{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidvhvvvjhjphyis646z2xwiaiglit4asclb5muqod3e32xzcnwzvu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mglck3cd2j42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidjsvs4lu7kmw2iwfzphorncatny42k2sc5ok36a2q456ctumerf4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 115796
  },
  "path": "/node/184973",
  "publishedAt": "2026-03-08T13:48:32.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "عورت مارچ",
    "گرفتاریاں",
    "پولیس",
    "رمنا سعید",
    "خواتین",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے اتوار کو خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر عورت مارچ نہ ہونے دیا اور درجنوں مرد اور خواتین سماجی کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔**\n\nسکیورٹی حکام کی جاری کردہ فہرست، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق اب تک 27 مردوں اور 34 خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم رکن سحرش قریشی بھی حراست میں لیے جانے والوں میں شامل ہیں۔ زیر حراست افراد کی تعداد یا مستقبل کی قانونی کارروائی کے بارے میں پولیس نے تاحال کچھ نہیں بتایا۔\n\nڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کو بتایا کہ عورت مارچ کے منتتظمین کے پاس نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ (این او سی) نہیں تھا اور شہر میں امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔\n\n\n\n\nمتعدد خواتین کو شہر کے سیکٹر ایف-6 کی سپر مارکیٹ کے قریب سے حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین بعد میں پریس کلب کے باہر پہنچے لیکن وہاں پولیس کی بڑی نفری نے انہیں حراست میں لے کر جی سیون خواتین پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔\n\nموقعے پر موجود پولیس اہلکاروں کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے عورت مارچ کو اجازت نامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اجتماع کو غیر قانونی قرار دیا۔\n\nعورت مارچ اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں ڈاکٹر فرزانہ باری اور دیگر خواتین کو پولیس گاڑی میں بیٹھا دکھایا گیا۔\n\nتنظیم نے گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ شرکا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مزید گرفتاریوں سے بچنے کے لیے گھروں کو واپس جائیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرواں سال عورت مارچ کا موضوع ’فیمینسٹ آئین‘ تھا۔\n\nعورت مارچ 2018 سے ملک بھر میں عالمی یوم خواتین پر ہر سال منعقد ہو رہا ہے اور خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور سماجی انصاف کے لیے احتجاج کا علامتی مظاہرہ سمجھا جاتا ہے۔\n\nانسانی حقوق کی کارکن نشاط مریم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’گذشتہ چند برسوں سے ریاستی کریک ڈاؤن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کو بھی استعمال نہیں کرنے دیا جا رہا۔\n\n’ہر سال عورت مارچ کے موقعے پر ریاستی دباؤ دیکھنے میں آتا ہے، مگر اس سال تو تمام حدیں پار کر دی گئیں۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اس سال ورلڈ اکنامک فورم کے صنفی مساوات کے عالمی اشاریے میں پاکستان کا آخری نمبر بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یہاں خواتین کو کن مسائل کا سامنا ہے۔‘\n\nعورت مارچ کی منتظم رکن بریا شاہ نے کہا ’پاکستان میں عورت مارچ کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم ہمیشہ پرامن احتجاج کرتے آئے ہیں۔ ہمارے شرکا کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘\n\nعورت مارچ\n\nگرفتاریاں\n\nپولیس\n\nپولیس کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے عورت مارچ کو اجازت نامہ جاری کرنے سے انکار کیا تھا اور اجتماع کو غیر قانونی قرار دیا۔ دریں اثنا انڈیپنڈنٹ اردو کی ٹیم کو بھی پولیس نے موقع پر ریکارڈنگ سے روک دیا۔\n\nرمنا سعید\n\nاتوار, مارچ 8, 2026 - 18:45\n\nMain image:\n\n> <p>آٹھ مارچ، 2026 کو اسلام آباد میں سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار عورت مارچ کی کارکنوں کو ریلی سے قبل حراست میں لے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nخواتین\n\njw id:\n\nag2GkkHp\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد عورت مارچ: انسانی حقوق، انصاف اور ماحولیاتی مسائل پر مطالبات\n\nتشدد کا خاتمہ، صحت، تعلیم پر توجہ: عورت مارچ کے 60 مطالبات\n\nعورت مارچ کو میڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے\n\nعورت مارچ کے کئی شہروں میں افغانوں کے حق میں مظاہرے\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد: عورت مارچ پر پولیس کا کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "اسلام آباد: عورت مارچ پر پولیس کا کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتار"
}