{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifayx6vb77q74ia6bpyaodlssjrutnnffdp5mva2whivmxozbqvpq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mghqjen3ne32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreich2b7i6ajwm6bibnrft5bapt2nd6tjdgh4gmhd4jcvgpjffpo3aa"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 292741
  },
  "path": "/node/184957",
  "publishedAt": "2026-03-07T10:36:51.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "دہشت گردی",
    "پنجاب",
    "خیبر پختونخوا",
    "ڈرون",
    "ٹیکنالوجی",
    "ارشد چوہدری",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے دہشت گردی اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کے طور پر انسداد ڈرون یونٹس قائم کر دیے ہیں۔**\n\nیہ یونٹس پولیس کی نگرانی میں کام کریں گے جبکہ حکمت عملی میں تمام سکیورٹی اداروں کی مشاورت شامل ہو گی۔\n\nپنجاب کے محکمہ داخلہ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں انسداد ڈرون یونٹس قائم کیے جائیں گے، جن کی منظوری گذشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دی تھی۔\n\nوزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ صرف دہشت گردی کے واقعات کے بعد کارروائی کرنے کی بجائے، حکام کو پہلے سے حفاظتی اقدامات کرنے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔\n\nپاکستانی حکام کے مطابق انڈیا اور افغانستان منظم دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\nاس کے پیشِ نظر نہ صرف سرحدوں بلکہ شہری علاقوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔\n\nڈائریکٹر تعلقات عامہ محکمہ داخلہ پنجاب توصیف صبیح گوندل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ’ملکی تاریخ میں پہلی بار پنجاب کے تمام اضلاع میں اینٹی ڈرون یونٹ قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ یونٹس سپیشل ڈرون فلیٹس کی مدد سے ضلع کی فضائی نگرانی کریں گے۔‘\n\nان کے بقول ’ہر ضلع کے ڈی پی او کی سربراہی میں اینٹی ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون سسٹم قائم کیے جائیں گے۔ اینٹی ڈرون سسٹم جیمرز کی مدد سے دشمن اور شرپسند عناصر کے ڈرونز کو ناکارہ بنائے گا۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا ’فضائی نگرانی سے عوامی حفاظت اور امن و امان میں بہتری آئے گی۔ پنجاب میں ڈرون یا کواڈ کاپٹر اُڑانے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔‘\n\nدوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے جاری اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں اینٹی ڈرون سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں۔\n\nصوبے کے مختلف اضلاع، خاص طور پر پشاور، بنوں، لکی مروت، ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں اینٹی ڈرون گنز اور سسٹمز نصب کیے گئے ہیں۔\n\nیہ سسٹمز غیر مجاز ڈرونز کو ڈیٹیکٹ، ٹریک اور نیوٹرلائز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔\n\nخیبر پختونخوا پولیس نے ملک میں پہلا مکمل ان مینڈ ایئرل وہیکل ڈویژن قائم کیا ہے جو ڈرون اور انسداد ڈرون ٹیکنالوجی دونوں کو کور کرتا ہے۔\n\nاس میں سرویلنس ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، جیمنگ ڈیوائسز اور گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشنز شامل ہیں۔ یہ سسٹم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرے گا اور گرائے گئے ڈرونز کا فرانزک بھی کرے گا۔\n\n**یہ نظام کیسے کام کرے گا؟**\n\nتوصیف صبیح کے مطابق ’تمام اضلاع کے اہلکار پر مشتمل اینٹی ڈرون یونٹس سپیشل ڈرون فلیٹس کی مدد سے ضلع کی فضائی نگرانی کریں گے۔\n\n’ہر ضلعے میں انسداد ڈرون سسٹم بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ فوری کارروائی ممکن ہو۔‘\n\nان کے بقول یہ سسٹمز جیمرز کی مدد سے دشمن اور شرپسند عناصر کے ڈرونز کو ناکارہ بنائیں گے۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ہر ضلعے کی ضرورت کے مطابق سرویلنس ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹم فراہم کیے جائیں گے جس سے فضائی نگرانی سے عوامی حفاظت اور قیام امن و امان میں اضافہ ہوگا۔\n\nپنجاب بھر میں آؤٹ ڈور ڈرون اُڑانے پر دفعہ 144 نافذ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلیجنس ادارے اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسابق آئی جی پنجاب چوہدری محمد یعقوب نے کہا موجودہ حالات میں جدید ٹیکنالوجی وقت کا تقاضا ہے۔\n\n’پہلے سیف سٹی اتھارٹی نے جرائم پر قابو پانے میں مدد دی لیکن اب جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔\n\n’شہری علاقوں میں مجرموں اور انتہا پسندی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی ضروری ہے۔‘\n\n**اینٹی ڈرون یونٹس کتنے موثر ہوں گے؟**\n\nچوہدری یعقوب کے مطابق پاکستان بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سکیورٹی تھریٹ میں اضافہ ہوا ہے، جس کی نگرانی ایک بڑا چیلنج ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر سکیورٹی ادارے موثر نہیں رہ سکتے۔ دشمن جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اینٹی ڈرون یونٹس شہری علاقوں میں بھی موثر سرویلنس یقینی بنائیں گے۔\n\nترجمان محکمہ داخلہ کے بقول ’پنجاب اور سندھ پولیس نے کچے علاقوں میں بھی کواڈ کاپٹرز کے ذریعے کارروائی کی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ نئے یونٹس کسی بھی ڈرون کو مار گرنے یا جیمرز کے ذریعے ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔\n\n’منشیات کی سمگلنگ یا معلومات جمع کرنے کے لیے اڑنے والے ڈرون بھی اب محفوظ نہیں رہیں گے۔‘\n\nپاکستان\n\nدہشت گردی\n\nپنجاب\n\nخیبر پختونخوا\n\nڈرون\n\nٹیکنالوجی\n\nپنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے دہشت گردی اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کے طور پر انسداد ڈرون یونٹس قائم کر دیے ہیں۔\n\nارشد چوہدری\n\nہفتہ, مارچ 7, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p>16  جون 2025 کو شمالی فرانس میں پولیس انسانی سمگلروں کی نگرانی کے لیے ڈرون استعمال کر رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغانستان سے مختلف شہروں پر ڈرون حملے ناکام: پاکستان\n\nڈی آئی خان آپریشن، کرک ڈرون حملہ: چار شدت پسند، 3 اہلکار مارے گئے\n\nخیبر پختونخوا 2025: دہشت گردی کے 1588 واقعات، 54 ڈرون حملے، پولیس\n\nنوشکی میں عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے: حکام\n\nSEO Title:\n\nپنجاب اور خیبر پختونخوا میں اینٹی ڈرون یونٹ کیسے کام کریں گے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اینٹی ڈرون یونٹ کیسے کام کریں گے؟"
}