{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidzfniky7pcjmtlfqhtamf72roz2vy3lwmrmwdbnjzkrers2zin6m",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgsv2epeppa2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidsmz74yiqmia45cjv4m3ctrbqzd3hgfbzvm4ymtey2houcrgaumi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 87166
  },
  "path": "/node/185011",
  "publishedAt": "2026-03-11T11:41:33.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "https://t.co/UUWajGw8NL",
    "March 11, 2026",
    "پاکستان",
    "سعودی عرب",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video",
    "@business"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کو بتایا کہ خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر پاکستان ’چاہے کچھ بھی ہو‘ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔**\n\nمشرف زیدی نے بلومبرگ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد جب بھی ضرورت پڑے گی ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔\n\nگذشتہ سال ستمبر میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے سے دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو مزید تقویت ملی ہے۔\n\n> Pakistan will come to the “aid” of Saudi Arabia whenever needed, while the South Asian country makes efforts to ensure stability in the Middle East, Prime Minister’s spokesperson says https://t.co/UUWajGw8NL\n>\n> — Bloomberg (@business) March 11, 2026\n\nسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے میں اعلان کیا گیا کہ ’کسی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔‘\n\nمشرف زیدی نے کہا کہ ’اس میں کوئی سوال نہیں ہے کہ ہم سعودی عرب کی مدد کے لیے آئیں گے، چاہے کچھ بھی ہو اور کب بھی ہو۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے سے پہلے بھی دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے اصول پر کام کیا ہے۔\n\nپاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 17 ستمبر، 2025 کو سعودی ولی عہد سے ملاقات کے لیے قصر الیمامہ پہنچے (ایس پی اے)\n\n\n\n\nمشرف زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس تنازعے کو پورے خطے میں مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی طور پر بھی کام کر رہا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے کہ معاملات ایسے نہ پہنچیں جہاں اس کا کوئی قریبی ساتھی مزید تنازعات میں الجھ جائے جو ممکنہ طور پر خطے میں استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘\n\nیہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران نے ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خلیجی ریاستوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ ایک ایسا تنازع ہے جس نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو اونچا کردیا ہے اور وسیع تر علاقائی کشیدگی کا خدشہ پیدا کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمشرف زیدی نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے تیل اور ڈیزل کی سپلائی کو سپورٹ کرنے کے انتظامات کیے ہیں کیونکہ اس بحران نے ایندھن کی عالمی قیمتوں کو بلند کر دیا ہے، جو درآمدات پر منحصر جنوبی ایشیا کی معیشت کے لیے ایک چیلنج ہے۔\n\n**افغانستان**\n\nافغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا کابل کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے۔\n\nاپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ پاکستان کا تنازع افغانستان میں طالبان رجیم کے ساتھ ہے، جو طالبان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور مدد فراہم کر رہی ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’یہ طالبان دہشت گرد پاکستان میں سکول کے بچوں، مسجدوں کو جانے والوں، پاکستان کی خواتین خانہ، ماؤں اور بچوں، فوجیوں اور پولیس والوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔‘\n\nپاکستانی وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک طالبان رجیم اور طالبان دہشت گردوں کے درمیان واضح طور پر تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘\n\nپاکستان\n\nسعودی عرب\n\nمشرف زیدی نے بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد جب بھی ضرورت پڑے گی ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 11, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p>17 ستمبر، 2025 کی اس تصویر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد سعودی ولی عہد اور وزیردفاع پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ہمراہ دیکھے جا سکتے ہیں(پرائم منسٹر آفس)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nIGRc1reQ\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدہ: تاریخی سٹریٹجک اتحاد\n\nسعودی عرب پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟\n\nپاکستان سعودی عرب معاہدہ، تاریخ کا نیا باب\n\nپاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ خطے میں استحکام کا ضامن\n\nSEO Title:\n\nجب بھی ضرورت پڑی پاکستان سعودی عرب کی ’مدد‘ کے لیے آئے گا: ترجمان شہباز شریف\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "جب بھی ضرورت پڑی پاکستان سعودی عرب کی ’مدد‘ کے لیے آئے گا: ترجمان شہباز شریف"
}