{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibsrr2vzs33p7mmqe3kbdrtcdzevomekpsbvv3ughsawu5frn67fe",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgsv27xouvy2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidpcxb6y6pqix2tvo2fpic2zss6yfnfxa7lvkwm3343ex7rrcmeqm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 47329
  },
  "path": "/node/185013",
  "publishedAt": "2026-03-11T15:41:07.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "آئی ای اے",
    "تیل کا بحران",
    "تیل",
    "آبنائے ہرمز",
    "مشرق وسطیٰ",
    "جنگ",
    "پیٹرولیم مصنوعات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**بین الاقوامی توانائی ایجنسی (انٹر نیشنل انرجی ایجنسی یاآئی ای اے) کے رکن ممالک نے بدھ کو متفقہ طور پر اپنے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل مارکیٹ میں دستیاب کرنے پر اتفاق کیا تاکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ سے پیدا ہونے والی تیل کی منڈیوں میں رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔**\n\nآئی ای اے، جس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت 32 ملک شامل ہیں، ترقی یافتہ، تیل استعمال کرنے والے ممالک کو توانائی کے تحفظ اور پائیداری کے بارے میں مشورہ دیتی ہے۔\n\nپیرس میں قائم بین الحکومتی ایجنسی کی ویب سائٹ پر موجود ایک بیان کے مطابق: ہنگامی اجتماعی کارروائی کا فیصلہ گذشتہ روز آئی ای اے رکن حکومتوں کے ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد کیا گیا، جسے آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے درمیان مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لینے اور سپلائی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے اختیارات پر غور کرنے کے لیے بلایا تھا۔\n\nآئی ای اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ ’ہم تیل کی منڈی کے جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں وہ بڑے پیمانے پر بے مثال ہیں، اس لیے مجھے بہت خوشی ہے کہ آئی ای اے کے ممبر ممالک نے بے مثال سائز کی ہنگامی اجتماعی کارروائی کے ساتھ جواب دیا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ہنگامی سٹاک مارکیٹ میں ایک مقررہ مدت میں دستیاب کیے جائیں گے جو ہر رکن ملک کے قومی حالات کے لیے موزوں ہوں گے اور کچھ ممالک کی جانب سے اضافی ہنگامی اقدامات کے ذریعے اس کی تکمیل کی جائے گی۔\n\nبیان میں بتایا گیا کہ آئی ای اے کے اراکین کے پاس 1.2 ارب بیرل سے زیادہ کا ہنگامی ذخیرہ ہے، جس میں مزید 60 کروڑ بیرل صنعتی سٹاک حکومتی ذمہ داری کے تحت رکھے گئے ہیں۔ مربوط سٹاک ریلیز آئی ای اے کی تاریخ میں چھٹا ہے، جو 1974 میں بنایا گیا تھا۔ پچھلی اجتماعی کارروائیاں 1991، 2005، 2011 اور 2022 میں دو بار کی گئی تھیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازعہ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی آمد میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے، اس وقت خام اور صاف شدہ مصنوعات کی برآمدات تنازعات سے پہلے کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم ہیں۔\n\nیہ پورے خطے کے آپریٹرز کو پیداوار کی کافی مقدار کو بند کرنے یا کم کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔\n\n2025 میں اوسطاً دو کروڑ بیرل یومیہ خام تیل اور تیل کی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں، یا دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا تقریباً 25 فیصد۔ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے تیل کے بہاؤ کے اختیارات محدود ہیں۔\n\nبیان میں بتایا گیا کہ آئی ای اے سیکرٹریٹ مزید تفصیلات فراہم کرے گا کہ اس اجتماعی کارروائی کو مقررہ وقت پر کیسے نافذ کیا جائے گا۔ یہ تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں کی بھی کڑی نگرانی کرتا رہے گا اور ضرورت کے مطابق رکن حکومتوں کو سفارشات فراہم کرتا رہے گا۔\n\nبین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) پیرس میں قائم ایک خودمختار بین الحکومتی تنظیم ہے جو 1974 میں قابل اعتماد، سستی اور صاف توانائی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ ایجنسی اصل میں تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کو منظم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اب یہ رکن ممالک کو توانائی کی حفاظت، اقتصادی ترقی اور عالمی صاف توانائی کی منتقلی کے بارے میں مشورہ دیتی ہے۔\n\nتیل کا بحران\n\nتیل\n\nآبنائے ہرمز\n\nمشرق وسطیٰ\n\nجنگ\n\nپیٹرولیم مصنوعات\n\nآئی ای اے، جس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت 32 ملک شامل ہیں، ترقی یافتہ، تیل استعمال کرنے والے ممالک کو توانائی کے تحفظ اور پائیداری کے بارے میں مشورہ دیتی ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مارچ 11, 2026 - 20:30\n\nMain image:\n\n> <p>11 مارچ 2026 کو لی گئی اور رائل تھائی نیوی کی جانب سے جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں آبنائے ہرمز کے قریب تھائی بلک کیرئیر 'میوری ناری' سے ایک حملے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستانی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟\n\nمصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش: دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟\n\nآبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟\n\nSEO Title:\n\nآبنائے ہرمز بندش: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آبنائے ہرمز بندش: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری"
}