{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiavneg37efprgjltcoukdhf5jj3c4awmjfkytnbefzd2ep4qx3thu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgq5veys7lb2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifbz6u57m2x7zwe44crst2bzr7xiz3rg54ifichrpzxaxw26yn5xe"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 87989
  },
  "path": "/node/184991",
  "publishedAt": "2026-03-10T07:11:31.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/h3GZLl5sCn",
    "March 10, 2026",
    "پاکستان",
    "اقوام متحدہ",
    "انڈیا",
    "افغانستان",
    "سلامتی کونسل",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "news",
    "@PakistanUN_NY"
  ],
  "textContent": "**اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورت حال پر بحث میں پاکستان اور انڈیا کی جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ انڈیا افغان سرزمین سے پاکستان میں ’دہشت گردی‘ کو ہوا دینے کی پالیسی ترک کرے۔**\n\nاجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب پرواتھانینی ہریش نے کہا کہ ان کے ملک کو افغانستان پر سرحدپار پاکستان سے کی جانے والی کارروائیوں میں شہری اموات پر گہری تشویش ہے اور انہوں نے اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔\n\nجس کے جواب میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کی جائز انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں افغانستان کے برادر عوام کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف افغانستان کی سرزمین سے ’جنم لینے والے دہشت گردی‘ کے مسلسل خطرے کو ختم کرنا ہے۔\n\n’ہماری کارروائیاں حقِ دفاع اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مکمل مطابق ہیں۔‘\n\n> Further Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,\n>  Permanent Representative of Pakistan to the UN,\n>  In Response to Remarks of Representatives of India and Afghanistan\n>  At the UNSC Meeting on the Situation in Afghanistan\n>  (9th March 2026)\n>  ************\n>\n>  Thank you Madam President,… pic.twitter.com/h3GZLl5sCn\n>\n> — Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) March 10, 2026\n\nعاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کے خلاف انڈیا کی دشمنی اور اس کی افغان پالیسی کا واحد مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے، جس میں افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ’دہشت گرد‘ گروہوں جیسے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کی سرپرستی اور حمایت شامل ہے۔ اس تناظر میں انڈین نمائندے کے بیانات کسی طور حیران کن نہیں۔\n\n’خصوصاً انڈیا کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دینے کی اپنی پالیسی ترک کرے، جو اب (افغان) طالبان حکومت کے ساتھ اپنے نئے تعلقات کے ذریعے جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘\n\nپاکستانی مندوب نے کہا کہ انڈیا کے نمائندے نے افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، شہری اموات اور سرحدی جھڑپوں کا ذکر کیا، لیکن افغانستان سے پیدا ہونے والے ’دہشت گردی‘ کے خطرے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا جو پاکستان کو نشانہ بناتا رہا ہے اور جسے کئی سلامتی کونسل کے ارکان نے اپنے بیانات میں اجاگر کیا۔ اس کی وجہ واضح ہے: ’اس تمام صورت حال میں انڈیا کی شمولیت‘۔\n\n’ہم نے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ انڈیا کی ملی بھگت کے ناقابلِ تردید شواہد فراہم کیے ہیں، جو پاکستان کے خلاف پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان کے مندوب نے مزید کہا کہ انڈیا طویل عرصے سے یہ خطرناک کھیل کھیلتا آیا ہے، لیکن ہم ’افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف اس کی تخریب کاری اور سازشوں کو پاکستان کو نقصان پہنچانے یا کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں 26 فروری کو اس وقت شروع ہوئیں جب افغان فورسز نے سرحد کے قریب پاکستانی فوجی تنصیبات پر اچانک حملہ کیا۔\n\nافغانستان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے فروری میں افغانستان کے اندر مبینہ عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔\n\nسرحد پر حملوں کے بعد پاکستان نے آپریشن ’غضب للحق‘ شروع کیا تھا جس میں پاکستانی حکام کے مطابق اب تک کی کارروائیوں میں 580 سے زائد افغان طالبان مارے گئے جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے۔\n\nپاکستانی حکومت کے مطابق اب تک کی کارروائی میں افغان فورسز کے زیر استعمال 213 ٹینک و بکتر بند گاڑیاں تباہ اور افغانستان میں 64 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔\n\nپاکستان\n\nاقوام متحدہ\n\nانڈیا\n\nافغانستان\n\nسلامتی کونسل\n\nعاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کے خلاف انڈیا کی دشمنی اور اس کی افغان پالیسی کا واحد مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مارچ 10, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے نو مارچ کو سلامتی کونسل میں پاکستانی موقف پیش کیا (@PakistanUN_NY)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبین الاقوامی قوانین کے احترام میں کمی آئی ہے: اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب\n\nپاکستان اور افغانستان میں جھڑپیں جاری، ’583 افغان طالبان مارے گئے‘\n\nافغان طالبان ترجمان جھوٹے بیانات پر بے نقاب: پاکستان\n\nامریکہ، ایران اور اسرائیل کے تصادم میں انڈیا کہاں کھڑا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nانڈیا افغانستان سے پاکستان میں ’دہشت گردی‘ کو ہوا دینے کی پالیسی ترک کرے: پاکستانی مندوب\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پاکستان، انڈیا کی سلامتی کونسل میں افغانستان پر تکرار"
}