘ کے عملے کا انخلا جاری، 450 اہلکار تاحال موجود**\n\nروس کی سرکاری جوہری کارپوریشن روس اٹوم امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے باعث ایران سے اپنے عملے کا انخلا جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم کمپنی کے سربراہ کے مطابق اس کے تقریباً 450 اہلکار اب بھی بوشہر جوہری بجلی گھر میں موجود ہیں۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس اٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے بدھ کو کہا کہ مزید 150 ملازمین رات کو بوشہر سے روانہ ہوئے، ہمسایہ ملک آرمینیا کی سرحد عبور کی اور اب روس کی جانب جا رہے ہیں۔\n\nبوشہر، جسے روس نے تعمیر کیا تھا، ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر ہے۔ روس اٹوم وہاں مزید دو یونٹس بھی تعمیر کر رہا ہے، تاہم لیخاچیف نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ تعمیراتی کام روک دیا گیا ہے۔\n\nپیر کے روز انہوں نے کہا کہ بوشہر کے اردگرد صورت حال بدستور کشیدہ ہے، لیکن نہ تو بجلی گھر اور نہ ہی تعمیراتی مقام پر کوئی حملہ ہوا ہے۔\n\n* * *\n\n**سہ پہر 3 بجے: آبنائے ہرمز میں حملے کا نشانہ بننے والے جہاز کے عملے کے تین ارکان لاپتہ: تھائی لینڈ**\n\nتھائی لینڈ کی وزارت ٹرانسپورٹ نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بننے والے ایک تھائی جہاز کے عملے کے 20 ارکان کو بچا لیا گیا ہے، تاہم تین اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت نے بتایا کہ عملے نے لائف بوٹ کے ذریعے جہاز چھوڑ دیا تھا اور انہیں عمانی بحریہ نے بچا لیا۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ جہاز کے پچھلے حصے میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں انجن کے حصے میں آگ لگ گئی، جہاں باقی تین عملے کے ارکان کام کر رہے تھے۔\n\n* * *\n\n**دوپہر 2 بج کر 30 منٹ: ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ خطرناک رجحان: وزیراعظم اٹلی**\n\nاٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ پر اب تک کی اپنی سب سے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مداخلتوں کے اس بڑھتے ہوئے اور خطرناک رجحان کا حصہ قرار دیا جو ’بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار سے باہر‘ ہیں۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پارلیمان میں ان کے یہ ریمارکس اس کے بعد سامنے آئے جب اپوزیشن نے بار بار الزام لگایا کہ ان کی دائیں بازو کی حکومت اپنے اتحادیوں کے معاملے میں حد سے زیادہ نرم رویہ اختیار کر رہی ہے۔\n\nسپین کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا ہے اور زیادہ تر صرف تحمل کی اپیل کی ہے۔\n\nڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی میلونی نے یہ بھی کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ اس سے عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کا خاتمہ ہو جائے گا جس کے ’عالمی سلامتی پر سنگین اثرات‘ پڑیں گے اور اٹلی و یورپ کو تہران کی جانب سے ممکنہ جوہری خطرے کے سامنے لا کھڑا کریں گے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**دوپہر 1 بج کر 47 منٹ: ایران کا تیل کے انفراسٹرکچر پر دباؤ برقرار، عالمی توانائی بحران کے خدشات میں اضافہ**\n\nایران اور اسرائیل نے بدھ کی صبح ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جبکہ ایران نے خطے کی تیل کی صنعت پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔\n\nان تازہ حملوں اور ایرانی دباؤ کے باعث عالمی توانائی بحران کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک پروجیکٹائل کنٹینر بردار جہاز سے ٹکرایا جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔\n\nدوسری جانب کویت نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے آٹھ ڈرونز مار گرائے، جبکہ سعودی عرب نے بتایا کہ اس نے بھی آئل فیلڈ کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔\n\nادھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کو جی سی سی کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد پر ووٹنگ ہونا تھی جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے عرب ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرے۔\n\nاسرائیل نے بھی اعلان کیا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ منگل کو ہونے والے متعدد حملوں کو رہائشیوں نے جنگ کے دوران اب تک کے شدید ترین حملوں میں شمار کیا گیا ہے۔\n\nاسی دوران بیروت اور جنوبی لبنان میں اسرائیل نے نئی فضائی بمباری بھی شروع کر دی ہے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**دوپہر ایک بج کر 30 منٹ: مشرق وسطیٰ میں بینک اور مالیاتی ادارے اب ہدف ہیں، ایران فوجی کمان**\n\nایران کی مشترکہ فوجی کمان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بینک اور مالیاتی ادارے اب ممکنہ اہداف ہیں۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان اہداف کی نشاندہی کی ہے۔\n\nیہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تہران میں ایک بینک کے عملے کے افراد اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں مارے گئے۔\n\nاس دھمکی کے بعد متحدہ عرب امارات خاص طور پر دبئی خطرے میں آ سکتا ہے، جہاں متعدد بین الاقوامی مالیاتی ادارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور خلیج میں واقع جزیرہ نما مملکت بحرین بھی ممکنہ طور پر خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔\n\n* * *\n\n**دوپہر ایک بج کر 20 منٹ: دبئی ایئر پورٹ کے قریب ڈرون حملے میں 4 زخمی، پروازیں بدستور جاری**\n\nدبئی میں حکام نے کہا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دو ایرانی ڈرونز سے حملہ کیا گیا جس میں چار افراد زخمی ہوئے تاہم حکام کے مطابق پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔\n\nدبئی میڈیا آفس، جو شہر کی حکومت کی جانب سے بیانات جاری کرتا ہے، نے کہا کہ اس حملے سے گھانا کے دو اور بنگلہ دیش اور انڈیا کے ایک شہری کو زخم آئے۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت جاری رہی۔\n\nدبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو طویل فاصلے کی ایئرلائن ایمریٹس کا مرکز ہے، بین الاقوامی مسافروں کے لحاظ سے دنیا کا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے۔ حکام اس کی پروازوں کے شیڈول کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ جنگ کے دوران اس ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔\n\n* * *\n\n**دن 11 بج کر 30 منٹ: ایران نیوی کے 84 اہلکاروں کی میتیں سفارت خانے کے حوالے کی جائیں: عدالتی حکم**\n\nسری لنکا کے مقامی میڈیا نے بدھ کو خبر دی کہ ملک کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ گذشتہ ہفتے جزیرہ نما ملک کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز پر حملے میں مارے جانے والے 84 اہلکاروں کی لاشیں ایران کے سفارت خانے کے حوالے کی جائیں۔\n\nرپورٹس کے مطابق ایرانی جنگی جہاز کو بحرِ ہند میں ایک امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ جہاز انڈیا میں منعقدہ بحری مشقوں میں شرکت کے بعد واپس آ رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔\n\n* * *\n\n**صبح 9 بج کر 30 منٹ: اب تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے: پینٹاگان**\n\nامریکی محکمہ دفاع، پینٹاگان، نے کہا ہے کہ تقریباً 140 امریکی فوجی اہلکار ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں۔\n\nپینٹاگون کے ترجمان سین پارنیل نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ’ان میں سے زیادہ تر زخمی معمولی نوعیت کے ہیں، اور 108 سروس ممبرز پہلے ہی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’آٹھ فوجی اہلکار شدید زخمی قرار دیے گئے ہیں اور انہیں اعلیٰ ترین سطح کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔‘\n\nامریکی فوج کے مطابق، جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایرانی حملوں میں سات امریکی فوجی بھی مارے گیئ جن میں سے چھ کویت اور ایک سعودی عرب میں مارا گیا۔\n\nامریکی اور اسرائیلی افواج نے 28 فروری کو ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی حملوں کی مہم شروع کی، جس کے جواب میں ایران نے خطے کے ان ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے یا افواج موجود ہیں۔\n\nپینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگ سیتھنے منگل کو کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے مزید شدت اختیار کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول ایران کی طرف سے فائر کیے جانے والے ڈرونز اور میزائلوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔\n\n> \n>\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**صبح 9 بج کر 20 منٹ: متحدہ عرب امارات میں بحری جہاز کو نقصان**\n\nبرطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بدھ کو بتایا ہے کہ اسے متحدہ عرب امارات میں ایک بحری جہاز کو ’نامعلوم میزائل‘ سے نقصان پہنچا ہے۔‘\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ اسے متحدہ عرب امارات میں راس الخيمه کے شمال مغرب میں تقریباً 25 ناٹیکل میل (46 کلومیٹر) فاصلے پر ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی۔\n\nان کا کہنا ہے کہ وہاں موجود ایک بحری جہاز کے کپتان نے بتایا کہ جہاز کو ایک مشتبہ مگر نامعلوم پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا ہے۔\n\nبیان کے مطابق اس نقصان کی نوعیت فی الحال واضح نہیں ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔\n\n* * *\n\n**صبح 09 بجے: سعودی عرب میں آئل فیلڈ کی طرف جانے والے سات ڈرونز تباہ**\n\nسعودی عرب کی وزارت دفاع نے بدھ کی صبح بتایا ہے کہ اس نے ملک کے جنوب مشرق میں واقع ایک آئل فیلڈ کی طرف جانے والے سات ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔\n\nوزارت دفاع نے ایکس پر اپنے سلسلہ وار بیان میں بتایا کہ ’الشیبۃ آئل فیلڈ کی طرف آنے والے دو ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘\n\n> المتحدث الرسمي لـ #وزارة_الدفاع: اعتراض وتدمير مسيّرتين في الربع الخالي متجهة إلى حقل شيبة. pic.twitter.com/7YlfD8L1N6\n\n> — وزارة الدفاع (@modgovksa) March 11, 2026\n\nبیان کے مطابق مزید پانچ ڈرونز کو بھی الگ الگ کارروائیوں میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ آئل فیلڈ متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے سعودی عرب کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو چلاتی ہے، جو مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔\n\nیہ آئل فیلڈ مملکت کی وسیع تیل پیداوار کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔\n\nایشیا\n\nسعودی عرب\n\nایران\n\nتہران میں ایک بینک کی عمارت پر حملے کے بعد ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل سے منسلک اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائے گا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 11, 2026 - 16:15\n\nMain image:\n\n> <p>تہران میں21 فروری 2026 کو ایران کے ملی بینک کے اے ٹی ایم سے ایک شخص رقم نکالتے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nایران کے لڑکیوں کے سکول پر حملہ کس نے کیا؟ نئی تفصیلات\n\nایرانی خاتون فٹ بال کھلاڑی کا آسٹریلیا سے وطن واپسی کا فیصلہ\n\nتوانائی کی تنصیبات پر حملے خطرناک روایت ہے: قطر\n\nلائیو: ایران سے حملے قابلِ قبول اور قابل جواز نہیں: سعودی وزارت خارجہ\n\nSEO Title:\n\nامریکی، اسرائیلی اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائیں گے: ایران\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکی، اسرائیلی اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائیں گے: ایران"
}