{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreierhgkfx2lk5meutflq35opibaoe3umearbbfn3c4vaej4kmzwmfa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mghqjs624sr2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiehgrkggbc7vhe2vneorszrmzgouapenx5milc5fohkye55yzu7nm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 117378
},
"path": "/node/184954",
"publishedAt": "2026-03-07T07:11:56.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سوشل میڈیا",
"سوشل میڈیا مہم",
"انڈیا",
"پابندی",
"فیس بک",
"وشوام سنکرن",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**انڈیا کی شمالی ریاست کرناٹک میں جہاں بنگلورو کا ٹیکنالوجی مرکز واقع ہے، 16 سال سے عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔**\n\nاس طرح وہ کم عمر افراد کے ڈیجیٹل استعمال پر زیادہ سخت نگرانی کے عالمی مطالبات میں شامل ہونے والی انڈیا کی پہلی ریاست بن جائے گی۔\n\nبچوں میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی لت اور بغیر کسی مؤثر پابندی کے انٹرنیٹ تک رسائی کے باعث پیدا ہونے والے خدشات نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی ہے، جس کے بعد دسمبر میں آسٹریلیا بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا۔\n\nانڈونیشیا نے بھی جمعے کو اعلان کیا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرے گا اور اس طرح وہ ان تازہ ترین ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جو انٹرنیٹ کی لت کے خطرات کم کرنے کے لیے حفاظتی پابندیاں لگا رہے ہیں۔\n\nبرطانیہ، ڈنمارک اور یونان بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، جب کہ اسی نوعیت کی سوچ انڈیا کے دوسرے حصوں میں بھی ابھر رہی ہے۔ انڈیا دنیا کی سوشل میڈیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔\n\nکرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے، جو صرف ایک ہی نام استعمال کرتے ہیں، جمعے کو اپنے سالانہ بجٹ خطاب میں کہا ’بچوں پر موبائل کے بڑھتے ہوئے استعمال کے منفی اثرات کو روکنے کے مقصد سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی جائے گی۔‘\n\nانہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندی کب سے نافذ ہو گی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ریاستی حکومت ’سوشل میڈیا‘ کی تعریف کس طرح کرتی ہے اور بچوں کے استعمال کے لیے کن ایپس کو محدود کرنا چاہتی ہے۔\n\nیہ بھی واضح نہیں کہ ریاست اس پابندی پر عمل درآمد کیسے کرائے گی۔\n\nانڈیا میں ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (آئی ایف ایف) نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک غیر متناسب ردعمل ہو سکتی ہے، جو ’فائدے سے زیادہ نقصان‘ پہنچا سکتی ہے۔\n\nاعلان کے بعد ایکس پر اپنی پوسٹ میں آئی ایف ایف نے لکھا ’ایسی پابندیاں اکثر ان بنیادی وجوہات سے نمٹنے میں ناکام رہتی ہیں، جیسے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن کے وہ طریقے جو تحفظ کے بجائے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مصروف رکھنے پر زور دیتے ہیں، ناکافی ڈیٹا تحفظ کے ڈھانچے اور ڈیجیٹل آگاہی کے کمزور نظام جبکہ یہ بچوں کے معلومات، اظہار اور شرکت کے حق کو بھی محدود کرتی ہیں۔‘\n\nاس تنظیم نے کہا کہ بچوں پر سوشل میڈیا کی مکمل پابندی ’صنفی بنیاد پر اخراج‘ کا بھی سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔\n\nآئی ایف ایف نے کہا ’انڈیا کے تناظر میں، جہاں لڑکیوں اور کم عمر خواتین کو پہلے ہی ڈیجیٹل رسائی میں نمایاں رکاوٹوں کا سامنا ہے، وہاں ’تحفظ‘ کے نام پر لگائی گئی پابندی آسانی سے انہیں مکمل طور پر رابطے سے محروم کرنے کا ایک اور ذریعہ بن سکتی ہے۔‘\n\nآسٹریلیا میں سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد موناش یونیورسٹی میں قانون کی پروفیسر پاؤلا گربر نے بھی یہ تشویش ظاہر کی تھی کہ محروم پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوعمر ایک ایسے اہم ذریعے سے کٹ سکتے ہیں جو ذہنی صحت کی مدد، کمیونٹی سازی اور شناخت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔\n\nانڈیا دنیا کی دوسری سب سے بڑی سمارٹ فون منڈی ہے، جہاں 75 کروڑ ڈیوائسز اور 100 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمیٹا کے لیے یہ ملک اس کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں فیس بک، انسٹاگرام اور وٹس ایپ پر دنیا میں سب سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔\n\nانڈیا کی وفاقی وزارت صحت کے 2019 سے 2020 کے دوران کرائے گئے سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق کرناٹک کی آبادی کا ایک چوتھائی سے بھی کم حصہ 15 سال سے کم عمر کا ہے۔\n\nوفاقی حکومت کے تھنک ٹینک نیتی آیوگ کی 2025 کی ایک پریزنٹیشن کے مطابق اس ریاست کی آبادی چھ کروڑ 76 لاکھ ہے۔\n\nبنگلورو، جسے اکثر انڈیا کی سلیکون ویلی کہا جاتا ہے، مائیکروسافٹ، ایمزون، آئی بی ایم، ڈیل اور گوگل جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مرکز ہے۔\n\nکرناٹک کی ہمسایہ ریاست گوا بھی ایسی ہی پابندی پر غور کر رہی ہے، اس کے آئی ٹی وزیر نے جنوری میں یہ بات کہی تھی جبکہ اسی مہینے آندھرا پردیش کے ایک رکن اسمبلی نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا محدود کرنے کا بل پیش کیا تھا۔\n\nانڈیا کے چیف اکنامک ایڈوائزر نے جنوری میں کہا تھا کہ ’ڈیجیٹل لت‘ سے نمٹنے کے لیے دہلی کو عمر کی بنیاد پر رسائی کی حد مقرر کرنے سے متعلق پالیسیاں بنانی چاہییں، جسے وسیع حمایت ملی۔\n\nتاہم بعض کارکنوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے ایسے اقدامات پر زور دیا ہے جن سے بچوں اور والدین کو سوشل میڈیا کے صحت مند اور محفوظ استعمال کی عادت ڈالنے میں مدد ملے، کیوں کہ ان کے مطابق عمر کی بنیاد پر لگائی جانے والی پابندیاں مؤثر نہیں ہوتیں، اس لیے کہ بچے جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے انہیں عبور کر سکتے ہیں۔\n\nسوشل میڈیا\n\nسوشل میڈیا مہم\n\nانڈیا\n\nپابندی\n\nفیس بک\n\nکرناٹک ایسی پابندی لگانے والی انڈیا کی پہلی ریاست بن جائے گی۔\n\nوشوام سنکرن\n\nہفتہ, مارچ 7, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p>19 مئی، 2020 کو انڈیا کے شہر سکندر آباد میں بس ٹرمنل پر بچے موبائل فون دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nدنیا کے کن ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہے؟\n\nفرانس: 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور\n\nکیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے جان بوجھ کو بچوں کو اپنا عادی بنایا؟\n\n’دوسروں کو نصیحت‘: سوشل میڈیا سے روکنے والے خود بھی وہیں سرگرم\n\nSEO Title:\n\nانڈین ریاست میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/tech/india-social-media-ban-children-teens-karnataka-b2933189.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "انڈین ریاست میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اعلان"
}