{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidxt2uwevqv2l5wa6mwfojnsjeyn5ztxthyra5ieyskhojjdp2mda",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgq5usppjfx2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigcc5zehjvzbyplwvqhgswgrdejxtjqcjl5alwk5ruq3onqc3wlp4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 41844
},
"path": "/node/184996",
"publishedAt": "2026-03-10T11:55:43.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"Statement",
"pic.twitter.com/BRMBXh",
"March 10, 2026",
"pic.twitter.com/OSAvGrQjzZ",
"قطر",
"یو اے ای",
"کردستان",
"عراق",
"ایران اسرائیل کشیدگی",
"جنگ",
"ڈرون حملہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"video",
"@KSAmofaEN",
"@MofaQatar_EN"
],
"textContent": "**قطر اور سعودی عرب نے عراقی کردستان میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے پر حملے کی منگل کو شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔**\n\nسعودی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سفارتی عمارتوں کو بار بار نشانہ بنانا واضح طور پر متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جن میں چوتھا جنیوا کنونشن 1949 بھی شامل ہے۔\n\n> #Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s condemnation in the strongest terms of the targeting of the Consulate General of the United Arab Emirates in Iraqi Kurdistan. pic.twitter.com/BRMBXh\n\n> — Foreign Ministry (@KSAmofaEN) March 10, 2026\n\nبیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سفارتی مشنز کی عمارتوں کے تقدس اور ان کے تحفظ کا احترام کیا جانا نہایت ضروری ہے۔\n\nوزارتِ خارجہ نے اس موقع پر برادر ملک متحدہ عرب امارات کے ساتھ مملکتِ سعودی عرب کی یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔\n\nدوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کو سوشل میڈیا پلٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ عراقی کردستان میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے اور یہ سفارتی مشنز اور ان کے دفاتر کے تحفظ سے متعلق تمام بین الاقوامی ضابطوں اور معاہدوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔\n\n> Statement | Qatar Strongly Condemns Attack Targeting UAE Consulate-General in Iraqi Kurdistan\n>\n> Doha | March 10 2026\n>\n> The State of Qatar expresses its strong condemnation and denunciation of an attack that targeted the UAE’s Consulate General in Iraqi Kurdistan, deeming it a… pic.twitter.com/OSAvGrQjzZ\n\n> — Ministry of Foreign Affairs - Qatar (@MofaQatar_EN) March 10, 2026\n\nقطری وزارت خارجہ نے بیان میں مزید کہا کہ سفارتی مشنز اور ان کے دفاتر کو نشانہ بنانا ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ ایک خطرناک کشیدگی کو جنم دیتا ہے جو سفارتی عملے کی سلامتی اور تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ سفارتی مشنز اور ان کے دفاتر پر حملے سفارتی کام سے متعلق عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ قطر ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کے ان اقدامات کو مسترد کرتا ہے جو سفارتی مشنز کو نشانہ بناتے ہیں یا امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔\n\nقطر کی وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قطر عراق اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔\n\nقبل ازیں منگل کو متحدہ عرب امارت کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر عراق کے کردستان علاقے میں اماراتی قونصل خانے پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق نامعلوم عناصر کی جانب سے کیے گئے اس بلااشتعال دہشت گرد ڈرون حملے میں قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔\n\nوزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارتی مشنز اور عمارتوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت سفارتی عمارتوں کے تقدس اور سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطرناک کشیدگی کو جنم دیتی ہیں اور خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔\n\nمتحدہ عرب امارات نے عراق کی وفاقی حکومت اور حکومتِ کردستان ریجن عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ حملے کے حالات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔\n\nوزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی اس نوعیت کی کارروائیوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق سفارتی مشنز، ان کی عمارتوں اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔\n\nقطر\n\nیو اے ای\n\nکردستان\n\nعراق\n\nایران اسرائیل کشیدگی\n\nجنگ\n\nڈرون حملہ\n\nسعودی عرب اور قطری وزارتِ خارجہ نے قونصل خانے کو نشانہ بنانا سفارتی مشنز کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ضابطوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مارچ 10, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>عراق کے شہر اربیل میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے پر ڈرون حملے کے بعد دھواں اور شعلے بلند ہوتے ہوئے، عراقی کردستان کی انسدادِ دہشت گردی سروس کے مطابق نو مارچ 2026 کو اربیل میں تین ڈرون مار گرائے گئے جن میں سے ایک کا ملبہ اماراتی قونصل خانے کے قریب گرا، تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی (سکرین گریب / روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\njw id:\n\nzEjXoSaG\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nایران کا کردستان میں اسرائیلی ’جاسوس ہیڈکوارٹرز‘ پر حملے کا دفاع\n\nورلڈ کپ: ایران کے خلاف امریکی فتح پر ایرانی کردستان میں آتش بازی\n\nاستنبول دھماکے کی ذمہ دار کردستان ورکرز پارٹی ہے: ترک وزیر داخلہ\n\nSEO Title:\n\nعراقی کردستان میں اماراتی قونصل خانے پر حملہ، سعودی عرب اور قطر کی شدید مذمت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "عراقی کردستان میں اماراتی قونصل خانے پر حملہ، سعودی عرب اور قطر کی شدید مذمت"
}