{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiha3evwes3eol4i7zdvoaipubsz6rmdyihjanylxb2s5iabt5cxmm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mghcmkpg62u2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreianh5essbbof37ule362sa4ai7u4ta2wktjda75xv3pjvterntjti"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 144846
},
"path": "/node/184953",
"publishedAt": "2026-03-07T06:45:12.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان فوج",
"بلوچستان",
"فوجی کارروائی",
"عسکریت پسند",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پاکستانی فوج نے ہفتے کو بتایا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے دو مختلف آپریشنز میں ’انڈین حمایت یافتہ‘ 15 عسکریت پسند مارے گئے۔**\n\nحالیہ دنوں میں دارالحکومت اسلام آباد سمیت صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شدت پسندی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں اور سکیورٹی فورسز ان واقعات میں ملوث عناصر کی سرکوبی کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔\n\nفوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ ضلع ہرنائی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا گیا، جس کے دوران سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ’انڈیا کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے‘ 12 عسکریت پسند مارے گئے۔\n\n’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nفوج کے بیان کے مطابق ایک اور انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن ضلع بسیمہ میں کیا گیا، جہاں سکیورٹی فورسز نے ’فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں‘ کی موجودگی کا سراغ لگا کر انہیں مختلف ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین عسکریت پسند مارے گئے۔\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا، جو دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ ’علاقے میں مزید کسی بھی انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔‘\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق: ’سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن عزم استحکام کے تحت غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘\n\nپاکستان فوج\n\nبلوچستان\n\nفوجی کارروائی\n\nعسکریت پسند\n\nپاکستان فوج کے مطابق کہ ضلع ہرنائی اور بسیمہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے الگ الگ آپریشنز میں ’انڈین حمایت یافتہ‘ 15 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مارچ 7, 2026 - 11:45\n\nMain image:\n\n> <p>بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں 30 ستمبر 2025 کو سیکورٹی اہلکار ایک فوجی گاڑی کے پاس ہتھیار کے ساتھ کھڑے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبلوچستان کے ضلع ژوب میں 10 عسکریت پسند مارے گئے: پاکستان فوج\n\nخیبرپختونخوا، بلوچستان میں 34 عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\nبلوچستان میں آپریشن مکمل، 216 عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\nبلوچستان: طاقت کے ساتھ سیاسی عمل کی ضرورت\n\nSEO Title:\n\nبلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 15 عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 15عسکریت پسند مارے گئے: فوج"
}